“اسپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبرپختونخوا: تبادلے، واپسی اور وہ مشہور ٹرانسفر پالیسی جو صرف فائلوں میں زندہ ہے”

خیبرپختونخوا اسپورٹس ڈائریکٹریٹ میں اگر آپ کو لگتا ہے کہ تبادلہ ایک انتظامی عمل ہے تو آپ ابھی تک “سرکاری کامیڈی یونیورس” سے واقف نہیں۔ یہاں تبادلہ ایک ایسا “سیزنل ڈرامہ” ہے جس کا آغاز نوٹیفکیشن سے ہوتا ہے، درمیانی قسط اپروچ سے لکھی جاتی ہے اور فائنل قسط واپسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ اور ہاں، اختتام کبھی اختتام نہیں ہوتا، اگلا سیزن فوراً شروع ہو جاتا ہے۔چند ہفتے پہلے گریڈ 17 کے اہلکاروں کے تبادلے ہوئے۔ کاغذی دنیا میں یہ ایک “بڑا فیصلہ” تھا۔ دفاتر میں فائلیں چلیں، دستخط ہوئے، نوٹیفکیشن جاری ہوا، اور شاید کسی نے فائل کے نیچے لکھ بھی دیا ہوگا “بحکم اعلیٰ”۔ لیکن زمینی حقیقت میں یہ فیصلہ اتنا ہی مضبوط نکلا جتنا بارش میں کاغذ کی کشتی۔

پہلا مرحلہ بڑا دلچسپ تھا۔ کچھ اہلکاروں نے نیا دفتر دیکھ کر فوراً “طبیعت کی ناسازی” کا کارڈ نکال لیا۔ کسی کو اچانک چکر آنے لگے، کسی کو پرانا دفتر یاد آنے لگا، اور کسی کو شاید یہ احساس ہو گیا کہ نیا کمرہ “انرجی وائب” کے حساب سے مناسب نہیں۔ یوں تبادلہ ایک جذباتی مسئلہ بن گیا، انتظامی نہیں۔پھر دوسرا مرحلہ آیا جسے مقامی اصطلاح میں “درخواستی موسم” کہا جا سکتا ہے۔ کچھ اہلکاروں نے باقاعدہ درخواستیں لکھیں کہ ہمیں پرانے دفتر میں رہنے دیا جائے کیونکہ وہاں فائلیں ہمیں زیادہ سمجھ آتی ہیں، اور نئے دفتر میں فائلیں ہمیں گھورتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ دلیل بعض جگہوں پر کافی مضبوط بھی ثابت ہوئی۔

ادھر ایک اور دلچسپ رجحان سامنے آیا۔ کاغذی طور پر تبادلہ ہو چکا تھا مگر عملی طور پر بندہ وہیں بیٹھا تھا جہاں وہ پہلے بیٹھا تھا۔ یعنی ایک طرف فائل کہہ رہی ہے “یہ بندہ یہاں نہیں ہے”، اور دوسری طرف کرسی کہہ رہی ہے “یہ بندہ ابھی بھی یہاں ہے”۔ اس طرح سرکاری نظام میں ایک نئی “کوانٹم پوسٹنگ” ایجاد ہوئی، جہاں بندہ دو جگہوں پر بیک وقت موجود ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اپروچ مضبوط ہو۔اب آتے ہیں اصل مزے دار حصہ پر۔ ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ کچھ تبادلوں کی واپسی شروع ہو گئی۔ جی ہاں، وہی تبادلہ جو “اصلاحات” کے نام پر آیا تھا اب “واپس اصلاحات” کے نام پر واپس جا رہا ہے۔ یہ وہی صورتحال ہے جیسے آپ موبائل خریدیں، دو دن استعمال کریں اور پھر دکاندار کہے “بھائی واپس لے آو، یہ والا ماڈل ابھی دل نہیں مان رہا”۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ تبادلے کیوں ہوئے، سوال یہ ہے کہ تبادلے ہوئے بھی تھے یا صرف اعلان کیا گیا تھا تاکہ فائلیں خوش ہو جائیں۔ کیونکہ حقیقت میں لگتا ہے کہ تبادلے دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں: ایک کاغذی تبادلہ اور دوسرا حقیقی تبادلہ۔ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔اس پورے کھیل میں ایک لفظ بار بار سنائی دیتا ہے: “اپروچ”۔ یہ کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں، مگر سب سے طاقتور عہدہ یہی ہے۔ نہ اس کا نوٹیفکیشن ہوتا ہے، نہ تنخواہ، لیکن اثر اتنا ہے کہ گریڈ 17 کیا، کبھی کبھی گریڈ 19 بھی اس کے سامنے خاموش ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اگر کسی نے “اپروچ” کی وزارت بنا دی تو باقی وزارتیں خود بخود غیر ضروری ہو جائیں گی۔

