معاشرے میں فلموں،گانوں اور عشقیہ کہانیوں کا بڑھتارجحان:قابلِ توجہ واصلاح طلب

(Ata Ur Rehman Noori, India)
سفر،حضر،جلوت ،خلوت،گھر،دفتر،تعلیم گاہیں بلکہ ہرجگہ فلمی نغموں کی رسائی:ایک لمحہ فکریہ
آج دنیامیں گانے باجے کا شوروغل ہے۔شہر،بازار،گلی،کوچے اس فتنۂ عظیم سے دوچار ہے۔ناچنے،گانے والے اب گلوکار،اداکار،موسیقار، فنکار اورفلمی اسٹار جیسے دل فریب ناموں سے یاد کیے جاتے ہیں۔مردوزن کی مخلوط محفلوں کاانعقاد عروج پر ہے۔بڑے بڑے شادی ہال،کلب،بازار،نیشنل وانٹرنیشنل ہوٹل اور دیگر مقامات ان بے ہودہ کاموں کے لیے بُک کردیے جاتے ہیں جس کے لیے بھاری معاوضے اداکیے جاتے اور شو کے لیے خصوصی ٹکٹ جاری ہوتے ہیں۔چست وباریک لباس،میک اَپ سے آراستہ لڑکیاں مجرے کرتی ہیں،جسے ثقافت وکلچرکانام دیاجاتاہے۔عاشقانہ اشعار،ڈانس میں مہارت،جسم کی تھرتھراہٹ،آواز کی گڑگڑاہٹ،ڈھول باجوں اور موسیقی کی دھن میں کمال دکھانے والوں اور جنسی جذبات کواُبھارنے والوں کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا جاتاہے۔غیرمسلم آبادی سے اٹھ کر یہ مرض مسلم سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکاہے۔سفرہویاحضر،جلوت ہویاخلوت،گھرہویادفترہرجگہ فلمی نغموں کی رسائی ہے حتیٰ کہ اب کھانابھی بغیرگاناسنے نہیں بنتا۔ہماری قوم تباہی کے دہانے پر خوشی خوشی آرہی ہے اور اسے اس کے نقصانات کااحساس تک نہیں ہے۔ایک کم عمر لڑکا باپ کے موبائل پر جب خود سے ویڈیو دیکھتااور گانے سنتاہے توباپ کی مسرت کی انتہانہیں ہوتی ہے اور وہ یارانِ محفل میں اس بات کاذکر فخریہ انداز میں کرتاہے کہ میرابیٹاخودسے موبائل آپریٹ کرلیتاہے۔تُف ہے ایسے باپ پر جوبچے کوگناہ کے راستے پر جاتاہوادیکھ کرروکنے کی بجائے خوشی وانبساط محسوس کرتاہے۔ اب ہماری اسکول وکالج کا یہ حال ہوچکاہے کہ اﷲ کی پناہ۔جو جگہ قوم کے نونہالوں کی تربیت گاہ تھی اب وہ ناچ گانوں کی پریکٹس کااڈابنتی جارہی ہے۔یوم آزادی ہویا اسکول وکالج کی سالانہ گیدرنگ۔اسلامی تعلیمات اور شریعت مطہرہ کے احکام کوکس طرح پیروں تلے رونداجاتاہے یہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ان مجلسوں کاآغازتلاوت قرآن سے ہوتاہے،؟حمدونعت کانذرانہ پیش کیاجاتاہے،پھر اس کے بعد جوہوتاہے اسے جان بوجھ کرشریعت سے کھلواڑکہہ لیجیے یا دین سے دوری۔ہفتے دوہفتے بلکہ مہینے بھرپہلے سے ان محفلوں میں جو ناچ گانے اوررقص وسرورکے نمونے پیش کیے جانے والے ہوتے ہیں باضابطہ اساتذہ طلباء وطالبات کواس کی پریکٹس کرواتے ہیں۔جو اساتذہ قوم کے رہبرورہنماہیں،ترقی کے ضامن ہیں،وہی حضرات تعلیم وتربیت پر ناچ گانوں کوترجیح دیتے ہوئے ایسے پروگراموں کی تیاری میں مصروف نظرآتے ہیں۔پھریہ گلہ وشکوہ کیامعنی رکھتاہے کہ آخر معیار تعلیم کیوں گھٹ رہاہے؟اساتذہ کی عزت واہمیت موجودہ دور میں کیوں کم ہوتی جارہی ہیں؟ہماری قوم کے نونہال کیوں اونچی پوسٹ پرنہیں پہنچ پاتے؟جب قوم کے رہبرورہنماہی اپنے شاگردوں کواخلاقی گراوٹ کی تعلیم دیں گے،سرِمحفل ان سے ڈانس کروائیں گے،پھر یہ امیدکیوں کی جارہی ہے کہ وقار مسلم بحال ہوگا؟

سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیااساتذہ کرام کودینی احکام نہیں معلوم؟کیامنیجمینٹ باڈی کوشریعت کاپاس وخیال نہیں؟کیابطور مہمان خصوصی ایسے پروگرامات میں شرکت کرنے والوں کوفرمان خداورفرمان سول صلی اﷲ علیہ وسلم کاذرہ برابر احساس نہیں ؟گانوں باجوں کے متعلق قرآن وحدیث کی کیاتعلیم ہے؟صحابۂ کرام واکابرین امت کی کیارائے ہے؟کیاایسی محافل ومجالس میں شرکت جائز ہے ؟ گاناباجاکن لوگوں کامشغلہ ہے؟کیامسلمانوں کی روحانی غذاہے یہ؟اسلام تو ہم سے یہ کہتاہے کہ مخلوط مجالس کاانعقاد ناجائزہے،ان مجالس میں عورت نہ ہی گاسکتی ہے اور نہ ہی اپنے بناؤ سنگھار کااظہار کرسکتی ہے،جنھیں اسلام نے پردہ کی تعلیم دے کر باعزت ومکرم بنایاتھاآج کے’’ سرسید‘‘ کہلانے والے نام نہاد اساتذہ نے انھیں اسٹیج کی زینت بنادیا؟کیا یہی لوگ اپنی بیٹیوں کو اسٹیج پر نیم عریاں لباس میں رقص کرنے کی اجازت دیں گے؟حضرت عبدالرحمن بن ثابت فرماتے ہیں کہ رسول گرامی وقارصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ایک وقت آئے گاکہ میری امت کے کچھ لوگ زمین میں دب جائیں گے،شکلیں بدل جائیں گی اور آسمان سے پتھروں کی بارش کانزول ہوگا ،عرض کیا،کیاوہ کلمہ گوہوں گے؟فرمایا:ہاں!جب گانے باجے اور شراب عام ہوجائے گی اور ریشم پہناجائے گا۔(ترمذی)پیغمبراسلام صلی اﷲ علیہ وسلم توبانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں رکھ لیتے تھے،آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر اونٹوں کی گردنوں سے گھنٹیاں علاحدہ کردینے کاحکم فرمایاکہ گھنٹیاں شیطانی سازہیں۔(مسلم)جس گھرمیں جھانجھن یاگھنٹی ہواس میں فرشتے نہیں آتے ـ(نسائی)حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص کسی گلوکارہ کی مجلس میں بیٹھااور اس نے گاناسنا،قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ پگھلاکرڈالاجائے گا ۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہ فرماتی ہیں کہ جوشخص اس حالت میں فوت ہواکہ اس کے پاس گلوکارہ ہے،اس کاجنازہ مت پڑھو۔اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہانے ایک عورت کوگھرمیں دیکھاجوگارہی تھی اور خوشی میں اپنے سرکوگھمارہی تھی،آپ نے فرمایا:اُف!یہ توشیطان ہے ،اس کونکالو،اس کونکالو،اس کونکالو(بخاری)حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ راگ (گانا)دل میں نفاق پیداکرتاہے۔اگر واقعی تعلیمی بورڈ ایسے پروگرامات کاتقاضاکرتاہے تو ایساشیڈول بنایاجائے جس میں اسلامی احکام کی خلاف ورزی نہ ہو،اور والدین کو بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں،اگر وہ ایسی محافل میں شرکت کی اجازت طلب کریں جو شریعت کے مخالف ہوتوانھیں منع کریں اگر چہ وہ محفل ان کی کالج میں ہی کیوں کر نہ منعقد کی گئی ہو۔اہلیان شہر فضول خرچیوں سے پرہیز کریں کریں،فلم بینی سے پرہیز کریں اور خرافات سے بچیں۔اﷲ پاک عقل سلیم عطافرمائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 402467 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
01 Feb, 2017 Views: 600

Comments

آپ کی رائے