نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی تین انمول نصیحتیں

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)

حضرت ابوایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت ِعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں ایک شخص نے آکر عرض کیا:’’مجھے نصیحت کیجیے اور مختصر نصیحت کیجیے ‘‘ تو حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اُس شخص کی طرح نماز پڑھ جو رخصت کرنے والا ہو، اور کوئی ایسا کلام نہ کر جس سے تجھے آئندہ کل عذر کرنا پڑے ، اور اُس چیز سے ناامید ہوجا جولوگو ں کے ہاتھوں میں ہے ۔

مثل مشہور ہے کہ’’ بڑوں کا کلام بھی بڑا ہوتا ہے ‘‘ ان کے کلام میں یہ کمال ہوتا ہے کہ بظاہرمختصر مگر نہایت جامع ہوتا ہے ، حضورِاکرم صلی اﷲ علیہ وسلم تو اﷲ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے اونچے مرتبہ پر فائز ہیں، پھر آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو منجانب اﷲ جوامع الکلم کی خصوصیت بھی عطا فرمائی گئی ہے ، اس لیے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کا مختصر کلام بھی مکمل،مدلل اور جامع ہوتا ہے ، آپ صلی اﷲ علیہ و سلم بڑے بڑے حقائق مختصر لفظوں میں بیان فرمادیا کرتے ہیں، گویاآپ صلی اﷲ علیہ و سلم کا کلام ’’دریابکوزہ‘‘ کا مصداق ہوتا ہے ۔ پھر آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے کلام میں اختصار کے باوجود تفہیم کی پوری صلاحیت ہوتی تھی۔ حق یہ ہے کہ نوعِ انسانی نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے کلام سے زیادہ عمومی نفع کا حامل کلام نہ پہلے کبھی سنا،نہ بعد میں کبھی سنے گی،آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کا کلام تکلف سے پاک اور ہیبت و حلاوت کا گویاسنگم ہوتاہے ۔

حدیث ِبالا اس کی بہترین مثال ہے ، جس میں سائل نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم سے مختصر نصیحت کرنے کو کہا، تو ہمارے آقا صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی بے تکلف نصیحت فرمادی۔پیارے نصیحت کرتے رہیے ، اس لیے کہ آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں۔ ’’مُذَکِّر‘‘آپ کی صفت ہے ۔

پہلی نصیحت اصلاحِ اعمال کے لیے : اس لیے جب آپ صلی اﷲ علیہ و سلم سے نصیحت کی درخواست کی گئی، توفرمایا: اِذَا قُمْتَ فِی صَلٰوتِکَ فَصَلِّ صَلٰوۃَ مُوَدِّعٍیہ پہلی نصیحت ہے ، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ نماز ایسی پڑھو گویا یہ آخری نماز ہے ۔کیوں کہ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ فجر پڑھنے والے کو معلوم نہیں کہ اسے ظہر پڑھنے کا موقع ملے گا یانہیں اورظہر سے فارغ ہونے والے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ عصر و مغرب اورعشا کی نماز اداکرنے کی فرصت ملے گی یانہیں۔ اس حقیقت کی طرف قرآنِ کریم نے یوں اشارہ فرمایا: وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَداً (لقمان)کس کے ساتھ کل کیامعاملہ ہوگا؟یہ اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،اس لیے آج جو بھی نماز پڑھی جائے وہ آخری سمجھ کر پڑھی جائے ، اس سے یقیناً نماز میں خشوع پیداہوگا۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہو تو ماسوا اﷲ کو بالکل رخصت کرکے ساری توجہ اﷲتعالیٰ کی طرف کر لو، اس طرح نماز پڑھنے کا فائدہ یہ ہوگاکہ خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوگی، جو مطلوب و مقصود ہے ، اس سے نماز کی اصلاح ہوگی، حضرت مولانا قمرالزماں مدظلہ فرماتے ہیں: نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا اس سے بہتر علاج اور کیا ہوسکتا ہے ؟بزرگوں کی تمام تدابیرایک طرف، اور نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی تعلیم ایک طرف، آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے کتنا نافع علاج تجویز فرمایا،آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی ہدایت و نصیحت میں کس قدرنافعیت ہے ، اندازہ لگائیے ۔

اس نصیحت پر عمل کرنے سے تمام اعمال کی اصلاح ہوگی،کیوں کہ محدثین کی تشریح کے مطابق اس حدیث شریف کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف نماز ہی نہیں، بلکہ ہر عمل کو اِس تصور کے ساتھ کرو گویا یہ تمہارا آخری عمل ہے ۔

