دین حاصل کرنے کا طریقہ

(manhaj-as-salaf, Peshawar)
محترم قارئین، افسوس ہے کہ عام طور پر ہم نے دینی علم حاصل کرنے سے دوری اختیار کر لی ہے جس کا نتیجہ یہ نکل آیا کہ جو مولوی صاحب، ملا یا شیخ صاحب یا کوئ بھی ایک عبارت عربی میں سنا دیتا ہے تو ھم اسکو دین سمجھ کر دھڑا دھڑ بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں یا موبائیل کے ذریعہ فارورڈ کر دیتے ہیں اس بات کی کیا نشانی ہے فلاں بات دین ہے یا نہیں؟ ان شاء اللہ اس بات کو بھی عام فہم انداز میں سیکھتے ہیں

سب سے پہلے نقطہ یہ ہے کہ دین ہمیشہ قرآن والسنۃ سے لیا جاتا ہے اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قران والسنۃ کا یہ عمل سند پر مشتمل ہو. دوسرا نقطہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جاۓ کہ وہ سند کس درجہ کی ہے یعنی صحیح ہے یا ضعیف ہے یا من گھڑت ہے. اگر وہ سند صحیح یا حسن ہو تب تو دلیل ہے اگر ضعیف یا من گھڑت ہو تو وہ دلیل نہیں اس لیے ایسے قول کا فارورڈ کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں.

کیونکہ دین کا ایک خاص قول جو ہم نے فارورڈ کر دیا اور اس قول کی سند کا ضعیف یا من گھڑت ہونے کی وجہ سے وہ قول اس صحابی سے صحت کے درجہ میں ثابت نہ ہوا مگر ہم نے پھر بھی کہ دیا کہ سیدنا علی سے روایت ہے یا سیدنا ابن مسعود سے روایت ہے. گویا ہم نے صحابی پر جھوٹ بول دیا یا بہتان لگا دیا. اور پھر اس کمزور سند سے آگے یہ بھی کہ دیا کہ رسول اللہ نے فرمایا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جھوٹ بول دیا، معاذ اللہ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
‏ "‏ مَنْ يَقُلْ عَلَىَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏

ترجمہ و مفہوم: جس شخص نے مجھ پر ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا (جہنم کی) آگ میں بنا لے
(صحیح بخاری،رقم: 109)

دوسری جگہ فرمایا:
ترجمہ و مفہوم: جس نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی اور وہ جانتا تھا کہ روایت جھوٹی (میری طرف منسوب ہے) تو یہ شخص جھوٹوں میں سے ایک یعنی کذاب ہے
(مسند علی بن الجعد: 140 وسندہ صحیح، صحیح مسلم: 1)

محترم قارئین، معلوم ہوا کہ کسی دینی میسج یا ای میل یا ارٹیکل کو فارورڈ کرنے سے قبل یہ ضرور دیکھ لیں کہ وہ صرف ان احادیث پر محیط ہوں جو صحیح یا حسن سند سے ہوں یعنی اسکے روایت کرنے والے راوی حدیث ثقہ ثبت اور حسن الحدیث اور صدوق ہوں. اگر اسکے راوی ضعیف و منکر و متروک اور جھوٹے و کذاب ہوں یا کوئ اور علت اس روایت میں موجود ہو تو ایسی روایت ہرگز فارورڈ نہ کریں کیونکہ احتمال ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بول کر کہیں ولعیاذ بللہ جہنمی نہ بن جائیں.

وہ کون سے راوی ہیں جو سند کے اعتبار سے ثقہ و صدوق ہیں؟ یہ اسی شخص کو پتا لگ سکتا ہے جو دین کے علم سے محبت رکھے اسلیے ہمیں احتیاط سے کام لینا چاہیے، اور ہر میسج یا ای میل کو فارورڈ نہیں کرنا چاہیے. اس میں ایک اور نقطہ داعی بھی ہے. بعض داعئیان کو اللہ نے فصاحت و بلاغت کی نعمت دی ہوتی ہے یعنی وہ داعی ایک گھنٹہ مسلسل بول سکتا ہے جبکہ اس دوران وہ اپنی ردم قائم رکھ سکتا ہے اور لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے.

لیکن مستقل یا ایک گھنٹہ تک داعی کا فصاحت و بلاغت سے بولنا اور اس میں کئ حدیثوں کا حوالہ دینا جدا بات ہے اور صرف صحیح و حسن روایات کا اسنادی حیثیت کے ساتھ حوالہ دینا ایک جدا بات ہے. افسوس کی بات یہ ہے کمزور روایات کو اپنے بیان میں دلیل اور استدلال کے طور پر پیش کرنے کا مرض تمام مکاتب فکر میں ہے. چاہے وہ دیوبند یا بریلوی ہوں یا اہل حدیث ہوں یا شیعہ ہوں. یا پھر کسی تنظیمی فکر سے تعلق رکھتے ہوں.

