خیبرپختونخوا اسپورٹس سسٹم کی خاموش ناکامی — پاکستان کے تیز ترین ایتھلیٹ سمیع اللہ کی مسلسل کامیابی اور مسلسل نظراندازی


خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے نظام پر اکثر ترقی، اصلاحات اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت ان دعووں سے مکمل طور پر مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ پاکستان کے تیز ترین مرد ایتھلیٹ سمیع اللہ کی کہانی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے، جہاں کارکردگی موجود ہے مگر اعتراف غائب ہے۔

سمیع اللہ 2015 سے ایتھلیٹکس کے میدان میں سرگرم ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں سے وہ مسلسل گولڈ میڈلز جیت رہے ہیں اور قومی سطح پر “ناقابلِ شکست” کارکردگی کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس پر کسی بھی صوبائی یا قومی اسپورٹس سسٹم کو فخر ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ایک کھلاڑی مسلسل جیت رہا ہو، ریکارڈ بنا رہا ہو، اور بین الاقوامی سطح پر فائنل تک پہنچ رہا ہو تو پھر اس کے نام کے ساتھ خاموشی کیوں جڑی ہوئی ہے؟

نیشنل جونیئر ایونٹ میں حالیہ صورتحال نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کیا، جہاں متعدد کھلاڑیوں کو ایوارڈز، شیلڈز اور نقد انعامات سے نوازا گیا، مگر سمیع اللہ کا نام اس فہرست میں شامل ہی نہیں تھا۔ یہ کوئی معمولی “چوک” نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت ہے جو کارکردگی کو پہچاننے کے بنیادی اصول سے ہی کمزور نظر آتا ہے۔یہ معاملہ صرف ایک ایوارڈ کی محرومی تک محدود نہیں۔ یہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے: کیا خیبرپختونخوا میں کھیلوں کا نظام حقیقی میرٹ پر چل رہا ہے یا اس میں معلوماتی، انتظامی اور ادارہ جاتی خلا موجود ہے جو ٹاپ پرفارمرز کو بھی غیر مرئی بنا دیتا ہے؟

سمیع اللہ کے مطابق وہ باقاعدگی سے پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں ٹریننگ کرتے ہیں۔ وہ خود کو ایک پروفیشنل ایتھلیٹ کے طور پر ڈسپلن میں رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت روزانہ کی بنیاد پر جاری رہتی ہے۔ لیکن جب وہی کھلاڑی اپنی ہی اسپورٹس اتھارٹی کے سامنے غیر معروف ہو جائے تو یہ صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی بن جاتی ہے۔ان کا یہ بیان کہ انہوں نے ڈی جی اسپورٹس سے ملاقات کی، اور انہیں بتایا گیا کہ “آپ کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں دی گئیں”، صورتحال کو مزید پیچیدہ اور تشویشناک بنا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھلاڑی موجود نہیں تھا، بلکہ یہ ہے کہ سسٹم کے اندر معلومات کے بہاو¿، ریکارڈنگ اور شناخت کا بنیادی ڈھانچہ ہی کمزور ہے۔

یہ ایک انتظامی خلا ہے جو بار بار سامنے آتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے اسپورٹس ڈھانچے میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ حقیقی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی یا تو نظرانداز ہو جاتے ہیں یا ان کی شناخت رسمی فائلوں تک محدود رہتی ہے۔ دوسری طرف بعض ایسے کھلاڑی یا افراد جن کے پاس مضبوط رابطے ہوں یا جو نظام کے قریب ہوں، زیادہ آسانی سے مواقع، انعامات اور نمائندگی حاصل کر لیتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف ایک کھلاڑی کی محرومی نہیں بلکہ ایک بڑے ادارہ جاتی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر ایک ایتھلیٹ جو مسلسل گولڈ میڈل جیت رہا ہے اور بین الاقوامی ایونٹس میں فائنل تک پہنچ رہا ہے، وہی محکمہ اس کی موجودگی سے لاعلم ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ڈیٹا کہاں جا رہا ہے؟ کھلاڑیوں کا ریکارڈ کس سطح پر محفوظ کیا جاتا ہے؟ اور انتخابی اور انعامی عمل کس بنیاد پر چل رہا ہے؟

یہ بھی غور طلب ہے کہ جب نوجوان کھلاڑی یہ دیکھتے ہیں کہ مسلسل کامیابی کے باوجود ان کی شناخت نہیں ہو رہی تو اس کا اثر براہ راست ان کی motivation پر پڑتا ہے۔ کھیل صرف جسمانی مقابلہ نہیں بلکہ نفسیاتی اعتماد کا بھی میدان ہے۔ جب ریاستی یا صوبائی سطح پر اعتراف نہ ملے تو نوجوان ٹیلنٹ یا تو مایوس ہو جاتا ہے یا پھر اسپورٹس سے دور ہونے لگتا ہے۔

سمیع اللہ کا کیس اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ کوئی ابتدائی یا غیر معروف کھلاڑی نہیں۔ وہ ایک ایسا ایتھلیٹ ہے جو تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھا رہا ہے۔ ان کا بین الاقوامی سطح پر چین میں بیچ گیمز میں فائنل تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں عالمی معیار کی صلاحیت موجود ہے۔ مگر اس کے باوجود مقامی سطح پر ان کی شناخت کا فقدان اسپورٹس پالیسی کے اندر ایک سنگین تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے پاس شاید کارکردگی کو track کرنے کا ایک مربوط، شفاف اور ڈیجیٹل نظام موجود نہیں یا پھر وہ موثر طریقے سے استعمال نہیں ہو رہا۔ اگر کسی کھلاڑی کی بین الاقوامی شرکت اور قومی میڈلز کا ریکارڈ موجود نہیں، تو یہ صرف ایک فرد کی غلطی نہیں بلکہ ادارے کی ساختی ناکامی ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملے کو صرف ایک جذباتی یا انفرادی شکایت کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ یہ ایک سسٹم چیک کا معاملہ ہے۔ اگر ایک سرفہرست ایتھلیٹ سسٹم سے باہر رہ سکتا ہے تو پھر نیچے سطح پر کتنے کھلاڑی اسی مسئلے کا شکار ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسپورٹس پالیسی میں واقعی merit-based recognition موجود ہے یا یہ صرف کاغذی دعویٰ ہے؟ اگر میرٹ موجود ہے تو پھر اس کا اطلاق کیوں نظر نہیں آ رہا؟ اور اگر نہیں ہے تو پھر اصلاحات کہاں ہیں؟یہ وقت ہے کہ خیبرپختونخوا اسپورٹس اتھارٹی اپنے ڈیٹا، ریکارڈ، اور ایوارڈ سسٹم کا آزادانہ audit کرے۔ کھلاڑیوں کی رجسٹریشن، ان کی کارکردگی کی tracking، اور انعامات کے معیار کو شفاف بنایا جائے۔ بصورت دیگر ایسے کیسز نہ صرف کھلاڑیوں کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ پورے صوبائی اسپورٹس ڈھانچے پر اعتماد کو کمزور کریں گے۔سمیع اللہ کی کہانی ایک فرد کی نہیں، یہ ایک نظام کی کہانی ہے جو اپنی بہترین صلاحیتوں کو پہچاننے میں ناکام ہو رہا ہے۔

#Samiullah #KP_Sports #PakistanAthletics #SportsSystemFailure #AthleteNeglect #TrackAndFieldPakistan #MeritSystem #SportsReform #GoldMedalist #JusticeForAthletes

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1002 Articles with 777371 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More