ایک واقعہ : چناں چہ صحابہ کرامؓ اور بزرگوں کا طرزِ عمل یہی تھا، سلیمان بن عبدالملک ایک مرتبہ حضرت ابو حازم ؒ کی خدمت میں پہنچے ، اور سوال کیا کہ حضرت ! کیا وجہ ہے کہ موت سے ہمیں خوف ہوتا ہے ؟ حضرتؒ نے فرمایا: ’’اس لیے کہ تم نے دنیا کو آباد اور آخرت کو برباد کیا، ظاہربات ہے کہ ہر شخص آبادی سے ویرانی کی طرف جانے سے خوف ہی کرتا ہے، سلیمان نے کہا: آپ نے بالکل سچ فرمایا، پھر کہا:حضرت! ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ ربِ کریم کے یہاں ہمارا کیا حال ہوگا؟ یعنی مرنے کے بعد کیاہوگا؟حضرتؒ نے فرمایا:اپنی حالت قرآنِ کریم کے سامنے پیش کرو، تمہیں اﷲ تعالیٰ کے یہاں کا اپنا حال معلوم ہو جائے گا، قرآن کہتا ہے :اِنَّ الأَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَِاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ(الانفطار)یقین رکھو کہ نیک لوگ یقیناً بڑی نعمتوں میں ہوں گے ، اور بدکار لوگ ضرور دوزخ میں ہوں گے ۔سلیمان نے کہا: حضرت! پھر اﷲ کی رحمت کہاں گئی؟ فرمایا: وہ تو نیکوں اور محسنوں کے قریب ہے ، قرآن پاک میں فرمایا:اِنَّ رَحْمَۃَ اﷲِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(الأعراف )یقیناً اﷲ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے ۔سلیمان نے کہا: حضرت! مرنے کے بعد باری تعالیٰ کے دربار میں ہم کیسے جائیں گے ؟ فرمایا: نیک لوگ تو اس طرح دربارِ الٰہی میں حاضر ہوں گے جیسے سالوں کے بعدسفر سے لوٹنے والا مسافر جب گھر آتا ہے تو بہت خوش ہو کر آتا ہے ، اور برے لوگ اس طرح پیش کیے جائیں گے جیسے مدتوں سے بھاگا ہوا مجرم اورغلام جب پکڑا جاتا ہے تو حسرت کناں اورخوفزدہ ہوتا ہے، یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک رونے لگے ، اس کے بعد کہا: حضرت! آپ نماز کس طرح پڑھتے ہیں؟ فرمایا :جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو اولاً جملہ فرائض وسنن اور آداب کی رعایت کے ساتھ کامل اور مکمل وضو کرتا ہوں، پھر قبلہ کی طرف منھ کر کے کعبۃ اﷲکو سامنے ، جنت کو دائیں ، جہنم کو بائیں، پل صراط کو نیچے ،موت کو پیچھے اور حق تعالیٰ کو علیم وخبیر تصور کر کے اس خیال سے نماز پڑھتا ہوں کہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے ۔ یہ حضرات ’’فَصَلِّ صَلٰوۃَ مُوَدِّعٍ‘‘ پر حقیقی اور صحیح معنیٰ میں عمل کرنے والے تھے ۔ سلیمان نے عرض کیا: حضرت! کتنے عرصہ سے آپ اس طرح نماز پڑھتے ہیں؟فرمایا: الحمد ﷲ، چالیس سال سے یہی معمول ہے۔سلیمان نے کہا: کاش!زندگی میں ایک نماز
بھی ایسی نصیب ہو جائے تو کامیاب ہوں(کراماتِ اولیاء)
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی
دوسری نصیحت اصلاحِ اقوال کے لیے:دوسری نصیحت یہ فرمائی کہ ’’وَلاَ تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْذِرُ مِنْہُ غَداً‘‘کوئی ایسا کلام زبان سے نہ نکل جائے جس کی وجہ سے بعد میں شرمندگی ہو۔ اس سے اصلاحِ اقوال کی طرف رہبری فرمائی گئی ہے ، کیوں کہ زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں ہوتا، کیا تیر کو کمان سے چھوٹ کر کمان میں واپس آتے ہوئے کسی نے دیکھاہے ؟ جیسے سوچ سمجھ کر تیر چلایاجاتاہے ، ایسے ہی سوچ سمجھ کر زبان چلائی جائے ۔منقول ہے کہ کسی موقع پر مختلف ممالک کے چار حکمران جمع ہوئے ، اور ہر ایک نے ایک ایک ایسی بات کہی گویا ایک ہی کمان سے نکلے ہوئے تیر ہیں:
۱)شاہ کسرٰی نے کہا کہ جو بات میں نے کہی نہیں اس پر ندامت نہیں، البتہ کہی ہوئی بات پرکبھی ندامت بھی ہوتی ہے ۔
۲)شاہِ چین کہنے لگاکہ جو بات میں نے کہی نہیں وہ میرے قابو میں ہے ، مگر جب میں نے کوئی بات کہہ دی تواب وہ میرے قابو میں نہیں رہی۔
۳)شاہِ روم کہتاہے کہ جو بات میں نے نہیں کہی مجھے اس کے کہنے کی طاقت ہے ، مگر جو بات میں کہہ چکا مجھے اس کے ردکرنے کی طاقت نہیں۔
۴)شاہِ ہند کاکہناتھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو ایسی بات کرے کہ جب اس کا چرچا کیا جائے تو نقصان ہو، اور اُسے عام نہ کیاجائے تو نفع بھی نہ ہو۔ خلاصہ وہی ہے جس کا حدیث بالا میں ذکر کیاگیا۔اِس کا عام مفہوم تو یہی ہے کہ جب بھی کوئی بات کہے تو سوچ سمجھ کرکہے ، تاکہ بعد میں دوست، احباب اور لوگوں کے سامنے غلط بیانی یا فضول گوئی پر عذر خواہی نہ کرنی پڑے ۔

دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ آج جو کچھ بولتے ہو صحیح بولو! کیوں کہ تمہاری زبان کا ہر قول ربِ کریم کے یہاں محفوظ ہوتا ہے ، قرآنِ پاک میں فرمایا:’’مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّالَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْد‘‘(قٓ) انسان کوئی لفظ زبان سے نہیں نکال پاتامگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتاہے۔مطلب یہ ہے کہ جب تمہارا ہر قول محفوظ و مکتوب ہے تو غلط بولنے پر کل قیامت کے دن عنداﷲ پکڑ ہوگی، پھر وہاں شرمندگی ہوگی، اس لیے ضروری ہے اے انسان! کہ زبان کا بول پہلے شریعت کی میزان میں تول، پھر بول، یہ مومن کی علامت ہے کہ مومن سوچ کر بولتاہے ، او رمنافق بول کر سوچتاہے ۔

تیسری نصیحت اصلاحِ اخلاق کے لیے :تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ اس میں اخلاق کی اصلاح فرمائی کہ لوگوں کے مال و دولت پر نظر مت کرو ۔فرمایا فَذَرْہُمْ یَاکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُْوْا(الحجر)انہیں ان کی حالت پر چھوڑدو کہ یہ خوب کھالیں اور مزے اڑالیں۔بس اﷲ تعالیٰ نے تمہیں حلال طریقہ سے کمانے پر جو کچھ دے دیااس پر قانع و صابر ہی نہیں، بلکہ شاکر بھی رہو۔ اسی میں عزت اور عافیت ہے ، عربی کا شاعر کہتا ہے :
اِضْرَعْ اِلٰی اﷲِ، وَ لَا تَضْرَعْ اِلٰی النَّاسِ
وَاقْنَعْ بِیَأسٍ فَاِنَّ الْعِزَّ فِی الْیَأسِ

اﷲ پاک کے سامنے عاجزی کرو، لوگوں کے سامنے خوشامدنہ کرواور قناعت اختیار کرو، لوگوں سے طمع نہ کرو، کیوں کہ عزت لوگوں سے نا امید ہونے میں ہے ۔

