نیشنل اسپورٹس پالیسی 2026: خواب، دعوے اور زمینی حقیقت
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں بعد نئی نیشنل اسپورٹس پالیسی لانا بظاہر خوش آئند قدم ہے۔ کاغذ پر یہ پالیسی جدید، پرکشش اور بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ نظر آتی ہےلیکن اصل سوال وہی ہے جو ہر پالیسی کے ساتھ اٹھتا ہے کیا یہ صرف ایک اور دستاویز ہوگی یا واقعی کھیلوں کے نظام کو بدل دے گی؟
سب سے پہلے فیڈریشنز اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو "مکمل خودمختاری" دینے کی بات کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح سننے میں بہت اچھی لگتی ہے، مگر پاکستان کے حالات میں اس کے کئی سوالات ہیں دنیا بھر میں کھیلوں کی فیڈریشنز کو حکومتی مداخلت سے بچایا جاتا ہے تاکہ سیاستدان اور بیوروکریٹس کھیلوں پر قبضہ نہ کریں۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں کئی فیڈریشنز پہلے ہی برسوں سے چند افراد کے قبضے میں ہیں۔ بعض عہدیدار دہائیوں سے اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ انتخابات پر اعتراضات ہوتے ہیں، صوبائی ایسوسی ایشنز شکایات کرتی ہیں اور شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔
ایسے میں اگر حکومت مکمل طور پر ہاتھ اٹھا لے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ احتساب کون کرے گا؟اگر کوئی فیڈریشن پانچ سال میں ایک بھی بین الاقوامی کامیابی نہ دے تو اس سے جواب کون مانگے گا؟ اگر گراس روٹ سطح پر کوئی سرگرمی نہ ہو تو کارروائی کون کرے گا؟ اگر فنڈز کا غلط استعمال ہو تو نگرانی کس کے پاس ہوگی؟ لہٰذا خودمختاری اچھی چیز ہے، لیکن بغیر مو¿ثر نگرانی کے خودمختاری اکثر طاقتور گروہوں کے لیے مستقل اجارہ داری بن جاتی ہے۔
سب سے اہم سوال جو کہ کرنے کا ہے کہ فیڈریشن کو چلانے کیلئے پیسہ کہاں سے آئے گا پالیسی میں خودمختاری کا ذکر تو موجود ہے، لیکن مالیاتی ماڈل واضح نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی بیشتر فیڈریشنز اپنی آمدن خود پیدا نہیں کرتیں۔ کرکٹ کو چھوڑ دیں تو بیشتر کھیلوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاسبمضبوط اسپانسرز نہیں براڈکاسٹنگ رائٹس نہیں ٹکٹوں سے آمدن نہیں تجارتی مارکیٹ نہیں ان حالات میں اگر حکومت فنڈنگ کم کر دے اور فیڈریشنز کو خودمختار بنا دے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اخراجات کون اٹھائے گا؟
ایک قومی چیمپئن شپ کروانے کے لیے لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی مقابلوں میں ٹیم بھیجنے کے لیے کروڑوں روپے لگتے ہیں۔ کوچنگ، تربیتی کیمپس، آلات، سفر، رہائش اور طبی سہولیات سب اخراجات مانگتی ہیں۔ اگر حکومت فنڈ نہ دے تو زیادہ تر فیڈریشنز چند ماہ میں مالی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔ دنیا میں خودمختار فیڈریشنز کے پاس مضبوط کاروباری ماڈل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر فیڈریشنز کا واحد کاروباری ماڈل یہ ہوتا ہے کہ سال کے آخر میں حکومت سے گرانٹ مل جائے۔ جب تک یہ بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا، خودمختاری کا نعرہ ادھورا رہے گا۔
نئی پالیسی میں تین ماہ بعد احتساب اچھا خیال ہے لیکن مشکل عمل ہے پالیسی میں ہر سہ ماہی کارکردگی جائزے کی بات کی گئی ہے۔ یہ تجویز درست ہے، لیکن یہاں بھی عملی مشکلات ہیں۔ کون جائزہ لے گا کون سے پیمانے استعمال ہوں گے؟ کیا صرف میڈلز دیکھے جائیں گے یا گراس روٹ سرگرمیاں بھی؟ کیا چھوٹے کھیلوں کو بھی وہی معیار دیا جائے گا جو ہاکی یاایتھلیٹکس کو؟ پاکستان میں اکثر آڈٹ اور جائزے فائلوں تک محدود رہ جاتے ہیں
اگر نگرانی صرف کاغذی رپورٹوں کی بنیاد پر ہوگی تو پھر وہی ہوگا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ فائلوں میں سینکڑوں کھلاڑی ہوں گے، میدان میں چند درجن اسپورٹس سائنسز اور ڈیٹا اینالسز: اصل ضرورت ہے پالیسی کا سب سے مضبوط حصہ شاید یہی ہے۔ جدید دنیا میں صرف ٹیلنٹ کافی نہیں۔ آج اولمپک سطح کے کھلاڑیوں کے پیچھے پورا سائنسی نظام کام کرتا ہے۔ نیوٹریشن ماہرین اسپورٹس سائنسدان بائیو مکینکس ماہرین اسپورٹس سائیکالوجسٹ فزیوتھراپسٹ پاکستان میں ابھی بھی کئی قومی کھلاڑی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں۔
