کھیلوں کے نظام میں دوہرا معیار: ایک صوبے میں اوپن رسائی، دوسرے میں پابندیاں اور ابہام
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان وسائل کے استعمال، رسائی اور پالیسی کے نفاذ میں واضح تضاد ہے۔ ایک طرف پنجاب میں کھیلوں کی سہولیات کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کے لیے اوپن ایکسیس ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں گراو¿نڈز اور اسپورٹس کمپلیکس کو طویل اوقات، حتیٰ کہ 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی بات کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں کھلاڑیوں، خصوصاً خواتین، کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹوں اور غیر واضح پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ تضاد صرف انتظامی نہیں بلکہ اسپورٹس گورننس کے پورے ڈھانچے پر سوال اٹھاتا ہے۔
پنجاب میں حالیہ پالیسی مباحثے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کھیلوں کے میدان اور کمپلیکس صرف دفتری اوقات تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں کھلاڑیوں کی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے۔ اس کی وجہ ایک سادہ حقیقت ہے: پاکستان میں اربوں روپے کی لاگت سے بننے والے کئی اسپورٹس کمپلیکس اکثر غیر فعال رہتے ہیں یا محدود اوقات میں استعمال ہوتے ہیں۔ اوپن ایکسیس ماڈل کا مقصد یہی ہے کہ کھلاڑی، طلبہ اور نوجوان اپنے وقت کے مطابق ٹریننگ کر سکیں۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو دن میں تعلیم یا ملازمت کے باعث شام یا رات کے اوقات میں ہی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ تاہم یہ ماڈل صرف دروازے کھول دینے کا نام نہیں۔ اس کے لیے سیکیورٹی، دیکھ بھال، انتظامی نگرانی اور واضح قواعد و ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بصورت دیگر سہولیات کے غلط استعمال اور بدانتظامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی دوران چارسدہ کے عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس میں خواتین والی بال کھلاڑیوں سے متعلق ایک واقعہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا جس نے بحث کو مزید شدت دے دی۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک اہلکار کو خواتین کھلاڑیوں کو کمپلیکس میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ واقعہ مکمل طور پر آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے، تاہم کھلاڑیوں کے بیانات نے صورتحال کو سنگین سوالات کی طرف دھکیل دیا ہے۔کھلاڑیوں کا مو¿قف ہے کہ وہ ضلعی اور صوبائی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا چکی ہیں، مگر انہیں بنیادی سہولیات کے بجائے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے والی بال کورٹ کی مرمت، کھیلوں کے سامان اور کوچ کی تعیناتی کے لیے درخواست دی تھی، مگر ان کے مطابق ان شکایات کو نظر انداز کیا گیا۔
مزید یہ کہ ان کا دعویٰ ہے کہ خواتین کھیلوں کی سرگرمیوں، ٹورنامنٹس اور باقاعدہ ٹریننگ پروگراموں کا فقدان ہے، جس کے باعث ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔یہ مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑے نظامی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ کاغذی سطح پر تمام صوبائی اسپورٹس محکمے نوجوانوں کی ترقی، خواتین کی شمولیت اور کھیلوں کے فروغ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے:
سہولیات تک محدود اور غیر یقینی رسائی، گراو¿نڈز کی خراب حالت اور مرمت کا فقدان، خواتین کھیلوں کے لیے مستقل پروگراموں کی کمی، فیصلوں کا مرکز فیلڈ کے بجائے دفاتر، کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے درمیان کمزور رابطہ یہ بنیادی عناصر ہے اور یہ فرق جتنا بڑھتا ہے، اتنا ہی نظام پر اعتماد کم ہوتا ہے۔پاکستان میں خواتین کھلاڑی ہمیشہ اس نظامی عدم توازن کا زیادہ شکار رہی ہیں۔ اگرچہ پالیسی سطح پر شمولیت کی بات کی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر انہیں کئی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ چارسدہ کے کیس میں کھلاڑیوں کے الزامات تین بنیادی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں
کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی خستہ حالی ،باقاعدہ ٹریننگ اور ایونٹس کا فقدان، کمپلیکس تک رسائی میں غیر یقینی صورتحال، یہ مسائل صرف فنڈنگ کا معاملہ نہیں بلکہ ترجیحات اور انتظامی رویے کا مسئلہ ہیں۔اس بحث کا ایک اور اہم پہلو احتساب اور شکایات کے ازالے کا نظام ہے۔ اکثر کھلاڑیوں کے مطابق ان کی شکایات کو باضابطہ طور پر ریکارڈ یا حل نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً وہ میڈیا یا سوشل پلیٹ فارمز کا رخ کرتے ہیں۔دوسری طرف انتظامیہ اکثر خاموشی اختیار کرتی ہے یا الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اس خلا کے باعث تنازعات حل ہونے کے بجائے مزید بڑھتے ہیں۔
یہ بحث پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مقابلے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ پورے ملک میں کھیلوں کے نظام کے ڈیزائن کا ہے۔ایک مو¿ثر نظام کے لیے ضروری ہے،،کھلاڑیوں کے لیے واضح اور مستقل رسائی کا نظام، سہولیات کے استعمال کا شفاف شیڈول، خواتین اور نوجوانوں کے لیے باقاعدہ پروگرام، فیلڈ لیول پر جوابدہی، مو¿ثر شکایتی اور فیڈبیک میکانزم جب یہ عناصر موجود نہ ہوں تو اچھی عمارتیں بھی غیر مو¿ثر ہو جاتی ہیں۔کھیلوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ رسائی اور مواقع جغرافیے یا مقامی انتظامی مزاج کے تابع نہ ہوں۔ ایک ملک میں اوپن رسائی اور دوسرے میں پابندیوں کا تاثر نظامی انصاف پر سوال اٹھاتا ہے۔
اصل نقصان مالی نہیں بلکہ انسانی ہے۔ ٹیلنٹ ضائع ہوتا ہے، کھلاڑی حوصلہ کھوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر پاکستان واقعی کھیلوں کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اسے سہولیات نہیں بلکہ نظام کو یکساں اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔
#PakistanSports #SportsGovernance #WomenInSports #KPKSports #PunjabSports #SportsPolicy #AthleteRights #SportsInfrastructure #YouthSports #EqualityInSports
|