حسد کی آگ

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکائیت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکرار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔۔۔

بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کردی کہ وہ "چور" ہے۔ وہ ہر رہگزر سے یہی بات کرتا۔۔۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا۔۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔۔

رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکائیت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ' یہ تو ناممکن سی بات ہے'

سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی۔۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ" کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔۔۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ" کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔

یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔
کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں" پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82685 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Apr, 2017 Views: 302

Comments

آپ کی رائے
ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ
ﮐﮭﮍﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ
ﻧﮕﺎﮦ ﮐﺮﻡ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ
ﺟﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ -
ﺑﺰﺭﮒ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ " ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﻮ
ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﺍ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ -
ﻟﻤﺒﮯ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ
ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮦ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺧﺎﺹ ﻧﻈﺮ ﺑﮭﯽ
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ-
ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﺎﺭ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ
ﺍﻟﻠﻪ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺳﭽﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﺍﻟﻠﻪ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺧﺎﺹ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮭﺮ
ﺳﮯ ﻧﮧ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ
By: farooq, daska on Apr, 23 2017
Reply Reply
0 Like