قارئین کرام !یاد رکھو کہ جب آدمی کسی عزیزقریب وغیرہ سے امید وابستہ کر لیتا ہے ، پھر اگر اس کی امید پوری نہیں ہوتی تو دل شکنی، مایوسی اور کبھی بدگمانی حتیٰ کہ جھگڑے تک کی نوبت آکر معاملہ دشمنی تک جا پہنچتا ہے ، اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی سے کوئی امید نہ رکھی جائے ، تمام امیدیں اﷲ تعالیٰ ہی سے وابستہ کریں، دعا بھی کریں کہ الٰہ العالمین ! ہماری پیشانیوں کو جیسے تو نے اپنی عنایت سے اپنے غیر کے سامنے جھکانے سے محفوظ فرمایا، ایسے ہی ہمارے ہاتھوں کو بھی اپنے غیر کے سامنے پھیلانے سے محفوظ فرما۔ کہتے ہیں :
کمالِ تشنگی میں بھی جگر کا خون پی جانا
پر کسی کے سامنے دست ِطلب دراز نہ کرنا
پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ مالداری مال و متاع جمع کرنے ہی کا نام نہیں ،بلکہ اصل مالداری یہ ہے کہ انسان کا دل چین و سکون سے لبریز ہو۔
تونگری بدل ست نہ بمال
و بزرگی بعقل ست نہ بسال(گلستاں)
یعنی اصل مالداری دل کی وسعت سے ہے ، نہ کہ مال کی کثرت سے ،اور بزرگی عقل کی وجہ سے ہے ، نہ کہ صرف سال گذارکر عمر رسیدہ ہو جانے سے ۔

اور دل کا غناء قناعت کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے حدیث میں اس کی نصیحت فرمائی گئی، کیوں کہ حرص کے ساتھ اگر ساری کائنات بھی مل جائے توکیاحاصل؟ایک کے بعد دوسرے کی طلب ہوتی ہے ، اس طرح بے چینی کے شکنجہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے ؟ البتہ اگر قناعت کی دولت حاصل ہوجائے تو قانع شخص فقیر رہ کر بھی شاہانہ زندگی بسر کر سکتا ہے ۔ قناعت کلید ِدولت ہے ،اس کے ہوتے ہوئے انسان ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں دولت مند رہتا ہے ، او راس سے عاری ہونے کی صورت میں خزانۂ قارون اور دولت ِفرعون و نمرود کی فراوانی کے باوجود مفلس بے مایہ رہتاہے ۔

کاش! ہم قناعت اختیار کرلیں تو پھر ہمیں زندگی کا وہ لطف حاصل ہوجائے جو بڑے بڑے دنیاداروں کو میسر نہیں۔ بہرحال! حدیث پاک میں جوتین انمول نصیحتیں فرمائیں، بظاہر مختصر ہیں، مگر حقیقت میں نہایت مفید اورجامع ہیں۔ اﷲ رب العزت ہمارے اعمال ، اقوال اور اخلاق کی اصلاح فرمادے(آمین بجاہ سید المرسلین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 104419 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2017 Views: 1132

Comments

آپ کی رائے
محترم رضوان اللہ صاحب، آپ کا ارٹکل پڑھا جو بہت اچھے انداز میں پیش کیا گیا تھا، ما شاء اللہ. مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس ارٹکل میں جو روایت پیش کی گئ ہے وہ ضعیف ہے. جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

روایت کی سند:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ جُبَيْرٍ، - مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ - عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم


روایت کا متن: ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول!صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ذرا اختصار کے ساتھ (دین کی اہم باتیں) سکھا دیجۓ. آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو نماز اس طرح پڑھو گویا تم دنیا سے رخصت ہونے والے ہو (اور یہ تمہاری زندگی کی آخری نماز ہے) اور ایسی کوئ بات نہ کرو کہ بعد میں اس پر معزرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے تم اس سے بے نیاز رہو.

(سنن ابن ماجہ، رقم: 4171، مسند احمد 5/412، حلیۃ الاولیاء 462/1 یہ روایت عثمان بن جبیر (مجہول الحال) راوی کی وجہ سے ضعیف ہے.)

مجہول الحال اس راوی کو کہتے ہیں جسکے حالات نا معلوم ہوں. گویا یہ روایت ذاتی طور پر غیر مستند ہے.

محدث حافظ زبیر علی زئ رحمہ اللہ نے اس روایت کے ضمن میں لکھا:
عثمان بن جبیر مجھول الحال، وثقہ ابن حبان وحدہ وللحدیث شواھد ضعیفۃ عند الحاکم (326/4-327)
ترجمہ: عثمان بن جبیر مجھول الحال راوی ہے اور صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے اسکو ثقہ کہا. اور اسکے شواہد امام حاکم کے نزدیک ضعیف ہیں.
دیکھیں: انوار الصحیفۃ فی الاحادیث ضعیفہ من السنن الاربعۃ صفحہ 527 رقم: 4171 المکتبہ اسلامیہ

