سارے مجھے ہی کیوں دھوکا دیتے ہیں

(Sana, Lahore)
وسعت مشاہدہ مطالعہ تجربہ آُپکو دھوکا کھانے سے بچا لیتے ہیں کیونکہ آپکو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب کیا کب کیوں ہونے کا امکان ہے

بہت سے لوگ اس لئے تنہائی پسند ہوتے ہیں کہ جی لوگوں نے ماضی میں دھوکا دیا اب وہ کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ انسانوں سے ملیں انکے بارے میں جانیں اپنے بارے میں جاننے دیں اور پھر طے کریں کہ کس کے ساتھ آپ کتنا چل سکتے ہیں

"سارے مجھے ہی استعمال کر جاتے ہیں" ، "سب کو میں ہی ملتا ہوں" ، " کوئی لائق اعتبار نہیں"

جب کوئی آپکی رقم لے کر بھاگ جائے، کوئی آپکا راز دوسروں کو بتا دے، کوئی آپکو ہاں کہہ کر بھی آپکا کام نہ کرے، کوئی آپکی توقعات پر پورا نہ اترے، کوئی آپکے جزبات کو روند دے اور پروا بھی نہ کرے اور آپ اسکی پروا کے لئے مرے جا رہے ہوں
اسطرح کے جملے مجھے ناصرف یہ کہ ٹین ایج میں کھڑے جزباتی قسم کے بچوں سے سننے کو ملتے ہیں بلکہ بہت میچور اور پختہ عمر کے لوگوں سے بھی اسی قسم کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔۔
اس طرح کی انیس بیس کے فرق کے ساتھ بہت سی کہانیاں مجھے اکثر سننے کو اور انکا حل بتانے کو ملتی رہتی ہیں۔ آپ دھوکا کب اور کیوں کھا جاتے ہیں اسکے پس منظر میں وجوہات دیکھیں تو کافی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں ۔
1. Emotional Immaturity
آپ کسی دوست کو ہی سامنے دکان سے سوڈا کی بوتل لانے کا کہیں اور وہ نہ کہہ دے آپکا ناک پھولنے لگے اور آنکھیں چڑھنے لگیں، آپکا انتہائی مہنگا لباس کسی کی نظر میں نہ جچے اور آپ کا چہرہ فیوز ہو جائے ، آپ اپنے حصے کی اسائنمنٹ ساتھ والے کو کرنے کے لئے کہیں اور وہ نہ کہہ دے اور آُکو اپنا آپ سنبھالنا مشکل لگے تو
اسکا مطلب ہہے کہ آپ ابھی جزباتی طور پر میچور نہیں ہوئے۔
جزباتی امیچورٹی کو اگر آسان ترین الفاظ میں بیان کریں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ چھوٹی سی بات پ بھی آپکو اپنا آپ سنبھالنا مشکل لگے اور آپکے جزبات بے قابو ہو جائیں اسکو جزباتی نا پختگی کہیں گے۔
ذیادہ تر لوگ لڑکا یا لڑکی کی تفریق بھی نہیں جب کسی واقعے پر اپنا آپ سنبھال نہیں پاتے اور بے قابو ہو جاتے ہیں تو یہی واویلاکرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں نے دھوکا دیا فلاں نے ساتھ نہ دیا
کئی دفعہ معاملہ اتنا گھمبیر نہیں ہوتا مگر جزباتی نا پختگی معاملے کو ایسا رنگ دیتی ہے کہ نا جانے کتنی سنگین دھوکا دہی مظلوم کے ساتھ ہو گئی ہے۔
2. Relationship
فیس بک سے بات چلی نمبر کا تبادلہ ہوا اور پیار ہوا اقرار ہوا کوئی اور اچھی ڈی پی والا یا والی نظر آگئ پھر پیار اس سے ہو گیا ور پہلا چھوٹ گیا
آج کے دور میں یہ قصے ایکسٹرا عام ہو گئے ہیں۔ ماں باپ جو سار زندگی کے لئے انسان کے ساتھ ہوتے ہیں اور ساتھ نبھاتے بھی ہیں انکو آپ سنجیدگی سے نہ لیں اور دو دن پہلے ملے انسان کے اوپر انے وا بھوسہ ککریں اور اسکی ہر بات مننے لگیں اور جب وہ آپکی بات نہ مانے تو آپکا دل دکھ جاتا ہے اور یاد آتا ہے کہ مجھے دھوکا ملا۔