اب ذرا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ٹرانسفر پالیسی کا ذکر ہو جائے۔ کاغذوں میں یہ پالیسی ایک بہت سنجیدہ، منظم اور مضبوط دستاویز لگتی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت میں اس کی حالت ایسی ہے جیسے کسی لائبریری میں بند کتاب جو سب نے دیکھی ہو مگر کسی نے پڑھی نہ ہو۔ سب کہتے ہیں “پالیسی موجود ہے”، مگر جب عملدرآمد پوچھا جائے تو جواب آتا ہے “جی وہ فائل میں ہے”۔ اور فائل کا مطلب سب جانتے ہیں: وہ جگہ جہاں چیزیں محفوظ نہیں ہوتیں، صرف غائب ہوتی ہیں۔اصل مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ ہر تبادلے کے بعد ایک نیا باب کھلتا ہے۔ کچھ لوگ درخواستیں لکھتے ہیں کہ ہمیں “ٹرانسفر الاونس” دیا جائے کیونکہ ہم نے جذباتی صدمہ برداشت کیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ہمیں “واپسی چارجز” چاہئیں کیونکہ ہم واپس اسی جگہ آئے ہیں جہاں سے گئے ہی نہیں تھے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جلد “سرکاری نفسیاتی معاوضہ اسکیم” بھی آ جائے گی۔

دفاتر میں صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی میز پر دو حقیقتیں چل رہی ہیں۔ ایک فائل والی حقیقت اور ایک کرسی والی حقیقت۔ فائل کہتی ہے “یہ بندہ یہاں نہیں”، کرسی کہتی ہے “یہ بندہ یہیں ہے”، اور بیچ میں سسٹم خاموش بیٹھا ہے جیسے کوئی ریفری میچ دیکھ رہا ہو مگر سیٹی بجانے کا فیصلہ نہ کر پا رہا ہو۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جہاں اپروچ مضبوط ہو وہاں نوٹیفکیشن صرف ایک “مشورہ” بن جاتا ہے۔ اور جہاں اپروچ کمزور ہو وہاں نوٹیفکیشن ایک “حکم” ہوتا ہے۔ یعنی نظام میں قانون نہیں، وزن چلتا ہے۔ اور وزن کا تعلق اکثر فائل سے نہیں، تعلق سے ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ہر تبادلہ واپسی کے لیے ہی ہوتا ہے تو پھر نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا بہتر نہ ہو کہ ایک ہی نوٹیفکیشن میں لکھ دیا جائے: “یہ تبادلہ وقتی ہے، براہ کرم زیادہ سنجیدہ نہ لیا جائے”؟اصل مسئلہ تبادلہ نہیں، اصل مسئلہ وہ ماحول ہے جہاں تبادلہ ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک “گفت و شنید کا آغاز” ہوتا ہے۔ اور جب انتظامی فیصلے گفت و شنید میں بدل جائیں تو پھر نظام نہیں چلتا، نظام “سمجھوتوں” پر چلتا ہے۔آخر میں ایک چھوٹا سا مشورہ، اگر کوئی دے بھی سکتا ہے: شاید وقت آ گیا ہے کہ ٹرانسفر پالیسی کو فائلوں سے نکال کر دفاتر میں لایا جائے۔ ورنہ اگلے سیزن میں ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ تبادلہ ہو گا، منسوخ ہو گا، اور پھر اس کی منسوخی بھی واپس ہو جائے گی۔اور تب شاید ہمیں ماننا پڑے گا کہ یہ محکمہ اسپورٹس نہیں، بلکہ “اسپورٹس اینڈ ریورس ٹرانسفرز ڈائریکٹریٹ” ہے۔


#KPK #SportsDirectorateKP #Transfers #Governance #PublicAdministration #PakistanPolitics #Accountability #Transparency #Bureaucracy #InvestigativeHumor

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1005 Articles with 778988 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More