اور امت میں اضطراب کی جو کیفیت ہے وہ اسی وجہ سے ہے اور جب بعض احباب کو یہ پورا مسئلہ تفصیلا سمجھایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں عالم نے دیوبند شریف سے علم حاصل کیا، فلاں نے بریلوی شریف سے، فلاں نے جامعہ الاظہر مصر سے، فلاں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ سے، فلاں نے جامعہ سلفیہ سے، فلاں نے ایران سے وغیرہ. وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں؟ وہ کیسے کمزور اور غلط مسائل بتا سکتے ہیں. ہم کہتے ہیں اسکو چھوڑو کہ اس نے علم کہاں سے حاصل کیا.

کسی جامعہ کا تزکیہ ہرگز کافی نہیں کیونکہ ان اداروں سے تعلیم و علم کرنے کے باوجود اگر داعی کمزور اور غیر مستند مسائل ممبر سے بتا رہا ہے تو اسکا یا تو مطلب ہے کہ وہ صحیح علم نہیں لے رہا یا پھر علم صحیح لے رہا ہے مگر جب عمل کرنے کے لیے معاشرے میں آتا ہے تو غیر مستند اقوال اور اعمال کو فروغ دیتا ہے.

ان شاء اللہ اسکو ایک مثال سے سمجھتے ہیں. اگر ایک داعی کا دعوی ہو کہ اس نے جامعہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی. لیکن اگر داعی جامعہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود جب وہ پاکستان یا افغانستان یا امریکہ و برطانیہ وغیرہ واپس آ کر دعوۃ کرے تو معاشرے میں حکام کے خلاف نفرت پھیلاۓ اور خروج اور بغیر اصول و ضوابط کے کفر کے فتوی لگاۓ یا پھر تفجیر اور تکفیر کی دعوۃ کرے تو جامعہ اسلامیہ مدینہ کا تذکیہ اسکے لیے کافی نہیں. نہ ہی جامعہ اسلامیہ کے علماء ایسے داعی کا تذکیہ دیتے ہیں، بلکہ میری معلومات کے مطابق ایک داعی کے ایسے قول و فعل و عمل سے تو جامعہ اسلامیہ کے علماء براءۃ کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہیں. گویا محترم قارئین، اس سے معلوم ہوا کہ کسی اچھے اور مستند دینی ادارے کا تزکیہ یا شخصی تزکیہ صرف اس وقت تک قابل قبول ہے جب تک وہ داعی اس دینی ادارے کے سخت ترین معیار کے مطابق ہو اور اسکی کیفیت نہ بدلے اور قرآن والسنۃ کے صحیح و حسن اسناد سے دلائل اٹھاۓ، ورنہ وہ اسکا تزکیہ نہیں دیتے.

ان شاء اللہ اس سلسلہ میں صریح مثال بہت فائدہ مند ہوگی. یمن کے ایک محدث گزرے ہیں انکا نام الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ تھا. انکی تعریف حافظ زبیر رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتابوں میں کی ہے. شیخ مقبل کے ایک قابل ترین شاگرد تھے یحیی الہجوری جنکی تعریف وتزکیہ شیخ مقبل نے اپنی زندگی میں خود کی. شیخ کی وفات کے بعد جب فتنہ آیا تو یحیی کی کیفیت بدل گئ تو کبار علماء حق نے انکے تزکیہ کو نہیں دیکھا اور انکی بدلی ہوئ کیفیت پر انکو اصلاح کی دعوۃ بھی دی اور رد بھی کیا.

محترم قارئین، اس سے معلوم ہوا کہ چاہے آپ کا تعلق دیوبند سے ہو، بریلوی سے ہو، اھل حدیث سے ہو، شیعہ سے ہو، حیاتی ہوں یا مماتی، اشعری ہوں یا ماتریدی، حذبی ہوں یا قرآنی، مقلد ہوں یا غیر مقلد غرض کسی فکر سے بھی آپ کا تعلق ہو آپ یہ دیکھیں کہ جس داعی سے آپ دین لے رہے ہیں اگر وہ دلائل کو کتاب السنۃ سے صحیح یا حسن اسناد سے اور مسائل کو فہم السلف یعنی صحابہ و تابعین کے فہم کی روشنی میں صحیح و حسن سند سے جمہور علماء حق کے مطابق علم لیتا ہے اور اسی طرح بیان کرتا ہے تب تو الحمد للہ ایسے عالم سے ضرور علم لیں لیکن اگر وہ عالم زیادہ تر یہ رجہان رکھے کہ قرآن والسنۃ سے اپنی ذاتی مرضی کا فہم نکالتا رہے اور ایسا فہم سلف سے یعنی صحابہ و تابعین سے صحیح و حسن سند سے قطعا ثابت نہیں تو ایسے عالم سے دین نہ لیں چاہے وہ کتنا ہی بڑا شیخ الحدیث کیوں نہ ہو