رشتوں کو گروپس میں بانٹنا سیکھِیں۔ کچھ خون کے رشتے جنکے بغیر زندگی میں رنگ اور مزہ نہیں انکے ساتھ چلنا وقت گزارنا اور کام آنا سیکھیں۔
کچھ ورک پلیس کے رشتے جنکے ساتھ ایک حد تک ساتھ نبھانا اور چلنا سیکھیں۔
کچھ دوست جنکو وقت ہو گیا ہو آپکے ساتھ اور آپکو انکی عادات وخصائل کا بھی پتہ ہو انکے ساتھ تعلق کو بہتر بنانا اور مزہ کرنا سیکھیں
یہ نہیں کہ ہر انسان جو کل ملے اسکو آج میں بہترین دوست مان لیں اور بعد میں تعلق نبھ نہ سکے تو رو نے بیٹھ جائین۔
جب آپ فیملی کو کچھ سمجھیں نہ اور کل کے لوگوں کو سر پر بٹھائیں تو دھوکا اور دھکا یقینی ہو جاتا ہے۔
3. Lack of exposure
جب تجربہ مشاہدہ اور مطالعہ مل جائے تو یہ کہلاتا ہے ایکپوئیر ۔
ہم میڈیکل کی فیلڈ کے بارے میں ڈاکٹر سے ذیادہ نہیں جانتے، وکالت کے بارے میں وکیل سے رابطہ کرتے ہیں۔
انسانوں کے بارے میں بھی جاننے کے لئے انکے ساتھ بات چیت اور تعلق بنائیں مگر کس گروپ میں اور کتنا لمبا تعلق لے کر جانا ہے یہ انسان کے ساتھ وقت گزار سیکھیں۔
بہت سے لوگ اس لئے تنہائی پسند ہوتے ہیں کہ جی لوگوں نے ماضی میں دھوکا دیا اب وہ کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ انسانوں سے ملیں انکے بارے میں جانیں اپنے بارے میں جاننے دیں اور پھر طے کریں کہ کس کے ساتھ آپ کتنا چل سکتے ہیں۔
انسانوں کی عادات مزاج حالات جاننے سے پہلے ہم بہت پکی یاری بنانا چاہتے ہیں اور بعد میں کوئی خلاف توقع بات ہو جائے تو ہمیں دکھ ہونے لگتا ہے۔
مشاہدہ اور تجربہ کریں پھر فیصلہ لیں۔
وسعت مشاہدہ مطالعہ تجربہ آُپکو دھوکا کھانے سے بچا لیتے ہیں کیونکہ آپکو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب کیا کب کیوں ہونے کا امکان ہے
4. Taking so seriously
میرا دوست میرا موبائل کیسے استعمال کر سکتا ہے۔ میرا دوست میرے ساتھ ایسا مزاق کیسے کرسکتا ہے۔ میرے میسج کو اگنور کیسے کر سکتا ہے۔
اس طرح کی بہت سے باتیں اکثر لوگ بہت سنجیدگی سے اپنے اوپر طاری کرلیتے ہیں اور اسکے ساتھ افسردگی کو بھی اپنا لیتے ہیں۔
اول تو یہ کہ جسکے ساتھ آپکا صڑف سلام دعا کا رشتہ ہو اسکی کوئی حرکت آپکو اتنا دکھی نہیں کر سکتی اگر کر سکتی ہے تو آُ پ جزباتی کمزور ہیں۔
اگر کسی قریبی کی بات دکھی کرتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس نے آُپکو دکھ دینے کے لئے ہی یہ حرکت کی ہو۔ مزاق کو مزاق کی طرح انجوائے کرنا سیکھیں۔
کبھی کبھا بہت سے لوگ مزااق کو بہت سنجیدہ لے کر دوستی کا تیاناس کر لیتے ہیں۔
کوئی رقم لے کر واپس نہ کرے آپکے گھر والوں سے بدتمیزی کرے وغیرہ وغیرہ ایسی بات کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے انسان کے متعلق ضرور سوچیں کہ آگے چلنا ہے یا نہیں۔
اکثر لوگ سنجیدہ وہاں ہوتے ہیں جہاں نہیں ہونے کی ضرورت ہوتی، جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں نہیں ہوتے