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اسکے راوی عثمان بن جبیر الانصاری کو مقبول کہا. (تقریب التہذیب، رقم: 4453 صفحہ: 413 دار الیسر دارالمنہاج)
یاد رہے کہ جس راوی کو حافظ ابن حجر مقبول کہیں انکا مطلب ہوتا ہے کہ اسکی روایت صرف متابعت میں لی جاسکتی ہے جبکہ اس روایت کے شواہد امام حاکم کے نزدیک پہلے ہی ضعیف ہیں جیسا کہ اس عنصر کو حافظ زبیر نے لکھ بھی دیا. واللہ اعلم

اس سلسلہ میں بعض احباب کا خیال ہے کہ فضائل میں ضعیف روایات لی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ تحقیقی ارٹیکل ضرور پڑھیں:

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=78209
ضعیف حدیث پر فضائل میں عمل

بعض لوگ فضائل میں (جب مرضی کے مطابق ہوں تو) ضعیف روایات کو حجت تسلیم کرتے ہیں اور ان پر عمل کے قائل و فاعل ہیں لیکن محققین کا ایک گروہ ضعیف حدیث پر مطلقاً عمل نہ کرنے کا قائل و فاعل ہے، یعنی احکام و فضائل میں ان کے نزدیک ضعیف حدیث ناقابل عمل ہے۔ جمال الدین قاسمی (شامی) نے ضعیف حدیث کے بارے میں پہلا مسلک یہ نقل کیا ہے کہ:

"احکام ہوں یا فضائل، اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، اسے ابن سید الناس نے عیون الاثر میں ابن معین سے نقل کیا ہے۔ اور (سخاوی نے) فتح المغیث میں ابوبکر بن العربی سے منسوب کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ امام بخاری و امام مسلم کا یہی مسلک ہے صحیح بخاری کی شرط اس دلالت کرتی ہے۔ امام مسلم نے ضعیف حدیث کے راویوں پر سخت تنقید کی ہے جیساکہ ہم نے پہلے لکھ دیا ہے۔ دونوں اماموں نے اپنی کتابوں میں ضعیف روایات سے ایک روایت بھی فضائل و مناقب میں نقل نہیں کی"
(قواعد التحدیث ص ۱۱۳، الحدیث حضرو: ۴ ص ۷)

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرسل روایات کو سننے کے ہی قائل نہ تھے (دیکھئے مقدمۃ صحیح مسلم ح: ۲۱ والنکت علی کتاب ابن الصلاح ۵۵۳/۲) معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ضعیف حدیث کو فضائل میں بھی حجت تسلیم نہیں کرتے تھے۔

حافظ ابن حبان فرماتے ہیں:
"کأن ماروی الضعیف ومالم یرو فی الحکم سیان"
گویا کہ ضعیف جو روایت بیان کرے اور جس روایت کا وجود ہی نہ ہو، وہ دونوں حکم میں ایک برابر ہیں
(کتاب المجروحین: ۳۲۸/۱ ترجمۃ سعید بن زیاد بن قائد)

مروان (بن محمد الطاطری) کہتے ہیں کہ میں نے (امام) لیث بن سعد (المصری) سے کہا:
"آپ عصر کے بعد کیوں سوجاتے ہیں جبکہ ابن لهیعہ نے ہمیں عن عقیل عن مکحول عن النبی ﷺ کی سند سے حدیث بیان کی ہے کہ: جو شخص عصر کے بعد سوجائے پھر اس کی عقل زائل ہوجائے تو وہ صرف اپنے کو ہی ملامت کرے۔

لیث بن سعد نے جواب دیا:
"لا أدع ما ینفعني بحدیث ابن لهیعة عن عقیل"
مجھے جس چیز سے فائدہ پہنچتا ہے، میں اسے ابن لهیعہ کی عقیل سے حدیث کی وجہ سے نہیں چھوڑسکتا" (الکامل لابن عدی: ۱۴۶۳/۴ وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ امام لیث بن سعد بھی ضعیف حدیث پر فضائل میں عمل نہیں کرتے تھے۔

تنبیہ: ابن لهیعہ ضعیف بعد اختلاط و مدلس ہے اور یہ سند مرسل ہے لہٰذا ضعیف ہے۔
حافظ ابن حجر العسقلانی فرماتے ہیں کہ:

"ولا فرق في العمل بالحدیث في الأحکام أو فی الفضائل إذا لکل شرع"
احکام ہوں یا فضائل، ضعیف حدیث پر عمل کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ سب (اعمال) شریعت ہیں۔ (تبیین العجب بما ورد فی فضائل رجب ص ۷۳)
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Feb, 11 2017
Reply Reply
0 Like
MashAllah, thanks for sharing
By: Alina, Islamabad on Feb, 10 2017
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