سوتیلے مرد

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)
ہمارا بر صغیری معاشرہ ایک پدرسری معاشرہ کہلاتا ہے جہاں عورت پر ایک مرد کی کسی نہ کسی شکل میں حاکمیت اور برتری قائم ہوتی ہے ۔ یہ بات وسیع معنوں میں درست بھی ہے مگر سو فیصد ایسا نہیں ہے ۔ ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جہاں عملاً ایک عورت کی حکومت ہوتی ہے ۔ وہ مختار کل اور سیاہ سفید کی مالک ہوتی ہے جو وہ چاہتی ہے وہی ہوتا ہے ۔ مرد کا کام صرف کما کر لانا ہوتا ہے ۔ آپس میں اچھی موافقت اور موانست ہو تو چھوٹے بڑے فیصلے باہمی مشاورت اور مفاہمت سے طے پاتے ہیں ورنہ بعض اوقات مرد گھر کا مالک اور کفیل ہونے کے باوجود ایک بےبس تماشائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔ اور ویسے بھی عام طور پر مرد ، عورت کے ساتھ جو ظلم زیادتی اور سختیاں کر رہا ہوتا ہے اس کے سرے کہیں نہ کہیں جا کر ایک عورت سے ہی مل رہے ہوتے ہیں ۔

بہت سی کم پڑھی لکھی مگر حد درجہ سمجھدار اور معاملہ فہم خواتین اپنے مردوں کو قابو میں رکھنے کے گر جانتی ہیں ۔ ان میں پایا جانے والا شعور بہت سی اعلا تعلیمیافتہ خواتین میں تک نظر نہیں آتا ۔ عورت مظلوم مقہور معتوب سہی لیکن کیا مرد پر ظلم نہیں ہوتا ۔ اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی ۔ بہت سے مقامات پر وہ ہمدردی اور خلوص کا مستحق نہیں ہوتا؟ مگر وہ جتنا مخلص اور بےلوث ہوتا ہے اتنا ہی خود اپنوں کے ہاتھوں ، کسی قدردانی یا پذیرائی سے محروم ہوتا ہے ۔

برصغیری متوسط اور زیریں طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے مرد خصوصاً غیر شادی شدہ نوجوان جو اپنے گھرانے کے حالات سدھارنے کو پردیس سدھارتے ہیں ۔ بالخصوص سعودیہ ، امارات اور مشرق بعید وغیرہ بھی تو ان میں سے بیشتر کے حالات اور ان کے ساتھ خود اپنوں کے سلوک کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ تو انسان ہی نہیں ہیں ۔ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق ہیں جن کا کام صرف اپنے اہلخانہ کی خوشحالیوں کے لئے خود کو تج دینا اپنی صحت و طبیعت کی پروا کئے بغیر دن رات گدھوں کی طرح محنت کرنا اور ان کی فرمائشوں کو پورا کرنا ہے ۔ یہ خود طرح طرح سے اپنے من کو مارتے ہیں کھانے پینے اوڑھنے پہننے میں تنگی اٹھاتے ہیں ۔ چھوٹی موٹی بیماریوں ، چوٹوں کو تو کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے ۔ دل ہی دل میں اپنوں سے ملنے کے لئے تڑپ رہے ہوتے ہیں مگر ہوتا کیا ہے؟ انہیں طرح طرح کے بہانوں سے سالانہ چھٹی پر گھر آنے سے روکا جاتا ہے ۔ کوئی شادی کر کے گیا ہے تو اس کی بیوی اور گھر والوں کی ایک دوسرے کے خلاف شکایتوں سے اس غریب کا پردیس میں جینا حرام ۔ بال بچوں والا جب چھٹی پر گھر جاتا ہے اور بچوں کی مشغولیات و سرگرمیوں پر کوئی اعتراض کر بیٹھے تو وہ اس کے واپس جانے کا بےچینی سے انتظار کرنے لگتے ہیں ۔ کوئی سب چھوڑ کر مستقل واپس آنے کی بات کرے تو اس کے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے ۔ کسی کا وطن میں قیام کچھ طویل ہو جائے تو پورے خاندان کے ساتھ محلے والوں کو بھی تشویش لاحق ہو جاتی ہے کہ یہ واپس کیوں نہیں جا رہا ۔ کوئی بیوی کو پاس بلانے کی بات کرے تو ہر ممکن رکاوٹ ڈالی جاتی ہے ۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے دور اور جدا رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی ۔ اپنوں کو ایک خوشحال زندگی دینے کی آرزو لے کر اور ان کی جائز و ناجائز خواہشات و مطالبات کو پورا کرنے کی خاطر پردیسوں کی خاک چھاننے والے اور اندھادھند قربانیاں دینے والے ، اپنے خاندان سے ہزاروں میل دور تنہا پردیسی اور اُدھر ان کی شریک حیات کن کن مشکلات اور اذیتوں سے گذرتے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو خود اس دور سے گذرے ہوں ۔ بہت بڑا ظلم ہوتا ہے شادی کے بعد میاں بیوی کا ایکدوسرے سے دور اور الگ رہنا اور زندگی کا سفر اکیلے اکیلے کاٹنا اور اس سلسلے کا دراز ہوتے ہی چلے جانا ۔ اور اکثر ہی اس میں قسمت کے ساتھ ساتھ گھر والوں کا بھی برابر کا ہاتھ ہوتا ہے ۔