اب ان شاء اللہ ہم کتاب والسنۃ کے بعد تیسرے جز یعنی اجماع پر بات کریں گے:

دین کا علم حاصل کرنے کا تیسرا جز إجماع ہے. یعنی کتاب السنۃ کو صحیح یا حسن إسناد سے سمجھنے کے ساتھ ساتھ إجماع سے بھی علم لیا جاتا ہے. إجماع کا قرآن سے اشارتا اور حدیث سے صراحتا حجت ہونا ثابت ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستدرک الحاکم میں ایک صحیح روایت میں فرمایا:

ترجمہ و مفہوم:
"بے شک اللہ میری امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں فرماۓ گا."
‏(مستدرک الحاکم وسندہ صحیح)

صحابہ کرام سے اجماع کی حجیت ہونا ثابت ہے مثلا سیدنا عمر سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنھما وغیرہ سے. اجماع کو حجت ماننا اصل میں قرآن والسنۃ کو ماننا ہے کیونکہ اجماع قرآن والسنۃ سے ثابت ہے. گویا قرآن اور سنۃ اور اجماع دین کی تین اصل دلیلیں ہیں جس سے علم لیا جاتا ہے. اب سوال یہ ہے کہ جب یہ تین دلیلیں موجود ہیں تو فہم السلف سے کیا مراد ہوا اور فہم السلف سے دین کیوں لیا جاۓ.

یہ دیکھا گیا ہے کہ ان تین دلائل کے باوجود اھل بدعت و گمراہ فرقے حتی کے مرتدین بھی اپنا استدلال قرآن والسنۃ سے پیش کرتے ہیں. مثلا قادیانی اور مرضائ قرآن کی آیات پڑھ کر ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں. خوارج نے قرآن کی آیات پڑھ کر صحابہ کی تکفیر کی. قدریہ نے قرآن کی آیات پڑھ کر تقدیر کا انکار کیا، روافض نے بھی اسی قرآن والسنۃ کو استعمال کرتے ہوۓ باطل فہم کو اجاگر کیا وغیرہ. اب ان کا راستہ روکنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ قرآن والسنۃ کو فہم السلف یعنی صحابہ کے ثابت شدہ صحیح یا حسن روایات کے فہم کی روشنی میں سمجھیں.

اسکی دلیل وہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا تھا، مفہوم: کہ رسول اللہ ہمیں کوئ خاص چیز نہیں دے گیے مگر فہم القرآن بخاری))

اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ثابت ہو گا کہ کس چیز پر إجماع ہو گیا ہے؟ اسکے مختلف طریقے ہیں. ایک طریقہ تو یہ ہے کہ علماء حق اور کتاب السنۃ کے ماہر علماء نے اگر صراحت کی ہے تو ادھر سے ہم إجماع لیں گے. مثلا امام ابن المنذر النیسابوری ،حافظ ابن حزم الندلسی، حافظ ابن تیمہ وغیرہ نے کتاب الإجماع لکھی ہے. جو عربی اور اردو تراجم کے ساتھ بھی موجود ہیں. اور طلباء اور دینی فہم رکھنے والے حضرات کو ضرور اپنے پاس رکھنی چاھیے.

دوسرا طریقہ جس سے اجماع کا پتا چلتا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں بھی اجماع کا پتا چل جاتا ہے مثلا علماء کہتے ہیں کہ اس مسئلہ پر اجماع ہے. تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ پر علماء کی تحقیقات اکٹھی کی جائیں اور اسکے مقابلہ میں کچھ نہ ملے تو اسکا مطلب ہے کہ اس مسئلہ میں اجماع ہے. اس میں یہ بھی یاد رہے کہ اھل حق کا اجماع ضروری ہے. معتزلہ، خوارج یا اھل بدعت تو اکثر اختلاف کرتے رھے مگر ان کے اختلافات کی کوئ حیثیت نہیں. اسی طرح اجماع قیامت تک جاری رہے گا. اجماع دو طرح سے ہو سکتا ہے مثلا قرآن والسنۃ کی کوئ واضع نص موجود ہو. مثلا ختم نبوت کی واضع نص موجود ہے گویا کوئ علم اور فہم رکھتے ہوۓ ختم نبوت کا انکار کرے تو اس نے کفر کر لیا.

