جنات و شیاطین - 3

(manhaj-as-salaf, Peshawar)
- جنات آسمان پر جاسکتے ہیں
- جنات کی عمریں
- کیا جنات کو موت آتی ہے
- ابلیس مردود کی عمر
- کیا جنات جنت میں جاۓ گے
- جنات کا انسان کے جسم میں داخل ہو
- جمائ لینا اور شیطان
- شیطان کا خون میں دوڑنا
- سود خور اور شیطان
- ہر انسان کے ساتھ جن
- اللہ کے رسول کے ساتھ قرین
- کفر وشرک پر ہونے والے جنات وشیاطین جہنم میں جائیں گے
- شیطان کا حیلہ


جنات آسمان پر جاسکتے ہیں:

اللہ تعالی نے جنات کا ایک قول نقل فرمایا:
وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا

مفہوم: اور ہم نے آسمانوں کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت پہریداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا.
(سورۃ الجن 72 آیت: 8)

گویا معلوم ہوا کہ جنات آسمان کی طرف جاسکتے ہیں مگر ایک حد تک. اور دوسری جگہ پر فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾

مفہوم: اے گروہ جن وانس! اگر تم میں آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے. پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے. تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جاۓ گا پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے
(سورۃ الرحمن 55 آیت:33 تا 35)

ان آیات سے پتا لگا کہ جنات اور انسانوں کو اللہ نے یہ قابلیت دی ہے کہ وہ آسمان کی طرف ایک حد تک جاسکیں اور اس حد تک وہ جاسکتے ہیں. مگر اس سے اوپر جنات کو نہیں جانے دیا جاتا اور فرشتے انکو آگ اور دھویں سے بھگا دیتے ہیں.

گویا سائینس دان ابھی نچلے آسمان کو تصخیر:

اللہ نے فرمایا:
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا

مفہوم: بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں(ستاروں)سے آراستہ کیا.."(سورۃ الملک 67 آیت: 5)

گویا معلوم ہوا کہ تمام کہکشائیں، ستارے، چاند سب نچلے آسمان پر ہیں کیونکہ عربی زبان میں دنیا،دنوس فتدل وغیرہ کے معنی نیچے جانا یا نچلہ کے ہیں.گویا سائینس دان ابھی نچلے آسمان کو تصخیر نہیں کرسکے تو کائینات کتنی بڑی ہے اور پھر باقی آسمان کتنے بڑے ہوں گے؟سبحان اللہ،اللہ کی شان ہے

جنات کی عمریں:

اس بارے میں کوئ واضع ثبوت نہیں ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جن لوگوں پر جنات آیے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ کسی جن نے کہا کہ وہ 50000 سال کا ہے مگر جنات جھوٹ بھی بول سکتے ہیں.

کیا جنات کو موت آتی ہے:

اللہ تعالی نے فرمایا:
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ

مفہوم:زمین پر جو ہے سب فنا ہونے والا ہے
(سورۃ الرحمن 55 آیت 26)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ: ‏ "‏ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الَّذِي لاَ يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ ‏"‏‏.‏

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے ۔: "تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی معبود تیرے سوا نہیں ‘ تیری ایسی ذات ہے جسے موت نہیں اور جن و انس فنا ہو جائیں گے ۔"
(صحیح بخاری رقم: 7383)

میں واضع طور پر جنات اور انسانوں پر موت کے آنے کا ذکر ہے.

ابلیس مردود کی عمر:

اللہ نے ابلیس کا قول نقل فرمایا:
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿٣٦﴾ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ﴿٣٧﴾ إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿٣٨﴾

مفہوم: کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوبارہ اٹھا کھڑے کیے جائیں.اس پر اللہ نے فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے ایک معلوم وقت
(سورۃ الحجر 15 آیت: 36-38)

معلوم ہوا کہ ابلیس کو آخرت تک مہلت ہے.اسی طرح انسانوں کی طرح جنات بھی شہوت والی،اچھی بری،مسلمان وکافر اور مکلف مخلوق ہے اور اس سے پوچھا جاۓ گا.

اور وہ قیامت کے دن اپنے اعمال کا اقرار کر لیں گے کہ دنیاوی زندگی نے انہیں(انسانوں اور جنوں کو)دھوکہ میں ڈال رکھا تھا.

تفصیل کے لیے دیکھیں:
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ

اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے
(سورۃ الانعام 6 آیت: 130)

کیا جنات جنت میں جاۓ گے:

اللہ نے فرمایا:
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ﴿٤٦﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٧﴾

مفہوم: اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اسکے لیے دو جنتیں ہیں.پس جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے
(سورۃ الرحمن 55 آیت: 46-47)

ان آیات کے سیاق سے پتا لگا کہ یہاں پر دونوں جن و انس مراد ہیں اس لیے مسلمان جنات بھی اسی طرح جنت میں جائیں گے جس طرح وہ انسان جو کفروشرک پر نہ مرا تو آخر کار، ان شاء اللہ، جنت میں داخل ہو گا.

