علم الرجال-مختصر تعارف

(Muhammad Nadir Waseem, Bhakkar)

علم الرجال سے ﻣﺮﺍﺩ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺧﺎﺹ ﺷﻌﺒۂ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺟﺎﻝِ ﺣﺪﯾﺚ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﺍﻭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ، ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ، ﻭﻓﺎﺕ، ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﻭ ﺗﻼﻣﺬﮦ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ، ﻃﻠﺐ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻔﺮ، ﺛﻘﮧ ﻭ ﻏﯿﺮ ﺛﻘﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦِ ﻋﻠﻢِ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﺩﺭﺝ ﮨﻮﮞ۔
ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺑﮩﺖ ﻭﺳﯿﻊ، ﻣﻔﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﮨﮯ۔
اس علم کی بدولت حدیث صحیح کو ضعیف،محفوظ کو معلول اور قوی کو سقیم سے ممتاز کیا جاتا ہے.اس علم کا حاصل کرنا فرض کفایہ ہے.
ابن مدینی- رحمہ اللہ- لکہتے ہیں کہ وہ نصوص شریعہ جو ہم تک رجال کے واسطے سے پہنچی ہیں جب تک ان نصوص (روايات)كے ناقلین کی ثقہت معلوم نہ ہو جائے ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا.
رجال کی معرفت علم الحدیث کا نصف ہے اور دوسرا نصف وہ متون ہیں جو اسناد کے ذریعے ہم تک پہنچتیے ہیں.
عبدالرحمن بن ابی حاتم مقدمہ الجرح والتعدیل میں فرماتے ہیں کہ جب ہمیں کتاب اللہ اور سنن رسول اللہ کے معانی معلوم نہ ہوں اور ہم اسے روایت کے ذریعے معلوم کریں تو اس روایت کے رواة کا عدالت، ثقہت، حفظ ،تثبت اور اتقان کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہے.
علم رجال کی اسی ہمیت کے پیش نظر ہل علم نے اس کو ہمیت دی اور اس میں سینکڑوں ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑھیںﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻻﮐﮫ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﯿﮟ۔جو شخص علوم الحدیث میں دسترس حاصل کرنا چہتا ہے اسکے لیے ضروری ہے کہ اسے بہت سے رواة کے احوال زبانی معلوم ہوں تاکہ وہ حدیث سند کی پختگی جان سکے.
رجال کے اسماء اور احوال یاد کرنے کے دو طریقے ہیں.
پہلا طریقہ:یہ بنیادی اور بہتر طریقہ ہے.اسکے لیے کتب حدیث میں سے سند کے ساتھ حدیث کو پڑھا جائے اور پھر اس سند کے رواة کے احوال کتب الرجال سے معلوم کیے جائیں یہ طریقہ راوی کے طبقہ،شیوخ اور تلامذہ کے بارے میں معلومات یاد کرنے میں ممد و معاون ہے.
دوسرا طریقہ:اس طریقہ میں کتب الرجال سے برہ راست راوی کی واقفیت حاصل کی جاتی ہے.
محدثین نے رواة کو کئی تقاسیم اور طبقات میں تقسیم کیا ہے ان میں سے حافظ ابن حجر کی تقسیم سب سے زیادہ مشہور اور بہتر ہے.انہوں نے رواة کو بارہ طبقات میں تقسیم کیا ہے.پہلا طبقہ صحابہ کرام پر مشتمل ہے اور تمام صحابہ جمہور علماء کے نزدیک عدول ہیں. صحابة کے مراتب بھی مختلف ہیں بعض وہ صحابہ ہیں جو سفر و حضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور بعض وہ ہیں جن کی صرف رؤیت ثابت ہے روایت حدیث میں ان سے کچھ ثابت نہیں. صحابہ کرام میں سے بعض نے ہزار سے زائد احادیث روایت کی ہیں محدثین نے ان کو مکثرین کا نام دیا ہے.ان میں سرفہرست ابوہریرہ ہیں جن سے ٥٣٧٤احادیث مروی ہیں انکے بعد بالترتیب عبداللہ بن عمر2630،أنس بن مالك٢٢٨٦،حضرت عائشة ٢٢١٠، عبداللہ بن عباس ١٦٦٠،جابر بن عبداللہ ١٥٤٠،أبوسعيدالخدري١١٧٠أحاديث روایت کی ہیں.
انکے بعد مائین کا نمبر آتہے ان میں سے عبداللہ بن عمر بن مسعود848،عبداللہ بن عمرو بن العاص٧٠٠،علي بن أبي طالب نے٥٣٧ احادیث روایت کی ہیں.
