PSL فائنل، پاگل پن یا دلیرانہ قدم؟

(Wisal Khan, Karachi)

جب سے پاکستان سپرلیگ کافائنل لاہورمیں کرانے کااعلان سامنے آیاہے تب سے پورے ملک میں بھانت بھانت کی بولیوں کاسلسلہ بھی شروع ہوچکاہےPSLکے دوسرے ایڈیشن فروری 2017کاآغازگزشتہ ایونٹ کی طرح متحدہ عرب امارات میں ہوااسکی افتتاحی تقریب میں ہی یہ اعلان سامنے آیاکہ لیگ کافائنل لاہورمیں کرانے کی کوشش کی جائیگی جوں جوں ایونٹ اختتام کی جانب گامزن ہوالاہورمیں فائنل کرانے کامطالبہ زورپکڑنے لگاپاکستانی عوام کرکٹ کودیوانگی کی حدتک چاہتی ہے مگر2009میں لاہورہی میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پردہشت گردحملے کے بعدپاکستان کے میدان ویران ہوگئے اس سے قبل جب دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی اورپاکستان میں آئے روزخودکش دھماکوں کے سلسلے نے دوام پایاتوانٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی جانب سے پاکستان آکرکرکٹ کھیلنے سے انکار کیا گیا مگر پاکستان کرکٹ بورڈکی منشاتھی کہ پاکستان کے میدان آبادہوں اوربین الاقوامی ٹیمیں یہاں آکرکھیلیں تاکہ کھیل کی فروغ سمیت عوام کوصحتمندتفریح بھی میسرہواسی کوشش میں پی سی بی نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کواپنی ٹیم پاکستان بھیجنے پر راضی کیاسری لنکن بورڈنے بھی پاکستان کے ساتھ دوستی اوربھاری بھرکم معاوضے کے عوض اپنی ٹیم پاکستان بھیج دی مگریہاں اس ٹیم کے ساتھ جوکچھ ہوااسکے بعد ملک میں کرکٹ کے میدانوں کاویران ہونااچھنبے کی بات نہیں پاکستان میں کرکٹ کے میدان ویران کرناکس کے مفاد میں ہے اورکس کی خواہش ہے کہ پاکستانی عوام کوکرکٹ کی تفریح اور بورڈ کو مالی فوائدسے محروم رکھاجائے اور پاکستان کوعالمی سطح پہ تنہابھی کیاجائے کرکٹ کے میدان ویران ہونے سے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ان مکروہ عزائم کی تکمیل خودبخودہوگئی اورپاکستانی ایک پرامن قوم ہونے کے باوجودصحتمندتفریح کے مواقع سے محروم کردیگئی اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈمسلسل اس کوشش میں رہی کہ کسی طرح بین الاقوامی ٹیموں کوپاکستان لایاجائے اسی کوشش میں زمبابوے کی ٹیم کومراعات اورمالی فوائدکے لالچ میں پھنساکرپاکستان آنے پرراضی کیاگیازمبابوین ٹیم کے اس دورے سے اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈکوکوئی خاص مالی منافع توہاتھ نہیں آیامگراس سے یہ فائدہ ضرورہواکہ پاکستان کے سونے میدان پھرسے آبادہونے کی امیدجاگ اٹھی بنگلہ دیش جیسے ملک نے بھی بھارت کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکارکیاسری لنکن ٹیم اگرچہ پاکستان آکرکھیلنے پہ راضی ہوجاتی مگردنیائے کرکٹ میں کھلاڑیوں کوپہلی مرتبہ جس طرح دہشت گردی کانشانہ جہاں بنایاگیاوہ پاکستان ہی کی سرزمین تھی اورٹیم بھی سری لنکاہی کی تھی لہٰذاسری لنکاسے اپنی ٹیم پاکستان بھیج کرکھیلنے کی توقع رکھنادیوانے کاخواب ہی قراردی جاسکتی ہے اس پوری ناگفتہ بہہ صورتحال میں پاکستان کے پاس اپنے میدان آبادکرنے کایہی ایک موقع رہ گیاتھاکہ وہ اپنی ہی لیگ کے چند میچ پاکستان میں منعقدکرتامگرجیسے ہی پاکستان میں سپرلیگ کے فائنل کی بات کی گئی ملک میں اچانک دہشت گردی کی ایک لہرنے سراٹھایاپہلے لاہوراوراسکے بعدملک کے طول عرض میں دھماکوں کاایک سلسلہ شروع ہوگیاجس کے بعدمنتظمین اس سوچ میں پڑگئے کہ پاکستان میں فائنل کرایاجائے یااس باب کوبندہی رکھاجائے مگرکرکٹ بورڈکے کچھ لوگ پاکستان کے میدان آبادکرنے میں مخلص ہیں اوروہ چاہتے ہیں کہ ہرصورت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے بنددروازے واہوں اوریہاں دیگرممالک کی ٹیمیں آکرکھیلیں جس سے مالی بحران میں مبتلاکرکٹ بورڈکوسانس لینے کاموقع مل جائیگا، عوام کوصحت مندتفریح میسرآسکے گی اوربین الاقوامی سطح پہ پاکستان کاامیج بہتربنانے میں بھی مددمل جائیگی پنجاب حکومت کی رضامندی کے بعدفائنل لاہورمیں کرانے کااعلان کیاگیاجس پرملک کے اندرمختلف آراء سامنے آئیں سابق کرکٹراورموجودہ سیاستدان عمران خان نے اسے پاگل پن قراردیاجبکہ پنجاب حکومت کے کرتادھرتاؤں نے خان صاحب کی اس بات کوہی پاگل پن قراردیاسیاستدانوں اورحکمرانوں کی باتیں اپنی جگہ مگرملک میں PSL کافائنل کرانے کے حوالے سے متضادآراء سامنے آرہی ہیں ملک میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات سے پوراملک فکرمندہے کہ فائنل پرامن طریقے سے منعقدبھی کیاجاسکے گایاپھرخدانخواستہ کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش آجائیگا اگراس میچ میں کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش آتاہے تواس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کھیل کے تمام میدان آئندہ دس برسوں کیلئے کسی انٹرنیشنل ایونٹ کوترس جائیں گے لیکن اگریہ فائنل پرامن ماحول میں منعقدہوتاہے پاکستانیوں کے جوش وخروش کے دنیامیں ڈنکے بجتے ہیں جو انٹرنیشنل کھلاڑی پاکستان آکرکھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ یہاں سے خوشگواریادیں لیکراپنے ملک لوٹتے ہیں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے والے آٹھ ممالک کی سیکورٹی ٹیمیں پاکستان آکریہاں کے انتظامات سے مطمئن ہوتے ہیں تویقیناًپاکستان میں انٹرنیشنل مقابلوں کی راہ ہموارہوجائیگی اورجلد یابدیرانٹرنیشنل ٹیمیں پاکستان آکرکھیلیں گی کیونکہ انکے پاس کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا موجودہ حالات میں پاکستان کرکٹ بورڈکوحکومت کے ساتھ مل کربہترین انتظامات کرنے ہونگے ملکی حالات کے پیش نظرPSLکافائنل لاہورمیں کرانے جیسے فیصلے کوBOLD SPEPہی قراردیاجاسکتاہے ہم نے دہشت گردی کے خوف سے گھروں میں دبک کرنہیں بیٹھنا دہشت گردوں کامقصدہی اس ملک کے باشندوں کوخوفزدہ کرکے اپنے روزمرہ زندگی سے بیگانہ کرناہے اس ایک غیراہم میچ سے دنیاکومثبت پیغام دیا جاسکتاہے دہشت گردی اکیلے پاکستان کانہیں پوری دنیاکامسئلہ ہے اوردیگرکھیلوں کے بین الاقوامی بڑے مقابلوں میں دہشت گردی کے واقعات رونماہوچکے ہیں فرانس جرمنی امریکہ اوریورپ کے ممالک میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں ان واقعات سے خوفزہ ہوکرکسی ملک نے اپنے ہاں کھیلوں کی سرگرمیاں نہیں روکیں توپاکستان جیسے ملک میں جس نے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں، اسکی سیکیورٹی فورسزاس حوالے سے اپنی صلاحیتیں منواچکی ہیں ،اسکی فوج نے دہشت گردوں کاپیچھاکرکے اسے سرحدپارکرایاہے اوراس قوم کابچہ بچہ دہشت گردی سے چھٹکارے کیلئے پرعزم ہے ان اظہرمن الشمس حقائق کے باوجودیہاں کھیل کے میدان ویران کیوں ہیں؟ PCB،پنجاب اوروفاقی حکومتوں اورپاکستان آرمی کوملکراس ایک میچ کوچیلینج کے طورپہ لیناہوگا دہشت گردوں کے خوف سے معمولاتِ زندگی نہیں رکنے چاہئیں اس میچ کیلئے عوامی جوش وخروش قابل دیدہے پاکستانی عوام اورحکومت کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے میچ کیلئے بہترین انتظامات کرکے، اسے پرامن طورپہ منعقدکرکے ہم خودکودنیاکے سامنے ایک پرامن، روشن خیال اوردنیاکے قدم سے قدم ملاکرچلنے والی قوم ثابت کرسکتے ہیں ذراواضح الفاظ میں یہ ایک میچ اس ملک ،اس کے عوام ،اسکے سیکیورٹی اداروں اورحکومت کیلئے ٹیسٹ کیس ہے خداکرے کہ یہ تمام اس میں کامیاب ہوں عمران خان کوپشاورمیں سیمی فائنل کرانیکی پیشکش کرنی چاہئے تھی PSLفائنل لاہورمیں کراناپاگل پن نہیں دلیرانہ قدم ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wisal Khan

Read More Articles by Wisal Khan: 80 Articles with 32002 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2017 Views: 350

Comments

آپ کی رائے