نیشنل جونیئر چیمپئن شپ: رنگا رنگ افتتاح کے پیچھے سوالات کا بڑھتا ہوا شور

پشاور میں نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کا آغاز ایک شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا۔ سرکاری سطح پر اسے خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم دینے کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہزار سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت، مختلف صوبوں اور ادارہ جاتی ٹیموں کی موجودگی اور بڑے پیمانے پر انتظامات بلاشبہ ایک قومی ایونٹ کی جھلک دیتے ہیں۔ لیکن اسی چمک دمک کے ساتھ کچھ ایسے سوالات بھی ابھر رہے ہیں جو اس ایونٹ اور اس سے جڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی اصل حقیقت کو زیر بحث لا رہے ہیں۔یہ رپورٹ صرف افتتاحی تقریب کی تعریف نہیں بلکہ ان پہلووں کا جائزہ بھی ہے جن پر خاموشی اختیار کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر اطلاعات اور مشیر برائے کھیل نے باضابطہ طور پر چیمپئن شپ کا آغاز کیا۔ مارچ پاسٹ، آتش بازی اور مختلف ٹیموں کی شرکت نے ایک منظم اور بڑے ایونٹ کا تاثر دیا۔ حکومتی نمائندوں نے اس موقع پر کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی شمولیت اور مساوی مواقع کی بات کی۔تقریری سطح پر جو وڑن پیش کیا گیا وہ واضح ہے: کھیلوں کو نوجوانوں کی ترقی، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کے لیے استعمال کرنا۔ لیکن عملی سطح پر سوال یہ ہے کہ کیا یہی وڑن انفراسٹرکچر، معیار اور نگرانی میں بھی نظر آ رہا ہے؟

افتتاحی تقریب کے دوران ہی ایک اور بحث نے جنم لیا۔ ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق حال ہی میں مکمل ہونے والے ایتھلیٹکس ٹریک اور اس سے منسلک لائٹنگ سسٹم میں تکنیکی خرابیاں سامنے آئیں۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تقریب کے دوران مختلف مقامات پر متعدد لائٹس اچانک بند ہو گئیں یا ان میں خرابی پیدا ہو گئی۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب لائٹنگ سسٹم کو محدود وقت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک نیا اور مبینہ طور پر جدید سسٹم ابتدائی استعمال میں ہی مسائل دکھا رہا ہے تو اس کی طویل المدتی کارکردگی پر کیا اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس منصوبے کی خریداری اور تنصیب کے اخراجات کے حوالے سے پہلے ہی غیر رسمی تحفظات موجود ہیں، تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی اس پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔یہ خاموشی خود ایک سوال ہے۔

پشاور اسپورٹس کمپلیکس کے مرکزی گراﺅنڈزکے حوالے سے بھی صورتحال مختلف نہیں۔ بظاہر اسے مکمل منصوبہ قرار دیا جا چکا ہے اور افتتاحی تختی بھی نصب ہے، مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ذرائع کے مطابق منصوبے میں شامل کچھ اہم حصے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔ سب سے اہم سوال جدید ڈیجیٹل اسکرین کی تنصیب کا ہے، جس پر مبینہ طور پر بھاری لاگت آنے کی توقع تھی۔ مگر موقع پر اسکرین موجود نہیں، اور پہلے سے نصب اسکرین بھی ہٹا دی گئی ہے۔یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: اگر منصوبہ مکمل نہیں ہوا تو اسے مکمل کیوں قرار دیا گیا؟یہ صرف ایک انتظامی نکتہ نہیں بلکہ عوامی فنڈز کے استعمال کی شفافیت سے جڑا ہوا سوال ہے۔

سب سے زیادہ حساس معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اور تصاویر گردش کرنے لگیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے بنائے گئے ایتھلیٹکس ٹریک کے ایک حصے میں پانی جمع ہو گیا۔ذرائع کے مطابق افتتاحی تقریب سے قبل مبینہ طور پر پانی نکالنے کی کوشش بھی دیکھی گئی۔ اگر یہ دعویٰ درست مان لیا جائے تو یہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم اور نگرانی کے پورے نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ کھیلوں کا ٹریک صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی انجینئرنگ میں باریک تکنیکی معیار شامل ہوتا ہے۔ پانی کا جمع ہونا بنیادی ڈرینیج یا میٹریل کے معیار پر سوال اٹھاتا ہے۔

اسی دوران ایک اور بحث نے جنم لیا کہ مختلف ادارہ جاتی ٹیموں کی شرکت کس معیار پر ہوئی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بعض بڑی ادارہ جاتی ٹیمیں یا تو موجود نہیں تھیں یا ان کی نمائندگی رسمی نوعیت کی تھی۔یہاں سوال انتظامی نہیں بلکہ اسپورٹس کلچر کا ہے۔ اگر قومی سطح کے ایونٹس میں شرکت صرف نمائش تک محدود ہو جائے تو اس کا اصل مقصد متاثر ہوتا ہے۔ یہ تمام واقعات الگ الگ نہیں بلکہ ایک بڑے پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک طرف بڑے بجٹ کے منصوبے، دوسری طرف ابتدائی استعمال میں تکنیکی مسائل، اور تیسری طرف نامکمل انفراسٹرکچر کے باوجود افتتاح۔ یہ تینوں چیزیں مل کر ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہیں: کیا مسئلہ منصوبہ بندی کا ہے یا عملدرآمد اور نگرانی کا؟ اگر منصوبے درست ہوں لیکن نگرانی کمزور ہو تو نتائج ہمیشہ ایسے ہی نکلتے ہیں۔

سب سے اہم پہلو شفافیت کا ہے۔ نہ لائٹنگ سسٹم پر واضح تکنیکی رپورٹ سامنے آئی، نہ ہی ٹریک منصوبے کی مکمل تفصیلات، اور نہ ہی ٹریک کے معیار پر کوئی باضابطہ تھرڈ پارٹی آڈٹ رپورٹ۔یہی خلا عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ جب سوالات بڑھیں اور جواب نہ ملیں تو افواہیں خود بخود جگہ لے لیتی ہیں۔ جشن کے ساتھ احتساب بھی ضروری ہے نیشنل جونیئر چیمپئن شپ ایک مثبت قدم ہے۔ نوجوانوں کو پلیٹ فارم دینا، مختلف علاقوں کو ایک جگہ لانا اور کھیلوں کو فروغ دینا ایک اہم ریاستی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انفراسٹرکچر کے معیار، اخراجات اور تکمیل کے عمل پر سوال اٹھانے کی گنجائش موجود رہے۔ اگر ترقی کا مطلب صرف افتتاحی تقاریب اور تصویریں ہوں، جبکہ زمینی حقیقت مختلف ہو، تو پھر یہ ترقی نہیں بلکہ ایک تشہیری ماڈل بن جاتا ہے۔ اصل امتحان ایونٹ کا نہیں، اس نظام کا ہے جو ایسے منصوبے بناتا اور چلاتا ہے۔

#NationalJuniorChampionship #PeshawarSportsComplex #AthleticsTrack #SportsInfrastructureKP #TransparencyMatters #YouthSportsPakistan #InvestigativeSportsReport


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1001 Articles with 777235 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More