دوسرا طبقہ کبار تابعین کا ہے جن میں مخضرمین بھی شامل ہیں
مخضرم سے مراد جس نے زمانہ جاھلیت پایا ہو اور دور رسالت مآب میں اسلام قبول کیا لیکن ملاقات و رویت سے محروم رہا.انکا شماربالاتفاق تابعین میں ہوتا ہے. ﻣﺴﻠﻢ نے بیس کے نزدیک مخضرمین کا ذکر کیا ہے ان کے أسماء یہ ہیںﺃﺑﻮ ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻟﺸﻴﺒﺎ ﻧﻲ ،ﺳﻮﻳﺪ ﺑﻦ ﻏﻔﻠﺔ ﺍﻟﻜﻨﺪﻱ ،ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻣﻴﻤﻮﻥ ﺍ ﻷ ﻭ ﺩ ﻱ ،ﻋﺒﺪ ﺧﻴﺮ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺍﻟﺨَﻴْﻮَ ﺍﻧِﻲ ،ﺃﺑﻮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﻟﻨﻬﺪﻱ ،ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻣﻞ ،ﺃﺑﻮ ﺍﻟﺤَﻠَﺎﻝ ﺍﻟﻌَﺘَﻜﻲ، ﺭﺑﻴﻌﺔ ﺑﻦ ﺯﺭﺍ ﺭ ﺓ، ﺃﺣﺰﺍﺏ ﺍﺑﻦ ﺃﺳﻴﺪ، ﺃﺳﻠﻢ ﺍﻟﻌﺪ ﻭﻱ ﻣﻮﻟﻰ ﻋﻤﺮ، ﺍﻷﺳﻮﺩ ﺍﺑﻦ ﻫﻼﻝ ﺍﻟﻤﺤﺎ ﺭﺑﻲ ﺃﺑﻮ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ، ﺃﻓﻠﺢ ﻣﻮﻟﻰ ﺃﺑﻲ ﺃﻳﻮﺏ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭﻱ،
ﺃﻗﺮﻉ ﻣﺆﺫﻥ ﻋﻤﺮ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ، ﺃﻭﺳﻂ ﺍﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺃﻭ ﺍﺑﻦ ﻋﺎمر، ﺃﻭﻳﺲ ﺍﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺍﻟﻘﺮﻧﻲ،ﺑُﺸﻴﺮ ﻣﺼﻐﺮ ﺍﺑﻦ ﻛﻌﺐ ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺍﻟﺤﻤﻴﺮﻱ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ وغيرہم
اس طبقہ میں مدینہ کے فقہائے سبعہ بھی آتے ہیں انکے اسماء درج ذیل ہیں ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﺴﻴﺐ ، ﻋﺮﻭﺓ ﺑﻦ ﺍﻟﺰﺑﻴﺮ،ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺍﻟﺼﺪﻳﻖ ، ﻋﺒﻴﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺘﺒﺔ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ، ﺧﺎﺭﺟﺔ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ، ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ،ﺃﺑﻮ ﺳﻠﻤﺔ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻋﻮﻑ
یہ طبقہ سعید بن مسیب کے طبقہ سے مشہور ہے.
تیسرا طبقہ اوساط تابعین کا طبقہ ہے جن میں حسن بصری اور ابن سیرین سرفہرست ہیں.
چوتھا طبقہ اوساط تابعین کے بعد والوں کا ہے اس میں امام زہری اور قتادة سرفہرست ہیں.
پانچواں طبقہ صغار تابعین کا ہے جنہوں نے ایک یا دو صحابہ کو دیکھا اور ان میں سے بعض کا صحابہ سے سماع ثابت نہیں.اس طبقہ میں أعمش سر فہرست ہیں.
چہٹا طبقہ ان تبع تابعین کا ہے جنہوں نے پانچویں طبقہ والے تابعین کا زمانہ پایا لیکن انکی صحابہ سے ملاقات ثابت نہیں.
ان میں ابن جریج سر فہرست ہیں.
ساتویں طبقہ میں کبار أتباع التابعین ہیں جیسے مالک اور ثوری وغیرہ.
آٹھویں طبقہ میں اوساط أتباع التابعین ہیں جیسے ابن عیینة اورابن علیة وغیرہما.
نویں طبقہ میں صغار اتباع التابعین ہیں جیسے یزید بن ہارون،امام شافعی، أبوداؤد الطیالسی اور عبدالرزاق وغيرہم.
دسویں طبقہ میں کبار تبع أتباع التابعین ہیں جیسے احمد بن حنبل رحمہ اللہ .
گیارہویں طبقہ میں أوساط أتباع أتباع التابعین ہیں جیسے امام ذھلی ، امام بخاری اور امام رحمہم اللہ .
اور بارہویں اور آخری طبقہ میں صغار أتباع أتباع التابعین ہیں جیسے امام ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہم.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Nadir Waseem

Read More Articles by Mohammad Nadir Waseem: 32 Articles with 37714 views »
I am student of MS (Hadith and its sciences). Want to become preacher of Islam and defend the allegations against Hadith and Sunnah... View More
29 Jan, 2017 Views: 2377

Comments

آپ کی رائے
excellent
By: nadir waseem, bhakkar on Feb, 01 2017
Reply Reply
0 Like