کیا جنات انسان کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اسکی مکمل تفصیل، ان شاء اللہ، آۓ گی:

ایک صحابی یعنی عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنعہ کو نماز میں بہت وسوسے آتے تھے.اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو اپنے سامنے بٹھا کر تین دفعہ کہا:"اخرج عدو اللہ"مفہوم:نکلو باھر،اے اللہ کے دشمن

(سنن ابن ماجہ:رقم: 3548 وسندہ صحیح)

دوسری جگہ پر فرمایا"
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:‏"‏إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ"‏ ‏.‏

مفہوم: جو جمائ لے تو ہاتھ سے روکے کیونکہ ورنہ شیطان داخل ہو جاتا ہے
(صحیح مسلم، رقم: 2995)

ایک روایت میں فرمایا:
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:"‏إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ"‏

مفہوم: بے شک شیطان انسان کی رگوں میں خون کی مانند گردش کرتا ہے
(صحیح مسلم،رقم: 2174)

شیطان کے حوالہ سے اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ سود خور قیامت کے دن ایسے ہوں گے جیسے شیطان نے انہیں چھو کر خبطی بنا دیا ہو.."
(سورۃ بقرۃ 2 آیت: 275)

ہر انسان کے ساتھ جن:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مفہوم:تم میں سے کوئ نہیں مگر اسکے ساتھ ایک قرین ساتھی بطور جن ہے
(صحیح مسلم، 2814)

کیا اللہ کے رسول کے ساتھ قرین تھا:

صحابہ نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ بھی قرین ہے:
قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

تو آپ نے فرمایا:
قَالَ ‏"‏ وَإِيَّاىَ إِلاَّ أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلاَ يَأْمُرُنِي إِلاَّ بِخَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏

مفہوم:ہاں مجھ پر بھی مگر اللہ نے میری مدد کی تو وہ جن مجھ پر ایمان لے آیا.اب وہ مجھے صرف خیر کی بات کرتا ہے
(صحیح مسلم، 2814)

بعض لوگوں نے قرین کو ہم زاد کا نام دیا ہوا.خاص طور پر بہروپیے،کاہن جادوگر وغیرہ اس قسم کے الفاظ بول کر عام لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں.اللہ نے قرآن میں قرین کے حوالہ سے فرمایا

اللہ تعالی نے فرمایا:
قَالَ قَرِينُهُ رَبَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَـٰكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ

مفہوم:اس کا ہم نشین(شیطان) کہے گا.اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ تو خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا
(سورۃ ق 50 آیت: 27)

اس سے معلوم ہوا کہ وہ شیطان قرین بھی کچھ نہیں کرسکتا بس صرف وسوسہ ڈال سکتا ہے اور آگے اسکا اختیار نہیں اسلیے ہمیں کسی بھی قسم کے شبہات وغصہ میں اعوذ بللہ من الشیطان الرجیم کہنے کا حکم ہے تاکہ شیاطین کے وسوسوں سے بچ سکیں

کیا کفر وشرک پر ہونے والے جنات وشیاطین جہنم میں جائیں گے:

اللہ نے شیطان کا قول نقل فرمایا:
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٢﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٨٣

مفہوم:کہنے لگا پھر تیری عزت کی قسم! میں سب کو یقینا بہکا دوں گا.بجز تیرے ان بندوں کے جو چیدہ اور پسندیدہ ہوں.

اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا:
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ﴿٨٤﴾ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٥

مفہوم:سچ تو یہ کے میں سچ ہی کہا کرتا ہوں. کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں(بھی)جہنم کو بھر دوں گا
(سورۃ ص 38 آیت: 82 تا آیت: 85)

ان آیات سے پتا لگا کہ شیاطین جہنم میں ضرور جائیں گے اور اگر کوئ کہے کے اے اللہ تو ابلیس کو معاف کر دے یا اسکو ھدایت دے.ایسا قول جائز نہیں ہوگا کیونکہ ابلیس اور اسکے پیچھے چلنے والے انسان اور جنوں کے لیے جہنم کی وعید پہلے ہی اللہ نے قرآن میں بتا دی ہے.اے اللہ تو ہمیں شیاطین کے وسوسوں اور غلط راستوں اور قرآن والسنۃ اور صحابہ سے مخالف راستوں اور مناحج سے بچا لینا،آمین،الھم آمین

شیطان کا حیلہ:

جو شخص دین پر اصول کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرے ایسے لوگوں کے مقابلہ میں شیطان کا حیلہ سخت کمزور ہوتا ہے
(سورۃ النساء 4 آیت: 76)

جنات و شیطان کے بارے میں تفصیلا سمجھنے کے بعد اب ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ کون سی بیماریاں ہیں جوانسان پر شیاطین کہ ذریعہ حملہ آور ہو سکتی ہیں اور قرآن والسنۃ میں ان کا کیا علاج درج ہے،یہ باتیں ان شاء اللہ کسی بھی شرعی راقی کے لیے بھی مفید ہوں گی

یہ تینوں ارٹکلز ابو زید ضمیر حفظہ اللہ کے مختلف سیشنز سے لیے گیے ہیں جو یو ٹیوب پر بیان کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ان دلائل کو بیان کی صورت میں یکجا کرنے پر ابو زید ضمیر حفظہ اللہ اور انکے رفقا کو جزا خیر دے، آمین۔ اور مسلمانوں میں آگہی دے کہ وہ باطل اور گمراہ لوگوں سے دور رہیں اور اپنے ایمان، مال، عزت اور وقت کو ایسے باطل لوگوں سے بچا سکیں۔

ان شاء اللہ اس کی مزید تفصیل قرآن والسنۃ کے دلائل کے ساتھ جاری ہے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 286 Articles with 216392 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2017 Views: 1742

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