ارشد ندیم کی کامیابی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ موجود ہے، لیکن نظام کمزور ہے۔ اگر حکومت واقعی اسپورٹس سائنس پر سرمایہ کاری کرتی ہے تو یہ پالیسی کا سب سے انقلابی حصہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ای سپورٹس: کھیل یا گیمنگ؟ یہ وہ نکتہ ہے جس پر سب سے زیادہ بحث ہوگی۔ روایتی سوچ رکھنے والے افراد کا موقف ہے کہ کھیل وہ ہے جس میں جسمانی محنت ہو، پسینہ بہے، میدان ہو، دوڑ ہو، مقابلہ ہو۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو بستر یا کرسی پر بیٹھ کر ویڈیو گیم کھیلنا کھیل نہیں لگتا۔یہ اعتراض سمجھ میں آتا ہے۔
لیکن دوسری طرف دنیا کا رجحان مختلف ہے۔ آج ای سپورٹس ایک اربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہے۔ بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں لاکھوں ڈالر کے انعامات دیے جاتے ہیں۔ پیشہ ور کھلاڑی روزانہ کئی گھنٹے تربیت کرتے ہیں۔ ردعمل کی رفتار، فیصلہ سازی، حکمت عملی اور ذہنی دباو¿ برداشت کرنے کی صلاحیت اس میدان میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ای سپورٹس کھیل ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت روایتی کھیلوں کا بجٹ کم کرکے ای سپورٹس پر خرچ کرے گی؟ اگر جواب ہاں ہے تو یہ مسئلہ ہوگا۔ اگر جواب نہیں ہے اور ای سپورٹس الگ شعبے کے طور پر ترقی پاتا ہے تو اس میں معاشی مواقع موجود ہیں۔
15 سے 20 اولمپک میڈلز حقیقت یا خواب؟ شاید پوری پالیسی کا سب سے حیران کن دعویٰ یہی ہے۔ پاکستان کی اولمپک تاریخ دیکھ لیجیے۔ آج تک پاکستان کی مجموعی اولمپک کامیابیاں انتہائی محدود رہی ہیں۔ایک ارشد ندیم پیدا ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ ملک میں ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں کھیل کا میدان تک موجود نہیں۔کئی اضلاع میں کوچ نہیں۔کئی کھیلوں کے قومی کیمپ غیر فعال ہیں۔
خواتین کے کھیلوں کی حالت الگ مسئلہ ہے۔ایسے میں 15 سے 20 اولمپک میڈلز کا ہدف حقیقت سے زیادہ سیاسی نعرہ محسوس ہوتا ہے۔ پہلا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان مستقل بنیادوں پر اولمپکس میں فائنلز تک پہنچنے والے کھلاڑی پیدا کرے۔ پھر چند کھیلوں میں میڈل کے دعویدار بنائے جائیں۔ براہ راست 15 یا 20 میڈلز کی بات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اصل مسئلہ پالیسی نہیں، نفاذ ہےپاکستان میں مسئلہ پالیسیوں کی کمی نہیں۔ تعلیم کی پالیسیاں موجود ہیں۔ صحت کی پالیسیاں موجود ہیں۔ کھیلوں کی پالیسیاں بھی پہلے موجود رہی ہیں۔
مسئلہ ہمیشہ نفاذ کا رہا ہے۔ اگر یہی بیورو کریسی، یہی سیاسی مداخلت، یہی سفارشی نظام اور یہی غیر فعال فیڈریشنز برقرار رہیں تو بہترین پالیسی بھی فائلوں میں دفن ہو جائے گی۔ اگر واقعی تبدیلی لانی ہے تو فیڈریشنز کے انتخابات شفاف ہوں۔ فنڈنگ نتائج سے مشروط ہو۔ گراس روٹ پروگرام لازمی ہوں۔ تمام اخراجات عوامی سطح پر شائع ہوں۔ ضلعی سطح پر کھیلوں کا نظام فعال کیا جائے۔اسکول اور کالج کھیلوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
نیشنل اسپورٹس پالیسی 2026 میں کئی مثبت نکات موجود ہیں، خاص طور پر اسپورٹس سائنس، ڈیٹا اینالسز اور کارکردگی کی نگرانی کے حوالے سے۔ تاہم سب سے بڑے سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں۔ان کی مالی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی؟ احتساب کون کرے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ پالیسی کاغذ سے نکل کر میدان تک پہنچ پائے گی؟ جب تک ان سوالات کے عملی جواب نہیں دیے جاتے، تب تک یہ پالیسی ایک پرکشش خواب تو ہو سکتی ہے، لیکن کامیاب کھیلوں کا نظام نہیں۔
|