معصوم درندہ

(Saeed Ullah Saeed, Sawat)

سوات پولیس کے لیے یقیناً یہ کیس کسی امتحان سے کم نہ تھاکیونکہ مقتول کو کسی نے دھمکی دی تھی اور ناہی اس کی کسی سے جائداد کا تنازعہ تھا۔وہ کسی خاندانی رنجش کا شکار تھا اور ناہی اس کی کسی سے ذاتی دشمنی تھی۔ وہ تو ایک فرشتہ تھا اور وہ بھی محض تین برس کا۔ جی ہاں! صرف تین برس کے اس معصوم بچے کو جس سفاکیت اور بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیاتھااس نے بچے کی لواحقین کے ہی نہیں ہر اس شخص کا دل چیر کرکے رکھ دیا تھا، جس کو اس سانحے کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔اس الم ناک واقعے نے سوات پولیس کو چکرا کرکے رکھ دیا تھا ۔ وہ پریشان تھے اور سوچ رہے کہ کہ آخر یہ معممہ ہے کیا ؟ کیونکہ بچے کے والد کی نہ تو کسی سے کوئی دشمنی تھی اور نا ہی اس نے کسی پر دعویداری کی تھی۔دوسری طرف اہل علاقہ شدید پریشانی کا شکار تھے کیونکہ ان کو بھی یہ خدشہ کالاحق ہوگیاتھا کہ خدانخواستہ کل کو ان کے بچوں کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہوجائے۔لیکن پھر پولیس کی کوششیں رنگ لائی اور انہوں نے قتل کا سراغ لگا لیا۔ یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کوششوں اور اعلیٰ صلاحیتوں ہی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے محض ایک ہفتے کے اندر ہی قاتل کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔ اس حوالے سے ضلعی پولیس آفیسر محمد سلیم مروت نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرکے جو تفصیلات بتائی ہے ۔ اس کے مطابق سوات کے تحصیل بریکوٹ کے علاقے پارڑئی میں بے دردی سے قتل کیے گئے تین سالہ بچے حسنین کا قاتل حمزہ کی عمر بھی محض بارہ سال ہے۔ حمزہ نے مقتول بچے حسنین کے دکاندار باپ سے پتنگ کی ڈوری خریدی تھی اور اسے یہ رنج تھا کہ بچے کے باپ نے اسے ڈوری اپنی اصل قیمت سے خاصی مہنگی دی تھی۔ اسی لیے بارہ سالہ قاتل نے تین سالہ بچے کے باپ کو سبق سکھانے کی ٹھانی۔ اس نے تین سالہ بچے کو پتنگ کے بہانے ایک خالی پلاٹ لے جاکر پہلے بے ہوش کردیا اور پھر بلیڈ سے ذبح کرکے اس معصوم فرشتے کے جسم کو کٹ لگائے اور اس کا عضو خاص بھی کاٹ ڈالا۔

قارئین کرام! پولیس نے تو اپنا کام کردیا۔ انہوں نے جس یکسوئی اور مہارت کے ساتھ اس اندھے قتل کا سراغ لگالیا ہے اس پر وہ داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ لیکن سوچتا ہوں کہ کیا ہم اس المناک واقعے سے کوئی سبق سیکھیں گے؟ کیا ہم بحیثیت قوم اپنے حالات کا جائزہ لے کر آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچنے کی کوئی سعی کریں گے؟یا صرف غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کرکے اس واقعے کو ایسے بھول جائیں گے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس ملک میں علماء کرام کا کردار محراب تک محدود ہوجائے، باپ کے راتوں کا بیشتر حصہ دوستوں کے ساتھ گزرینے لگے اور ماں کو ڈرامے دیکھنے سے ہی فرصت نہ ہو ،بچے مرضی کے ویڈیو گیمزاور مرضی کے فلمز دیکھنے کے لیے آزاد چھوڑ دیئے جائے تو اس معاشرے میں بارہ سالہ بچہ اگر قاتل بن جائے، دس سالہ بچہ ہیروئین چی بن جائے اور پندرہ سالہ بچہ ڈاکو بن جائے تو اس پر کسی کو کوئی تعجب نہیں ہونی چاہیے۔ مذکورہ بالا کیس کا بھی آفسوسناک پہلو یہی ہے کہ قاتل نے صاف کہدیا ہے کہ اس نے قتل کا طریقہ فلم دیکھنے سے سیکھا تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے باپ ،جس کے اولین ذمہ داریوں میں سے ایک بچوں کی تربیت بھی ہے وہ اس قدر لاپرواہ کیوں ہوئے۔ ماں کہ جس کے گود کو شریعت اسلامی نے بچے کے لیے اولین مدرسہ قرار دیا ہے، وہ اس اہم ترین ذمہ داری سے پہلو تہی کیوں کررہی ہے۔میرا خیال ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم شدید معاشرتی افرتفری کے شکار ہیں۔ لیکن آفسوس ناک بات یہ ہے کہ جہاں ہمارے مسائل کا حل موجود ہیں، اس طرف ہمارے قدم اٹھتے ہی نہیں۔ہمارے آج کے اس معاشرے کا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم نے آج اپنی ساری توجہ بچوں کی دنیا سنوارنے پر لگا رکھی ہے۔ جو والدین مالی طور پر مستحکم ہیں ان کی یہی کوشش ہے کہ بچہ اچھے سے اچھے سکول میں پڑھے تاکہ تکمیل تعلیم کے بعد وہ کسی اچھے عہدے پر براجمان ہوجائے تاکہ اس کی زندگی سکون سے گزرجائے۔ دوسری طرف ایک طبقہ وہ ہے جو بچوں کو ابتداء ہی سے کوئی ہنر سیکھنے بٹھادیتے ہیں تاکہ وہ ہنر سیکھ کر کوئی معقول روزگار حاصل کریں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے جوان ہوکر بڑے عہدے تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن ان کی اکثریت مفید شہری نہیں بن پاتے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ کرپشن کو ہنر سمجھنے ،جوان لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی واقعات کو روشن خیا لی سمجھنے کے بعد اب ہم ’’معصوم‘‘ قاتلوں سے بھی اشنا ہورہے ہیں اور ناجانے یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟اگر ہم نے اب بھی اپنی اصلاح کی فکر نہ کی توآگے جاکر ہم اس سے بھی بڑی تباہی سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین وقت ضائع کیے بغیر اسلامی خطوط پر بچوں کی تربیت کا انتظام کردیں تاکہ کل کو کوئی اور معصوم فرشتہ دوسرے’’ معصوم‘‘ درندے کی درندگی کا نشانہ نہ بنے۔اﷲ پاک رب العزت سے دعا ہے کہ وہ تین سالہ حسنین کی لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saeed ullah Saeed

Read More Articles by Saeed ullah Saeed: 109 Articles with 69039 views »
سعیداللہ سعید کا تعلق ضلع بٹگرام کے گاوں سکرگاہ بالا سے ہے۔ موصوف اردو کالم نگار ہے اور پشتو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب س.. View More
10 Oct, 2016 Views: 385

Comments

آپ کی رائے