دوسری طرح کا اجماع بغیر نص کے بھی ہوسکتا ہے مثلا نماز میں قہقہ لگا کر ہنسنے کا کیا حکم ہے؟ قرآن والسنۃ اس پر خاموش ہے مگر اس پر اجماع ہے کہ اسکی نماز ٹوٹ گئ اور اسکو دوبارہ نماز دھرانہ پڑے گی. وضو پر اختلاف ہے احناف کا کہنا ہے کہ اسکا وضو بھی ٹوٹ گیا مگر اس پر اختلاف ہے اور دیگر مکاتب فکر احناف کے وضو ٹوٹنے کے فہم سے اتقاق نہیں کرتے گویا وضو پر اجماع نہیں ہے.‏

دین کا چوتھا جز جس سے علم لیا جاتا ہے اسکو اجتہاد یا قیاس کہتے ہیں. اجتہاد کرنا جائز ہے. جب قرآن والسنۃ کہیں پر خاموش ہو اور اس میں وہ مسئلہ موجود نہ ہو اور اجماع کا ہمیں پتا نہ ہو یا پھر اجماع نہ ہو تو اس مسئلہ میں اجتہاد کیا جاۓ گا. اگر کوئ اجتہاد نہیں کرنا چاہتا تو اسکی اپنی مرضی ہے، لیکن اجتہاد کرنا جائز ہے.

اجتہاد کے سلسلہ میں ایک مثال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ سے فرمایا:
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَحْزَابِ ‏ "‏ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي، لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ‏.‏

ترجمہ و مفہوم: کہ آپ میں سے کوئ عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ میں. عصر کی نماز کا وقت درمیان میں آگیا. کچھ نے کہا کہ ھم عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچ کر ہی پڑھیں گے. کچھ نہ کہا ھم تو اب (وقت ہونے پر) پڑھیں گے. جب اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے دونوں گرہوں کو برا نہیں کہا
(بخاری، حدیث: 4119)

معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اپنے علم کے مطابق اجتہاد سے کام لیا ایک گروہ نے اجتہاد سے کام لیا اور عصر کی نماز کو عصر کے وقت ہو جانے پر پڑھا اور دوسرے گروہ نے بنو قریظہ پہنچ کر نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاھر الفاظ پر عمل کیا. مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گرہوں کو برا نہیں کہا کیونکہ دونوں نے اجتہاد کیا، گویا اس روایت سے اجتہاد کرنا ثابت ہوا.

اجتہاد کی ایک قسم قیاس ہے. اسکی ایک مثال یہ ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ، وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا أَلْوَانُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ حُمْرٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِرْقٌ نَزَعَهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ ‏"‏‏.‏ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنْهُ‏.‏

ترجمہ و مفہوم: ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا جسے میں اپنا نہیں سمجھتا. اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں اسنے کہاں ہاں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا انکے رنگ کیسے ہیں.اس نے کہا، سرخ، پوچھا ان میں کوئ خاکی بھی ہے؟ کہا ان میں خاکی بھی ہیں. اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ کھینچ لیا ہوگا. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کیا یہ) ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو بچے کا انکار کرنے کی اجازت نہیں دی
(بخاری رقم: 7314)

اس روایت سے اجتہاد کی قسم شریعی قیاس کو بتایا گیا:
محترم قارئین، اس سے پتا لگا کہ اجتہاد و قیاس بھی دین کا ایک جز ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اجتہاد و شرعی قیاس کے لیے دین کا ایک عالم ہونا ضروری ہے کہ نہیں؟ اسکا جواب ایک افسوس کے ساتھ. ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم دنیا کے بہترین علم حاصل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ دین کا بہترین علم بھی حاصل کریں تاکہ ہم میں حق اور باطل کا شعور بیدار ہو اور ہم قرآن والسنۃ کو بھی جان سکیں اور اجماع و اجتہاد وشرعی قیاس کو بھی.

