پاکستان: انسانی اسمگلنگ کا سنگین معاملہ……حکام کہاں ہیں؟

(عابد محمود عزام, Lahore)
 پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا معاملہ انتہائی سنگین ہوتا جارہا ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ 14 سال کے دوران ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں بیرون ملک ملازمت، تعلیم سمیت دیگر مقاصد کے لیے غیر قانونی طور پر تقریبا10 لاکھ افراد انسانی اسمگلنگ کی نذر ہوچکے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کی نذر ہونے والے 6 لاکھ سے زاiد افراد منظر عام پر ہیں, جب کہ 3 لاکھ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔اسی سے متعلق ایک خبر چند روز قبل اخبارات کی زینت بنی، جس کے مطابق بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ راولپنڈی سے ایف آئی اے امیگریشن، نجی ائیرلائن عملے اورکورئیر کمپنی کے نمائندے کی مبینہ ملی بھگت سے انسانی اسمگلنگ کرنے پر ایف آئی اے امیگریشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، انسپکٹر سمیت 5 اہلکاروں، نجی ائیرلائن کے عملے اور کوریئر کمپنی کے نمائندے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ رواں ماہ 3 پاکستانی باشندوں کو مبینہ طور پر جعلی ویزوں (Extention) پرترکش ایئرلائن کے عملے اور امیگریشن حکام اسلام آباد ایئرپورٹ نے مبینہ ملی بھگت سے براستہ ترکی اور لیبیا بھجوایا، جن کو ترکش امیگریشن حکام نے انٹری نہ دی اور انھیں 24 اگست کو پاکستان ڈیپورٹ کردیا گیا۔ ڈائریکٹرایف آئی اے اسلام آباد زون نے تمام صورتحال پر ایف آئی اے انسداد اسمگلنگ سیل کو انکوائری کے احکام جاری کیے۔ تفتیش میں ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے مطابق ویزوں کے لیے ایجنٹ کو 9 لاکھ 54 ہزار روپے گواہوں کی موجودگی میں ادا کیے، جس پر مذکورہ افراد کے ویزوں کی (Extention) لیبیا ایمبیسی سے تصدیق کرائی تو یہ جعلی نکلے۔ مذکورہ مسافروں کو جعلی ویزوں پر ارسلان احمد نے بورڈنگ کارڈجاری کیا، کامران فاروق نے ٹکٹیں جاری کیں، جب کہ امیگریشن حکام بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ قائم مقام اسسٹنٹ ڈائریکٹر ضیاالحسن، انسپکٹر عظمت خان، سب انسپکٹرقاری ارشد، اے ایس ائی شبانہ صدیق جنرل چیکر، ہیڈ کانسٹیبل فیصل کہوٹ اورایجنٹ ادوریش مالک، کامران فاروق نے ملی بھگت سے مسافروں کو جعلی ویزوں پر بیرون ملک بھیجا جس پر مذکورہ سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

