خیبر پختونخوا میں اسپورٹس MIS رجسٹریشن مہم: ڈیجیٹل اصلاحات یا انتظامی خامیوں کا نیا بحران؟ زمینی حقائق سوال اٹھانے لگے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ایک بار پھر بڑے دعووں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس بار فوکس کھلاڑیوں کی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (MIS) پر لازمی رجسٹریشن ہے، جس کے بغیر کسی بھی کھلاڑی کو ایونٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ CNIC یا فارم-B کو بنیادی شرط بنایا گیا ہے، ہر کھلاڑی کو منفرد رجسٹریشن نمبر دیا جائے گا، اور تمام مالی مراعات کو اسی ڈیجیٹل پروفائل سے منسلک کیا جائے گا۔
کاغذ پر یہ پورا ماڈل جدید گورننس، شفافیت اور ڈیٹا بیسڈ فیصلوں کی طرف ایک بڑا قدم دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب اس پالیسی کو زمینی حقیقت کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو تصویر بالکل مختلف ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اصلاحات کا نعرہ، انتظامی حقیقت سے ٹکرا کر کمزور ہو جاتا ہے۔
سب سے بنیادی مسئلہ انفراسٹرکچر کا ہے۔ MIS ایک ایسا سسٹم ہے جو مسلسل کنیکٹیویٹی، تربیت یافتہ عملے اور مستحکم ڈیجیٹل ماحول پر چلتا ہے۔ مگر خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع، خصوصاً ضم اضلاع اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی صورتحال غیر مستحکم ہے۔ بعض علاقوں میں ڈیجیٹل رسائی اس حد تک محدود ہے کہ روزمرہ فائلنگ بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں “ریئل ٹائم رجسٹریشن” کا تصور ایک انتظامی مفروضہ بن جاتا ہے، عملی حقیقت نہیں۔
اس پورے نظام میں ایک اور بڑا خلا کلب اور ایسوسی ایشن کی سطح پر بنیادی ڈیٹا کی عدم موجودگی ہے۔ کھلاڑی براہ راست ریاستی نظام سے شروع نہیں ہوتے، وہ کلبوں میں تربیت لیتے ہیں، ایسوسی ایشنز سے گزرتے ہیں اور پھر آگے بڑھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے کئی اضلاع میں کلب رجسٹریشن کا مکمل اور شفاف نظام موجود نہیں۔ ضم اضلاع میں صورتحال مزید غیر واضح ہے جہاں RTI درخواستیں ایک سال سے زیر التوا ہیں اور بنیادی سوالات جیسے کلبوں کی تعداد اور کھلاڑیوں کا ڈیٹا آج تک واضح نہیں ہو سکا۔
یہاں ایک بنیادی تضاد جنم لیتا ہے۔ ایک طرف ڈیجیٹل شفافیت اور MIS کا دعویٰ ہے، دوسری طرف بنیادی ڈیٹا ہی مکمل طور پر دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب بنیاد ہی غیر واضح ہو تو اس پر ڈیجیٹل عمارت کیسے کھڑی کی جائے گی؟
پالیسی میں RSOs اور DSOs پر بھاری ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں۔ ہر ضلع کے DSO کو نہ صرف کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کرنی ہے بلکہ ایونٹس، مالی ریکارڈ، ہفتہ وار رپورٹنگ اور مکمل ضلعی ڈیٹا بھی manage کرنا ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کی مثال ہے جہاں ایک فرد کو پورے ادارے کا متبادل بنا دیا گیا ہے۔ کئی اضلاع میں صورتحال یہ ہے کہ DSO کا عہدہ یا تو خالی ہے یا اسسٹنٹ لیول افسران کے پاس اضافی چارج کے طور پر ہے۔ ایسے میں MIS جیسے پیچیدہ سسٹم کی مکمل ذمہ داری ڈالنا عملی طور پر غیر حقیقی ہے۔
ریجنل سطح پر عدم توازن بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کچھ RSOs کے تحت چار سے پانچ اضلاع آتے ہیں جبکہ کچھ کے پاس صرف دو۔ جغرافیہ، آبادی، اور انتظامی صلاحیت ہر جگہ مختلف ہے، مگر پالیسی ایک جیسی سختی کے ساتھ نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ مساوات نہیں، انتظامی عدم توازن ہے۔
CNIC یا فارم-B کی شرط بھی بظاہر درست مگر عملی طور پر محدودیت پیدا کرنے والی شرط ہے۔ کم عمر کھلاڑی اکثر CNIC نہیں رکھتے، جبکہ فارم-B کے حصول میں وقت لگتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں نادرا تک رسائی بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی سسٹم سے باہر رہ سکتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو inclusion کے نام پر بنایا گیا ہو، وہی exclusion کا ذریعہ بن جائے تو اس کی سمت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
ایک اور اہم پہلو ادارہ جاتی ٹکراو کا ہے۔ اس وقت کھیلوں کا نظام پہلے ہی ایسوسی ایشنز، کلبوں اور مختلف غیر رسمی ڈھانچوں کے ذریعے چل رہا ہے۔ اب جب ریاستی MIS سسٹم اس میں براہ راست داخل ہو رہا ہے تو ایک parallel authority system وجود میں آ رہا ہے۔ اس کا نتیجہ واضح ہے: ادارہ جاتی کشمکش، اختیار کا تنازع اور کھلاڑی کی شناخت پر دوہری کنٹرول کی صورتحال۔
اصل مسئلہ صرف تکنیکی نہیں، بلکہ گورننس کا ہے۔ فیصلے اکثر دفاتر میں بیٹھ کر کیے جاتے ہیں جہاں فائلیں سب کچھ دکھاتی ہیں مگر میدان کی حقیقت غائب ہوتی ہے۔ کھیل ایک dynamic ecosystem ہے، مگر اسے static administrative model کے تحت چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی واضح ہے کہ اس پورے نظام میں اصل فوکس ڈیٹا کنٹرول پر ہے۔ جب ہر کھلاڑی کی شناخت، شرکت، مالی مراعات اور ریکارڈ ایک مرکزی سسٹم کے تحت آجائے گا تو طاقت کا مرکز بھی اسی ڈیٹا سسٹم میں منتقل ہو جائے گا۔ یہ تبدیلی بظاہر انتظامی ہے مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ کھیل performance-based کم اور system-compliance based زیادہ ہو سکتا ہے۔یک ماہ کی رعایتی مدت دی گئی ہے، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔ کیونکہ مسئلہ وقت کا نہیں، capacity اور infrastructure کا ہے۔ اگر نظام تیار نہیں تو ایک ماہ بھی اسے نہیں بدل سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ MIS رجسٹریشن کا تصور غلط نہیں، مگر اس کا implementation model زمینی حقیقت سے کٹا ہوا ہے۔ جب تک بنیادی ڈیٹا، کلب رجسٹریشن، انفراسٹرکچر، اور ضلعی استعداد کو درست نہیں کیا جاتا، یہ پورا نظام ایک انتظامی دباو¿ سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا یہ ڈیجیٹل اصلاحات واقعی کھیلوں کو مضبوط کریں گی یا صرف ایک ایسا نظام بنائیں گی جہاں کھیلنے سے پہلے سسٹم کو “match” کرنا ضروری ہوگا؟ابھی کے حالات دیکھ کر جواب واضح طور پر غیر یقینی ہے۔
#KPSports #MISRegistration #SportsReform #DigitalGovernance #KPPolicy #AthleteRights #SportsAdministration #Transparency #InvestigativeSports #PublicPolicy
|