اس پر ایک مثال بھی پیش خدمت ہے جس کو عام فہم زبان میں، میرے ایک جاننے والے حکیم صاحب نے پیش کیا. اللہ تعالی نے قرآن میں فعل امر سے فرمایا: و اقیموا الصلوۃ یعنی نماز قائم کرو. دوسری طرف یہ بھی فرمایا:
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا

ترجمہ و مفہوم: کسی ایک جان کو بچانا گویا تمام انسانیت کو بچانا ہے
(سورۃ المائدۃ آیت: 32)

ایک شخص کے ذہن میں یہ آیات موجود تھیں کہ ایک نہر میں یا نہر کے کنارے ایک شخص پڑا ہوا ہے.

اب اس کے پاس دو راۓ ہیں یا تو نماز کے وقت میں وہ قرآن کے حکم کے مطابق مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کرے یا پھر قرآن ہی کے حکم کے مطابق اسی وقت زخمی ہونے والے شخص کو یا نہر میں ڈوبتے شخص کو بچاۓ گویا اسکے لیے یہاں پر عالم دین ہونا ضروری نہیں بلکہ ایک اجتہادی فیصلہ کا وقت ہے کہ زخمی کو ہسپتال پہنچاۓ یا پھر مسجد میں جمع نماز ادا کرے. اور یہ فیصلہ اس کو خود حالات کے مطابق کرنا ہے.

گویا یاد رہے کہ دنیا کے علم کے ساتھ ساتھ دین کا علم اور قرآن والسنۃ کے علم کو حاصل کرنا، اجماع کا علم علماء حق سے حاصل کرنا بھی ضروری ہے. جوں جوں اسکا علم زیادہ ہوتا جائے گا اسکا اجتہاد کرنا بھی زیادہ ہوتا جائے گا. اسی طرح یاد رہے کے کسی شخص کا اجتہاد قرآن والسنۃ کے واضع نصوص کے خلاف ہو یا اجماع کے خلاف ہو تو اسکو چھوڑ دیا جاۓ گا چاھے وہ کتنا ہی بڑا شیخ الحدیث یا امام ہی کیوں نہ ہو.

آخر میں ان شاء اللہ ھم ایک دفعہ پھر یاد دہانی کے لیے علم حاصل کرنے کا صحیح طریقہ درج کر دیتے ہیں. سب سے پہلے علم کو قرآن والسنۃ سے لیا جاتا ہے. اور قرآن والسنۃ کو صحابہ و تابعین کی صحیح یا حسن لزاتہ اسناد سے جمہور محدثین اور علماء حق کی راۓ کے مطابق سمجھا جاتا ہے. اسی طرح اجماع کا علم بھی حاصل کیا جاتا ہے. اور قرآن والسنۃ کے اصول کی روشنی میں اجتہاد بھی جائز ہے مگر باطل اجتہاد کو طرق کیا جاتا ہے.

باطل اجتہاد کے سلسلہ میں اگر ایک شخص کا اجتہاد ہو کہ سگرٹ پینا حرام نہیں ہے اور کہیں بھی اسکا منع نہیں ہے اس لیے اسکا پینا مکروہ تو ہو سکتا ہے مگر حرام نہیں ہے یا پھر ایک اور شخص کہے کہ شرعی جہاد کے موقع پر کفار کے خلاف خود کش حملہ جس کو عام زبان میں بعض احباب فدای حملہ بھی کہتے ہیں وہ جائز ہے تو انکو جواب دیا جاۓ گا کہ آپ کا اجتہاد باطل ہے کیونکہ اللہ نے قرآن میں آیت عام میں فعل نہی، یعنی منع کرتے ہوۓ، حکم کے انداز میں فرمایا:
ولا تقتلوا انفسکم

ترجمہ : اور اپنے آپ کو قتل مت کرو
(حوالہ: سورۃ: نساء آیت: 29)

یہ آیت عام ہے. اسلیے اس میں سگرٹ پینے والے کو بھی حکم ہے کہ سگرٹ پینے والا اپنے آپ کو رفتہ رفتہ موت کی طرف لیجا رہا ہے اور اس آیت میں خود کش حملہ کرنے والا بھی مراد ہے وہ اپنے آپ کو اس حملہ سے موت کے گھاٹ اتارے گا، اور شائد کئ معصوموں کا قتل عام بھی کرے گا. اس سلسلہ میں یہ آرٹکل ضرور پڑہیں:

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=55493
‏(فدائ حملہ یا خود کش ملہ)

اور اللہ ہی ھدایت دینے والا ہے. اللہ مجھے اور آپ کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور اپنے دین کو صحابہ اور سلف الصالحین کے منہج پر صحیح اور حسن روایت کی روشنی میں اٹھانے، عمل کرنے اور پھیلانے کے توفیق عطا فرماۓ، آمین، اللھم آمین.
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 287 Articles with 222362 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2016 Views: 914

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