تحریر مسز پیرآف اوگالی
شریف
نماز میں عورتوں کے سجدہ کرنے اور بیٹھنے کا طریقہ و ہیئت مردوں سے جدا ہے
، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی نماز کی ادائیگی کا جو طریقہ
ارشاد فرمایا اس میں*سجدہ کرنے کا طریقہ اور صورت مرد کے سجدہ کرنے کی ہیئت
سے جدا ہے ۔
ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز
پڑھ رہی تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم سجدہ کرو تو
اپنے جسم کے بعض حصے کو زمین سے لگالیا کرو، کیوں کہ اس میں عورتیں مردوں*کی
طرح نہیں ہیں*،
علامہ علی متقی بن حسام الدین برہان پوری کے مطابق حضرت ابن عمر بیان کرتے
ہیں*کہ جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھ لے اور جب
سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں*کے ساتھ چمٹائے یہ اس کے زیادہ ستر کے مثل
ہے ، علامہ غلام رسول سعیدی عورتوں کی نماز میں سجدے کی بابت لکھتے ہیں*کہ
عورتوں کی نماز کے طریقے کے متعلق احادیث*اور آثار علقمہ حضرت وائل بن حجر
سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد
فرمایا اے وائل بن حجر جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے
مقابل لاؤ اور عورت اپنے ہاتھ اپنے سینے کے مقابل اٹھائے۔
ابن جریح بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ کیا عورت دو رکعت کے بعد
اپنے بائیں کولہے پر بیٹھے ؟ انھوں نے کہا ہاں ! وہ میرے نزدیک دائیں کولہے
پر بیٹھے کہ بہ نسبت مستحسن ہے ، حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد
فرمایا : جب عورت سجدہ کرے تو اپنے جسم کو سمیٹے اور اپنی رانوں کو (اپنے
پیٹ کے ساتھ) ملائے ۔
حضرت ابن عباس سے عورت کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا وہ اپنے
اعضاء کو جمع کرے اور سمیٹے ۔
ابراہیم نخعی نے کہا کہ جب عورت سجدہ کرے تو اپنی رانوں کو ملائے اور اپنا
پیٹ ان پر رکھے ابراہیم نے کہا جب عورت سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی رانوں
کے ساتھ ملائے اور اپنے کولہوں کو اوپر نہ اٹھائے اور اپنے پیٹ کو اپنی
رانوں سے دور نہ رکھے جیسے مرد دور رکھتا ہے ۔ علامہ ابو الحسن بن علی بن
ابی بکر مرغینانی حنفی لکھتے ہیں : ستر عورت اپنے بائیں کولہے پر بیٹھے اور
اپنے دونوں پیروں کو دائیں جانب نکالے ، اس میں اس کے لیے زیادہ ہے ۔
علامہ بدرالدین عینی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں کیوں کہ ستر فرض
کی رعایت کرنا (مردوں کی طرح) قعدے مسنون طریقے کی رعایت زیادہ بہتر ہے ،
علامہ ابوبکر محمد بن احمد السر خسی لکھتے ہیں عورت سجدے میں اپنے جسم کو
سمیٹے اور اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ ملائے اور بازوؤں کو پہلوؤں کے ساتھ
ملائے اسی طرح حضرت علی سے عورتوں کے سجدے کے طریقے میں مروی ہے اور اس کی
بنیاد یہ ہے کہ عورت میں اصل ستر ہے سو جو طریقہ عورت کے ستر کے زیادہ
موافق ہو وہ اولیٰ ہے ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے عورت مستورہ یعنی چھپائی
جانے والی چیز ہے ۔
علامہ محمود بن صدر الشریعہ لکھتے ہیں*: عورت قعدے میں اس طرح*بیٹھے جس میں
اس کے لیے زیادہ ستر ہو ، علامہ عثمان بن علی زیلعی حنفی لکھتے ہیں : عورت
جھکے اور سجدے میں اپنا پیٹ اپنی رانوں سے ملائے عورت کی نماز دس چیزوں
میں*مرد کے خلاف ہے ۔ عورت اپنے کندھوں تک ہاتھ اٹھائے اور اپنے سینے کے
نیچے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر
گھٹنوں تک رکھے ، سجدے میں اپنی بغلوں کو ظا ہر نہیں کرے گی ، تشہد میں
اپنے کولہے کے اوپر بیٹھے رکوع میں اپنی انگلیوں کو متفرق نہ رکھے گی ،
مردوں*کی امامت نہیں کرےگی ، اس کی جماعت مکروہ ہے اور ان کی امام ان کے
وسط میں کھڑی ہوگی ، علامہ زیلعی حنفی نے لکھا ہے عورت تشہد میں اپنے کولہے
پر بیٹھے کیوں کہ اس کا زیادہ ستر ا س میں ہے علامہ سید ابن عابدین شامی نے
الخزائن کے حوالے سے چند چیزوں کا اضافہ کیا ہے جن میں عورت کی نماز کے
احکام مردوں کے خلاف ہیں لکھتے ہیں : عورت کا مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز
کے لیے جانا مکروہ ہے اور وہ جماعت میں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوگی عورت پر
جمعہ فرض نہیں لیکن پڑھے گی تو جمعہ ادا ہوجائے گا ، نہ عورت پر عید اور
تکبیرات تشریق ہیں اور نہ اس پر صبح کی نماز سفیدی میں مستحب ہے نہ وہ جہری
نمازوں میں بلند آواز سے قرآن پڑھے کیوں کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے خلاصہ
یہ ہے کہ نماز کے احکام میں عورت 26 چیزوں میں مرد سے مختلف ہے ۔ |