فوج ملک کا اور عوام کو فوج کا دفاع کرنا چاہیئے

(Aslam Lodhi, Lahore)
اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکہ ، بھارت ، اسرائیل ، افغان حکمران اور دہشت پاکستان کے ازلی دشمن بن کر اس ملک کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی جستجو کررہے ہیں ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ پاک فضائیہ کے تما م ہوائی اڈوں میں ایمرجنسی ڈیکلر ہے ، شاہین دن رات دونوں جانب سرحدوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ ہماری بری فوج کے افسر اور جوان 24 گھنٹے افغان اور بھارتی سرحد پر مستعد ہو کر دشمن کے حملوں کا جواب دے رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے میری نظروں سے گزری کہ پاک فوج کا ایک جوان ہاتھ میں سٹین گن پکڑے برف کے بستر پر ہی لیٹادشمن کی آمد کا منتظر تھا ۔ ایک جانب یہ صورت حال تو دوسری جانب پاکستانی قوم مکمل طور پر وطن عزیز کے دفاع سے اس قدر غافل ہے کہ اسے حالات کی سنگینی کا ذرا بھی احساس نہیں کہ دشمن کس کس محاذ اور طریقے پر قومی سا لمیت پر یلغار شروع کرچکاہے ۔یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ وطن عزیز کادفاع صرف فوج ہی نہیں عوام کی بھی ذمہ داری ہے ۔ اس لمحے مجھے جنر ل(ر) ایم ایچ انصاری کی وہ بات یاد آرہی ہے ۔انہو ں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 1965ء کی جنگ سے کچھ دن پہلے بھاری توپ خانہ کی ہماری یونٹ کو ملتان سے قصور کے محاذ پر پہنچنے کا حکم ملا۔ جب ہم اپنی توپ خانہ یونٹ کے ساتھ جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے اوکاڑہ کے نزدیک قصبہ کسان پہنچے تو رات کے بارہ بج چکے تھے ۔میں نے جوانوں کو حکم دیا کہ وہ سڑک کے کنارے ہی گاڑیاں کھڑی کرکے زمین پر سو جائیں ۔ اس لمحے ہمیں نہ تو اسلحے کی چوری کا ڈر تھااور نہ ہی کسی دشمن کا۔ صبح سورج طلوع ہو تے ہی قریبی دیہاتوں کے لوگ جوق در جوق فوجی جوانوں کے لیے ناشتہ لے کرہمارے پاس پہنچ گئے ۔ جو والہانہ محبت ہمیں اس جنگ کے دوران ملی ۔میں اسے میں زندگی بھر نہیں بھولاسکتا ۔ جنرل انصاری نے ایک فقرہ کہا تھا کہ اگر عوام فوج کی محافظ بن جائے تو دنیاکی کوئی طاقت فوج کو شکست نہیں دے سکتی ۔ایک لمحے کے لیے ہم سب پاکستانیوں کو سوچنا چاہیئے کیا واقعی ہم فوج کو اتنی محبت کررہے ہیں جتنی حقیقت میں زمانہ جنگ میں کرنی چاہیئے۔ہماری فوج کا ایک تہائی حصہ اندرون ملک اہم تنصیبات ، فوجی چھاؤنیوں اور کینٹ ایریا میں جانے والے راستوں پرپہرہ دے رہا ہے۔حالانکہ یہ کام پولیس کا بھی جس کے سپاہی کو مرنے پر 30 لاکھ اور افسر کی موت پر 5 کروڑ روپے ملتے ہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ فوج پوری دلجمعی سے سرحدوں کا دفاع کرے تو کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنی فوج اور فوجی تنصیبات کی خود حفاظت کریں ۔ کبھی وہ وقت بھی تھا جب لاہور کے شہریوں نے شہروں کا کنٹرول خود سنبھال کر نہ صرف عوام کی مدد کی بلکہ دشمن کے مکروہ عزائم اور افواہ سازی کو بھی ناکامی سے ہممکنار کیاتھا ۔اسوقت جبکہ ہمارے فوجی بھائی بھارتی اور افغانی سرحدوں کے علاوہ شہروں میں بھی حفاظتی فرائض انجا م دے رہے ہیں کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم ہر سطح پر ان کی مدد اور حفاظت کریں ۔اگرہم نے اندورنی اور بیرونی تمام محاذوں پر فوج کو تنہا چھوڑ دیا تو مجھے ڈر ہے کہ اگر اسی طرح عوام نے فوج کودفاع وطن کی جنگ میں تنہا چھوڑے رکھا تو کہیں یہ ملک( جس کی آزادی کے لیے نو لاکھ افراد نے جانی و مالی قربانی دی تھی )اپنی آزادی ہی نہ کھو بیٹھے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرکے ہر قسم کے احتجاجی جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے مذہبی ،صوبائیت اور فرقہ وارانہ بیانات مضامین اور خبروں کی اشاعت کو کالعدم قرار دے دینا چاہیئے اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں میں بطور خاص اٹھارہ سے پچیس سال تک کے نوجوانوں کے لیے( این سی سی) فوجی تربیت کا لازمی اہتمام کرنا چاہیئے ۔ اس وقت ہم 17 سو کلومیٹر بھارتی اور 26 سو کلومیٹر افغانی سرحد پر مصروف جنگ ہیں ۔ علاوہ ازیں زمانہ جنگ میں سول ڈیفنس کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ہم نے صرف سول ڈیفنس کا نام ہی سنا ہے اس کاعملی وجود نہیں دیکھا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور یونین کونسل کی سطح پر سول ڈیفنس کومنظم کیاجائے اور نوجوانوں کو دور حاضر کی جدید جنگی حالات سے آگاہی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور دشمن کے فضائی اور زمینی حملے سے نمٹنے اور شہریوں کی حفاظت و رہنمانی کرنے کی مکمل تربیت دی جائے ۔بدقسمتی سے یہ کام بھی فوج کوہی کرنا پڑ رہا ہے ۔پولیس سمیت تمام سول ادارے نااہل اور قومی خزانے پر بوجھ ہیں ۔سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے ملازمین اورسیکورٹی گارڈ کو سول ڈیفنس اور حفاظتی تدابیر کے بارے میں آگاہ کیا جائے ۔ملک کو اسلحے سے پاک کیاجائے ۔رینجر کو دہشت گردوں ، تخریب کاروں کے خلاف کاروائی کے لیے کھلی آزادی دی جائے ۔کسی بھی جنگ میں میڈیا کا کردار بہت نمایاں ہوتاہے وہ قوم کو باخبر رکھنے کے ساتھ ساتھ مورال بھی بلند رکھتا ہے ۔ٹی وی چینلز پر بے تکے ڈرامے ، اسٹیج پروگرام دکھانے کی بجائے قوم کو حالات حاضرہ سے آگاہ کرنے اور دہشت گردی کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے جنگی ڈرامے ، فوجی ہیروز کی گفتگو، قومی نغمے اور دستاویزی پروگرام تیارکرکے نشر کیے جائیں اور سنیماگھروں میں بھی بھارتی اور دیگر فلموں کی نمائش ختم کرکے صرف فوج کے شہدا ء پرفلمیں تیارکرکے دکھائی جائیں۔تمام کور کمانڈر مقامی صحافیوں ،کالم نگاروں اور ٹی وی کے تجزیۂ نگاروں کو مدعو کرکے تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کریں اور انہیں کہیں وہ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنے قلمی تعاون سے نوازیں ۔تا کہ عوام میں وطن عزیز کے دفاع کا شعور پیدا کیاجاسکے ۔دہشت گردوں کو پکڑنا صرف سیکورٹی اداروں کا کام نہیں ہے جب تک عوام اس میں نہایت ذمہ داری سے اپنا کردار ادا نہیں کرتے اس وقت تک کوئی ادارہ دہشت گردوں کو لگام نہیں ڈال سکتا۔چند ماہ قبل کراچی میں دو فوجی جوانوں کو مارکیٹ میں حملہ کرکے شہید کرکے دہشت گرد باآسانی فرار ہوگئے یہ کس قدر تکلیف دہ بات ہے اگر فوج عوام کے تحفظ کے لیے موسمی صعوبتوں اور بدترین حالات کے باوجود عوام کا تحفظ کررہی ہے تو کیا عوام کافرض نہیں بنتا کہ وہ اندرون ملک فوج اور فوجی چھاؤنیوں کی از خود محافظ بن جائے ۔اگر عوام مزاحمت کرتی تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گرد پکڑے نہ جاتے ۔عوام کو فوج کے لیے انہی جذبات کا اظہار کرنا ہو گا جو 65 کی پاک بھارت جنگ کے دوران جگہ جگہ دیکھنے میں آتے تھے ۔ پولیس کو اپنی روایتی نااہلی ، لالچی پن کے کردار کو چھوڑ کر حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے کم ازکم اندرونملک امن و امان کی صورت حال ، عوام اور فوجی چھاؤنیوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیئے اگر خدانخواستہ اب بھی اگر پولیس ، سول ڈیفنس اور عوام نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مجھے ڈر ہے کہ ہم اپنی آزادی ہی کہیں نہ کھو دیں ۔وہی فوج دنیا میں بڑے سے بڑا معرکہ سر کرلیتی ہے جس کے ساتھ حقیقی معنوں میں عوام کا ساتھ اور محبت ہوتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280500 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2017 Views: 323

Comments

آپ کی رائے