ادویاتی تعلیمی اداروں کی اصلاح ، پیشہ فارمیسی کی ترقی و خوشحالی کا نقطہ آغاز

(Dr Taha Nazeer, )
ادویاتی اساتذہ کے تدریسیAcademic اور تنظیمی Adminitrativeکردارکا تجزیاتی جائزہ۔
قوموں کی ترقی میں علم بنیادی حثیت رکھتا ہے۔ جو پیچیدہ مسائل کا سنجیدہ حل دیتا ہے۔ انسانی زندگی میں خوبصورتی و توازن لاتا ہے۔ گمراہی اور جہالت کے اندھیرے ختم کرتا ہے۔ ظلم و ناانصافی کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ اور انسان کو غلامیوں اور پابندیوں سے آزاد کر کے خود شناسی اور خدا پرستی سے آشنا کرتاہے۔جو قومیں علم کے راستے پر چل پڑیں ،تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنی منزل پر پہنچنے سے نہ روک سکی۔ معلم یا استاد معاشرے میں چراغ کی حثیت رکھتا ہے۔ جو اندھیروں میں اجالا فراہم کرتا ہے۔ مایوسیوں کو ختم کر کے امیدوں کے نئے دیپ روشن کرتا ہے۔ پسماند ہ و درماندہ قوموں میں زندگی کی نئی روح پھونک دیتا ہے۔ جو سالار قافلہ بھی ہے اور یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کی زند ہ مثال بھی ۔ جو صنعت نوع انسانی کاصورت گراور قسمت نو ع بشر کاکاریگر ہے۔ روشنیوں کا سوداگر اور اجالوں کا مسافر ہے۔

مگردوسری طرف جب ہم عملی زندگی کا نظارہ کرتے ہیں تو حقیقت باالکل اسکے برعکس نظر آتی ہے۔جہاں ادویاتی استاد کو جب انتظامی اختیارات دیئے گئے تو یہ ترقی و خوشحالی کیلئے کوئی قابل ذکر کام انجام دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ہم اسکے تعلیمی و تدریسی کردار کی بات نہیں کرتے ۔ جو یقینا قابل قدر اور اپنی بھر پور افادیت کاحامل ہے۔ ہم ادویاتی اساتذہ کے تنظیمی Administrative/ Managerialکر دارمیں ناکامی کی بات کرتے ہیں۔ جہاں انہوں نے قانون و اخلاق کی دہجیاں اڑا دیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن Higher Education Commission (HEC)اور پاکستان فارمیسی کونسل کے وضع کردہ قوائد کی سرعام خلاف ورزیاں کیں۔ HEC کے مختلف مقامات پر متفرق اوقات میں ہونے والے اجلاسوں میں بھر پور شرکت کی۔ اور پنے اپنے ادارے میں بین الاقوامی طرزکے پانچ معیاری تدریسی اور تحقیقی شعبہ جاب بنانے کے تحریر ی اور تقریری وعدے کئے۔ مگر پھر ببانگ دہل انکی خلاف ورزی کی۔ تدریس جیسے مقدس و محتر م پیشے میں اپنے انتظامی اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا۔ بددیانتی و بد عنوانی کے نئے باب رقم کئے۔ ادویات و طب کی تحقیق کے ساتھ کرپشن کے نت نئے طریقے Techniquesایجاد کئے۔امتحانات جیسی اہم ذمہ داری کو بھی انتہائی مہارت سے اپنی ناجائز آمدنی کا وسیلہ بنا لیا۔ اداروں میں اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے نہ صرف نئے اساتذہ کی بھرتی کے خلاف ڈٹ گئے ، بلکہ اسے اپنی پیشہ ورانہ ملازمت کیلئے زندگی اور مو ت کو مسئلہ بنا لیا۔ جس سے نہ صرف طلبہ و طالبات معیاری تعلیم اور جدید تربیت سے محروم ہوگئے۔ بلکہ پیشہ فارمیسی کے تدریسی اداروں میں نئے لوگوں کی آمد کا سلسلہ بھی بند ہو گیا۔