انسانی اسمگلنگ سے مراد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طور پر یا دھوکا دہی کے ذریعے کسی شخص کو دوسرے ملک کی سرحد عبور کرتے ہوئے اس ملک میں داخل کرانا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اسمگلنگ ایک منظم اور بھیانک جرم ہے، اس جرم سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا یا کسی قسم کی معاونت کرنا بھی جرم ہے۔ یہ ایک منظم جرم اور بڑا منافع بخش کاروبار اور پیسہ کمانے کا آسان طریقہ ہے، جس میں ایجنٹس کے پورے پورے نیٹ ورکس ملوث ہوتے ہیں۔ بہتر معاشی مستقبل، غربت کی وجہ سے اکثر لوگ بیرون ملک جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ ایجنٹس نیٹ ورکس ان کو قانونی طریقے سے باہر لے جانے کی بجائے غیر قانونی طریقوں سے سرحد عبور کرانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس انتظام کرنے پر بھاری رقوم بھی حاصل کرتے ہیں۔ سادھ لوح لوگوں کو لوٹنا’’ فراڈی حضرات‘‘کا انتہائی آسان روزگار اور مفید مشغلہ بن چکا ہے۔ کوئی شخص بیرون ملک کیا چلا جاتا ہے، وہ واپس آتے ہی سب کو بیرون ملک بجھوانے کا دھندہ شروع کر دیتاہے۔ورک پرمٹ پر بیرون ملک جانے والے افراد کی اکثریت دیہات اور قصبوں سے ہوتی ہے اور دیہاتی لوگ اپنی محدود سوچ اور سادگی کی وجہ سے شہر میں کسی رجسٹرڈ ادارے کی بجائے علاقے کے افراد کے زریعے جانے کو ترجیح دیتے ہیں،مگر یہ پہلو انکولْٹنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اپنے ہی حصول زر کی ہوس میں پرائے ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہر سال 30 ہزار سے زاید افراد اسی طرح لٹتے ہیں۔ ملک میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال، بے روزگاری اور سنہری مستقبل کے خواب دیکھنے والے اکثر نوجوان ملک سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے قانونی و غیر قانونی راستے اپناتے ہیں، جہاں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ مافیا کے کارندے انھیں اپنے جال میں جکڑ لیتے ہیں۔ غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک میں داخل ہونا انتہائی مشکل اور ایک بہت اذیت ناک سفر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ دوسرے ممالک کی سرحد عبور کرتے ہوئے مختلف طرح سے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ غیر قانونی سرحد عبور کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد راستے میں ہی یا تو گرفتار ہوجاتی ہے یا پھر سرحدی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ کچھ لوگ مختلف ممالک میں صحرائی علاقوں سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن طویل صحرا میں پانی اور کھانے کی اشیاء کے ختم ہوجانے اور مسلسل چلنے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ بہت سے افراد بحری جہازوں کے تہہ خانوں میں دم گھٹنے سے یا پھر پکڑے جانے کے خوف سے ایجنٹس کے ہی ہاتھوں سمندر برد کردیے جانے سے مرجاتے ہیں۔ گزشتہ عشرے میں غیر قانونی طور پر بیرون ممالک جانے والے ’’معصوم‘‘ خواہشمندوں کے لٹنے اور جان سے گزر جانے کے حادثات متواتر میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئے، جس میں کشتی الٹنے، کٹینروں میں دم گھنٹے، آگ لگنے کے باعث ہزاروں ہلاکتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ایجنٹ حضرات بیرون ملک جانے کے خواہشمندوں کو اپنے جال میں پھنسا کر رقم تو اینٹھ لیتے ہیں لیکن ناگہانی صورت میں انھیں تنہا چھوڑ جاتے ہیں، جس کا نتیجہ بیرون ملک گرفتاریوں اور اس سے پہلے حادثات کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ ان ایجنٹوں کے خلاف مختلف فورم پر شکایتیں بھی درج کرائی گئیں، لیکن کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اورعدم تحفظ کے باعث انسانی اسمگلنگ کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔ دیگرجرائم کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ کاگھناوؤنا کاروباربھی خوب پھل پھول رہاہے۔ غریب عوام کنبے کی کفالت اوربہتر مستقبل کے لیے آئے دن انسانی اسمگلرز کا شکار بن کرنہ صرف اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، بلکہ دیار غیر میں صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں۔ بلاشبہ انسانی اسمگلنگ کا جرم پاکستان کے لیے مستقل درد سر ہے۔ بہتر ذریعہ معاش کے متلاشی نوجوانوں اور جنسی تجارت کے لیے زیادہ تر خواتین و بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے لیے پاکستان بدستور ایک منزل مقصود، راہداری اور منبع مانا جاتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ کی دیگر اقسام کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ تر ایسے افراد کی اسمگلنگ کے واقعات پیش آتے ہیں جو بہتر روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طریقوں سے یورپ اور مشرق وسطی کے ملکوں کا سفر کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ملک میں انسانی اسمگلنگ میں اضافے کی ایک وجہ پاکستان کا جغرافیہ اور کئی ممالک سے منسلک اس کی طویل سرحدیں بھی ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 900 کلومیٹر طویل ہے، جہاں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں، کیونکہ صرف تافتان کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان امیگریشن مرکز ہے اور وہ بھی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہے۔ پاکستان میں بلوچستان سے ایران پھر ترکی اور پھر وہاں سے یونان یہ ایک روایتی راستہ رہا ہے اور جب اسمگل کیے جانے والے افراد مطلوبہ ملک میں پہنچ جاتے ہیں، بشمول یورپی ملکوں میں تو وہاں موجود ایجنٹس انھیں ان کی مرضی کی منزلوں پر بھیج دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی سرحد پر ایران میں مند بیلو کا علاقہ انسانی اسمگلروں کے زیر استعمال ہے۔ یہاں سے یہ بڑے بحری جہازوں یا کشتیوں میں مسقط جاتے ہیں اور پھر وہاں سے یہ مشرق وسطی کی ریاستوں میں نکل جاتے ہیں۔ ایران سے سالانہ تقریباً 15 ہزار جب کہ عمان سے لگ بھگ سات آٹھ ہزار پاکستانیوں کو گرفتاری کے بعد ملک بدر کرکے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔ تاہم انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد کی سالانہ مجموعی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعدادوشمار جمع کرنا تقریباً ناممکن ہے، لیکن ملک میں انسانی اسمگلنگ کے مطلوب خطرناک ملزمان کی تعداد سیکڑوں میں ہے، جن کے تقریباً 9ہزار ایجنٹ ہیں، 2009ء سے 2014ء تک 61200 افراد کو بیرون ملک جانے کی کوشش پر پاک ایران اور پاک افغان سرحد پر پکڑا گیا، جبکہ یہ لوگ 8ہزار سے زاید افراد کو مشرق وسطی، یورپی اورافریقی ممالک اسمگل کرچکے ہیں۔ انسانی اسمگلر عموماً گلستان،چمن، نوشکی، چاغی، مندبلو، پنج گور، تافتان اور تربت کے راستے استعمال کرتے ہیں۔یہ ایجنٹ لوگوں کو انتہائی تھوڑی رقم میں دوسرے ممالک میں بھیجنے کا جھانسا دیتے ہیں اور ان سے پیسے لے کر انہیں کسی دوسرے ایجنٹ کے ہاتھوں فروخت کردیتے ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں سرگرم عمل انسانی اسمگلر اس غیرقانونی کاروبار سے تقریباً15 کروڑ ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔ پاکستان اس غیر قانونی عمل سے شدید طورپر متاثر ہوا ہے، یہاں سے نہ صرف انسانی اسمگلنگ ہوتی ہے ،بلکہ اس سرزمین کو گزرگاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بنگلا دیش،سری لنکا، برما اور انڈیا سے خواتین، بچوں اور مردوں کو غیر قانونی طور پر خلیجی ممالک، ترکی، ایران اور یورپ میں اونٹوں کی دوڑ، جسم فروشی اور جبری مشقت کے لیے ہوائی، سمندری اور زمینی راستوں سے اسمگل کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات کا سدباب کرے ، انسانی اسمگلروں کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ ملک سے بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ کرے، تاکہ غریب عوام کسی دھوکے باز کے ہاتھوں اوپنا مال اور جان نہ گنوا بیٹھے۔
 