5. Not listening Intuition
"اوہ میرے دل میں خیال آرہا تھا کہ نہ بتاؤں پھر بھی بتا دیا" " مجھے لگ رہا تھا کہ یہ کام اس سے نہیں ہونا پھر بھی دے دیا"
اسطرح کئی دفعہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے اللہ نے ہمارے اندر ایک نظام رکھا ہے جو ہمیں گائیڈ کر رہا ہوتا ہے اسکو سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ وقت تنہائی میں نیچر کے ساتھ غورو فکر کرتے ہوئے گزارنا ہوتا ہے۔
ذیادہ تر لوگ کرت نہیں۔ جو تنہا ہوں بھی موبائل نہی چھوڑتا۔ سو جاننا اور پہچاننا سیکھیں کہ اندر کی آواز کو سننا اور اس پر غور کرنا سیکھیں۔ اگر آُ جزباتی مضبوط ہوں آپکا ایکسپوئیر ہو تو آپکا اندر آُپکو کام کی بات بتاتا ہے۔
6. WE teach people how to treat us
" میں نے ایک دفعہ اسائنمنٹ بنادی مگر یہ اب پیچھے پڑ گیئی ہے۔ " میں نے ایک دفعہ میسج کا ریپلائی کیا یہ پیچھے پڑگیا"
ہم خود اپنے روئیے سے لوگوں کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیسا سلوک کرو۔ ہم اپنے گھر والوں کا مزاق اڑا رہے ہوں ایک وقت آتا ہے کہ جنکے ساتھ ہم مزاق اڑا رہے ہوں وہ بھی اڑانے لگتے ہیں اور پھر ہمیں برا لگنے لگ جاتا ہے۔
اسی طرح کی بے شمار چھوٹی بڑی مثالیں آپکو مل سکتی ہیں جب کسی معاملے میں ہم خود کسی کو برا کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور ہمیں پتہ لگتا ہے تو دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
کبھی بھی باہر کے لوگوں کو اپنے گھر تک رسائی اپنے بچوں تک مت لے کر جائیں خاص طور پر جب آپکو جمع جمع آٹھ دن ہوئے ہوں۔ کیونکہ آج کے حالات احتیاط کا تقاضا کرتے ہِیں۔
7. As you sow
So shall you reap
اکثر بات سے بات یوں نکلتی ہے کہ بہت آرام سے اندازہ ہو جاتا ہے سامنے شکایت کرنے والے نے کبھی نہ کبھی کسی کو دھوکا ضرور دیا ہے۔

اور جب دھوکا خود تک لوٹ آیا ہے تو اب سمجھ نہیں آرہی
کسی کے لئے بھی برا نہ سوچں نہ کریں۔
دل میں اچھا خیال رکھیں اور عمل بھی اچھا کریں اللہ خود آُپکو بچائے گا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178748 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
23 Nov, 2016 Views: 984

Comments

آپ کی رائے
nice sister
By: Abrish anmol, Sargodha on Dec, 14 2016
Reply Reply
0 Like
good job sana sis
By: umama khan, kohat on Dec, 11 2016
Reply Reply
0 Like
Aap ne bohat acha likha, bohat acha laga. But kuch cheezain by defult hoti hain, kuch cheezoon ko aap modify kar saktey hain aur kuch cheezain hard facts hoteen hain. abi kisi ki nature ko aap change nahee kar saktey.. ye by Defult hai. misalain to bohat dey sakta hon koi faida nahee. aap say bohat kcuh seekhney ko mila. thanks and keep it up, we need social development.
By: Muhammad Imran Khan, Peshawar on Dec, 08 2016
Reply Reply
0 Like
آپ اگر غور کریں تو میں نے ڈسکس ہی ان باتوں اور چیزوں کو کیا ہے
جو انسان کے اختیار میں ہیں جنکے حوالے سے انسان کام کر سکتا ہے
تعریف کے لئے شکریہ
انسان دوسروں کو فائدہ دینے ی نیت سے لکھے تو بات اثر ضرور کرتی ہے
By: sana, Lahore on Dec, 21 2016
0 Like