مزید براں،یہی اساتذہ پھر پیشہ ورانہ تنظیم پاکستان فارماسسٹ اسوسی ایشن PPA کوبھی اپنی بد دیانتی و بد عنوانی کی پردہ پوشی کے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اپنے اختیارات کے دوام اور وسعت کا زریعہ بنا لیتے ہیں۔ پو ری فارمیسی برادری کوپنا محکو م او ر غلام بنانے کی مکروہ کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ کچھ لو گ اپنے مقدمہ کی پیروی کیلئے وکیل بھی کرنے کو تکلف نہیں کرتے ، بلکہ وہ سیدھا جج کرتے ہیں۔ اور پھرمسلم لیگ (ن)کی طرح اپنی مرضی کے فیصلے لے لیتے ہیں۔ یہاں پیشہ فارمیسی کے الیکشن کا طریق کار Mechanism بھی کچھ ایساہی ہے ۔ جہاں ڈرگ کنٹرولر سیدھا فیکٹری مالکان سے رابطہ کرتے ہیں۔جبکہ دیگر انتظامی ادویاتی افسران اور سربراہان ادارجات پورے سٹاف کا سودا کر لیتے ہیں۔ اور پوری فارمیسی برادری کا بیک وقت فیصلہ ہو جاتا ہے۔ منتخب ہونے والے نمائندگان Electables کو غیر جمہوری انداز میں چنا Selectablesبنا لیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس طے شدہ انتخابی طریق کار Engineered Election کی کوکھ سے پیدا ہونے والی کابینہ بھلا کیسے کو ئی قابل ذکر کام کریگی۔
 
چنانچہ اداروں اور تنظیموں کی یہ ناکامیاں پھر پوری فارمیسی برادری کی محرومیوں کا سبب بن جاتیں ہیں۔ اور ہمارا مقصود ہرگز ادویاتی اساتذہ کی توہین کرنا مقصود نہیں۔ بلکہ انکے انتظامی کردار کی ناکامی کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔ جس کودرست انداز میں سمجھ کر شائد پاکستا نی حکام، قانون دان اورسیاستدان بہتر لائحہ عمل تیار Design کر کے معیاری ادویاتی و طبی سہولیا ت کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ پورے ملک میں کہیں مجوزہ تعلیمی و تحقیقی نظام رائج نہیں۔ کہیں مطلوبہ اساتذہ کی تعداد میسر نہیں۔ کہیں متعلقہ کتب اور تعلیمی مواد میسر نہیں۔ کہیں تجرگاہوں میں مطلوبہ کیمیائی مرکبات ، آلات اور اوزار نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ چیزیں سربراہان کی ترجیحات ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صر ف اپنی دادا گیر ی قائم کر نی ہے۔ اختیارات و اقتدار بچانا ہے۔ مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ادارے چاہیں تباہ ہو جائیں، پوری فارمیسی برادری مٹ جائے ، نظام برباد ہو جائے، انہیں اسکی پرواہ نہیں۔ ان کا اقتدار سلامت رہے۔ اختیارا ت کا سورج کبھی غروب نہ ہو۔ جاہ و جلال اور دبدبہ بر قرار رہنا چاہئے۔ جو یقینا خوددار ، غیرتمند اور حریت پسندلوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔

پوری دنیا میں انتظامی و دفتری اور تعلیمی و تحقیقی معاملات دو الگ الگ کردار جانے اور مانے جاتے ہیں۔اگرکسی ادارے میں انتظامی اسامی مشتہر کی گئی ہو۔ توامیدوار کے تحقیقی و تعلیمی پس منظر کو زیادہ وزن نہیں دیا جاتا۔ اگر تدریسی و تحقیقی منصب کے امیدوار ہوں توپھر انکی زندگی کے انتظامی و دفتری پس منظر کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں انتظامی عہدوں پر فائز افسران اساتذہ ہی سائنسی اعتبا رسے ترقی کرتے ہیں ۔ وہی اعلی تعلیم کی تحقیق کے نگران ہو تے ہیں۔ بس انہیں کے تحقیقی مقالا جا ت Articlesشائع ہوتے ہیں۔ یہی کانفرنسز اور تحقیقی سیمینارز کی رونق ہوتے ہیں۔ جو یقینا منطقی اعتبا ر سے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ اگر ایک افسر دیانتداری سے شعبہ ادویات کی نگرانی کرے، اپنے مضمون کی مناسب تدریسTeachingبھی کرے۔ اورپھر تمام انتظامی معاملات بھی بحسن و حوبی انجام دے۔ تو وہ ہرگز تحقیق و اشاعت اور ایجاد و ایجاب کا وہ کام کر ہی نہیں سکتے جس کا عمو ماً دعوٰی فرمایا جاتاہے۔ یہ انکی بد دیانتی کا منہ بولتا ثبوت اور کرپشن کی ناقابل تردید شہادت ہے۔ ہم اپنی با ت کی سچائی ثابت کرنے کیلئے شعبہ فارمیسی ، یونیورسٹی آف سرگودہا کے سربراہDean ,نگرانChairman ، الحاق کمیٹی کے رکن، سینڈیکیٹ کے(سابقہ) رکن Ex-Member Syndicate کی مثال دینگے۔ جناب موصوف یہ تمام مناسک پر بیک وقت فائز تھے۔ پھر بھی ایسا ناقابل یقین کارنامہ انجام دیاجو ادویات کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ایم فل M.Phil کی پندرہ طلبہ و طالبات پر مشتمل پوری کلاس کی سائینسی نگرانیSupervision کی ہے۔ پی ایچ ڈی PhDکے سکالرز اس کے علاوہ ہیں۔ جو نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان فارمیسی کونسل کے ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ تعلیمی بدیانتی اور اداروں کی توہین بھی ہے۔ جس کی بنیاد پر جناب موصوف کو نوبل پرائز ملنا چاہئے یا پھر کم از کم انکا نام دنیا کی کتاب Ganz Book of World Recordمیں تو ضرور آنا چاہئے۔

چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ ادویاتی اداروں کے اساتذہ کے انتظامی معاملات میں ناکامی ہی دراصل پیشہ فارمیسی کے نظام طب و صحت میں ناکامی کا سبب ہے۔ اداروں کے سربراہان Deansاور نگرانChairmansنہ صرف تعلیمی اداروں میں کرپشن برپا کرنے کے جرم میں ملوث ہیں۔ بلکہ بے کس و بے حال مریضوں کو معیاری ادویاتی سہولیا ت کی فراہمی میں بھی رکاوٹ ہیں۔یہی لوگ غلط ادویات کے استعمال سے بے موت مرنے والوں کے انسانیت سوز جرم میں شریک ہیں۔ اہل علم و دانش اور ارباب اقتدار کو یقینا باقی دنیا کی طرح ادویاتی استاد کے انتظامی کر دار کی ناکامی کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ انتظامی اور تدریسی، دفتری و تحقیقی کردار کی نمایاں تخصیص کر نی چاہئے۔ نظام صحت اور تعلیمی طریق کار کو تباہ کرنے والی ہستیوں کی نشان دہی ہونی چاہئے۔ فلاح انسانیت کے لئے انکی مناسب تفتیش اور سزا ملنی چاہئے۔ ان انتظامی شخصیات کی ناکامی ہی کی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ کراچی سے خیبر تک کہیں آپکو HEC اور فارمیسی کونسل کے مجوزہ پانچ تعلیمی و تحقیقی شعبہ جا ت نہیں ملیں گے۔ کہیں اساتذہFaculty کی مطلوبہ تعداد Teacher Student Ratioنہیں ہوگی۔ کہیں معقول علمی مواد اور کتب میسر نہیں ہونگی۔ کہیں ادویاتی عمل کاری Pharmacy Practice نہیں ملے گی۔ کہیں تحقیقی رسالہ جات اوربرقی معلومات Subscription of research data نہیں ملیں گی۔ حتٰی کہ پانچ نگرانون Chairmans اور انکے متعلقہ عملہ Staff کا صحیح انتظامی ڈھانچہ بھی نہیں ملے گا۔ تجربہ گاہوں میں مناسب تحقیقی آلات اور اوزار نہیں ہونگے۔ جو ادویاتی اداروں کے سربراہ اساتذہ کی ناکامیوں کی روشن دلیلیں ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Taha Nazeer

Read More Articles by Dr Taha Nazeer: 2 Articles with 1209 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2016 Views: 624

Comments

آپ کی رائے