انسانی اسمگلنگ اورتارکین وطن صرف پاکستان کا ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی طور پر ترک وطن کرنے والوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان عدم تعاون اور وسائل کی عدم دستیابی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ اس وقت دو سو ملین لوگ اپنا وطن ترک کرکے مہاجرین کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ انسانی آبادی کا تیسرا حصہ ہے۔ ہر35 میں سے ایک فرد نقل مکانی کی صورتحال سے دو چار ہے، ہر سال 45 ملین لوگ نقل مکانی کے عمل سے گزرتے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق انسانی اسمگلنگ کا کاروبار سالانہ7 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ا نسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس ملک بھر میں سر عام دندناتے پھرتے ہیں اور معصوم نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے ، کیوں کہ انھیں’’بڑوں‘‘کی آشیر باد اور سرپرستی حاصل ہوتی ہیں۔حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کرے، بلکہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث اور سرپرستی کرنے والے افرادکی نشان دہی کی جائے اور اس گھٹیا جرم کے مرتکب افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی انسانی اسمگلنگ جیسے انسانیت سوز دھندھے کا سوچے بھی نہیں۔ایسے میں ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا، نہ صرف نوسربازوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے، بلکہ دولت کی ہوس میں اندھے ہو کر غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے باز رہنا ہو گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 425831 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Sep, 2016 Views: 393

Comments

آپ کی رائے