اکثر ہی مشاہدے میں آتا ہے کہ پردیس میں جان توڑ محنت اور اپنا خون پسینہ ایک کرنے والوں کی کمائی پر عیش کرنے والے خود ان کے اپنوں نے ان کی کمر میں خنجر گھونپا ۔ غلط فہمیاں پیدا کر کے ان کی شادی ختم کرا دی یا انہی کی محنت سے بنائی گئی جائیداد سے ان کو بےدخل کر دیا ۔ امریکا اور یورپ وغیرہ میں بھی اپنے مقام و مرتبے کی پروا کئے بغیر ہر طرح کا کام کر کے لوگ جو پیسہ اپنے اہلخانہ کو بھیجتے ہیں اسے وہاں مال مفت دل بےرحم کے مصداق بہت بےدردی سے خرچ کیا جاتا ہے ۔ وہاں سب یہی سمجھتے ہیں کہ ڈالر درختوں پر اُگتے ہیں ۔

جن جن گھرانوں کے نوجوان انہیں ایک آسودہ زندگی دینے اور فرائض سے بجاآوری کے لئے پردیس میں اپنا خون پسینہ ایک کر رہے ہیں اور کچھ تو ایسی ذمہ داریاں بھی پوری کر رہے ہیں جو ان کی ہیں ہی نہیں ۔ مثلاً شادی شدہ بہن بھائیوں کی مالی کفالت اور ان کی آئے روز نت نئی فرمائشوں کی تکمیل ۔ انہیں چاہیئے کہ کچھ خدا کا خوف کریں اور ان غریب الوطنوں کو بھی اپنی طرح کا ایک انسان سمجھیں ۔ اور کسی ایک کے باہر چلے جانے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب باقی لوگوں کو بیٹھ کر کھانے کا لائسنس مل گیا ہے ۔ ذمہ داریوں کا تعین ہونا چاہیئے ۔ آخر کیوں ہمارے برصغیری معاشرے میں مڈل کلاس اور لوئر کلاس کا پردیس کو سدھارنے والا ہی قربانی کا بکرا سمجھ لیا جاتا ہے؟ سارے فرض اس کے ہوتے ہیں باقی لوگوں کو صرف اپنے حق یاد رہتے ہیں ۔ اور اس کے بعد بھی ان کی شکایتیں ہی ختم نہیں ہوتیں ۔ کسی کے زندگی بھر کے کئے کرائے پر پانی پھیرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 175 Articles with 1050198 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2016 Views: 10863

Comments

آپ کی رائے