طلاق ثلاثہ پر ایک نظر

(M.salim Ghazali, Rampur U.p)

جب سےجناب مودی کراماتی اندازمیں ہندوستان کے تختہ حکومت پر وراجمان ہوئے ہیں اسی وقت سے آج تک طرح-طرح کے مسائل کا سہارا لے کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے- اقلیتی فرقے کو مختلف مسائل میں الجھاے رکھنا حکومت اور نام نہاد فرقہ پرست تنظیموں کی اولین ترجیحات میں رہا ہے- طلاق ثلاثہ کا سہارا لے کر شریعت اسلامی پر سیدھا حملہ کیا جا رہا ہے-طلاق کا معنی ہوتا ہے کہ جو قید نکاح مرد و عورت کے درمیان تھی اس قید کو اس لفظ طلاق سے اٹھا دینا- اب قید نکاح کو اٹھانے کے دو طریقے ہیں-
طلاق رجعی:اس طلاق میں قید نکاح فوری طور پر نہیں اٹھتی بلکہ وقت گزرنے پر طلاق کا فائدہ دیتی ہے-اس طلاق میں مرد کو اپنی بیوی سے عدّت کے اندر رجوع کرنے کا پورا پورا اختیار رہتا ہے کہ اس مدّت میں اسنے اپنی بیوی سے بوس و کنار یا جماع کیا یا پھر صرف اتنا کہ دیا کہ یہ میری بیوی ہے تو رجعت ہو جاۓگی مگر یہ طلاق اس مرد کے حق میں شمار ہوگی اور مستقبل میں صرف دو طلاقوں کا حقدار ہوگا-
دوسری طلاق کی دو قسمیں ہیں-

(الف)-طلاق باینہ (ب)- طلاق مغلظہ
ان دونوں طلاقوں میں قید نکاح فورا اٹھ جاتی ہے اور بیوی شوہر کے نکاح سے فوری طورپرخارج ہو جاتی ہے- اسلام میں طلاق کا جواز تو رکھا گیا ہے مگراس فعل کوبلا ضرورت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے- اسلام تو یہی چاہتا کہ میاں- بیوی آپس میں اپنا نبھا کریں وہ بات الگ ہے کہ طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی بعض عادتیں ناخوش گوار ہو سکتی ہیں-

اس طلاق کا جواز قرآن پاک کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٢٢٩ سے ثابت ہے- الله تعالی ارشاد فرماتا ہے:"طلاق(جس کے بعد رجعت ہو سکے) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے"- بوقت ضرورت آپ علیہ السلام سے طلاق کا صدور ہوا- آپ علیہ السلام نے اپنی زوجہ حضرت حفصہ رضی الله تعلی عنہا کوطلاق دی اور پھر اسی دن آپ نے رجوع فرمایا (طلق حفصہ ثم راجعھا) ابن ماجہ-

مذہب اسلام نے طلاق کی اجازت انہی حالات میں دی ہے کہ جب یقین کامل ہو جاۓ کہ اب دونوں میں کسی صورت نبھا نہ ہو پاے گا- اسلام کے تمام جائز کاموں میں صرف طلاق ہی ایسا کام ہےجس کوشریعت نے ناپسند قرار دیا ہے- حدیث میں آیا ہے:حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا "تمام حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے-" (سنن ابی داود:ج٢:ص٣٨) شریعت اسلامی تواسی بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ عورت کو تین طلاقیں ایک ساتھ نہ دی جایئں کہ شریعت نے اظہار ناپسندیدگی فرمایا ہے-ہاں اگر طلاق کے بغیر کوئی صورت نظر نہ آے تو اس طرح طلاق دےکہ جب عورت حیض سے پاک ہو یعنی حالت طھر میں ہو تو اسے ایک طلاق رجعی دے دے عورت عدت پوری کرتے ہی اسکے نکاح سے نکل جاۓگی –اس طلاق کے چند فائدے ہیں- ایک تو یہ کہ ان دونوں کے پاس با ہم صلح کے لئے کافی وقت ہوگا دوسرا یہ کہ نکاح سے نکلنے کے بعد اگر پھر اسے نکاح میں لینا چاہے تو بغیر حلالہ اسے اپنے نکاح میں لے سکتا ہے- یہاں اس مسلہ کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر کسی نے بغیر کسی معقول وجہ کے یا پھر حیض میں بھی طلاق دے دی تو طلاق بہرے حال ہو جاے گی-

جو شخص بلا وجہ ایک ساتھ تین طلاقیں دیتا ہے تو وہ جرم بالاے جرم کا مرتکب قرار پا تا ہے---ایک طلاق کا دوسرے طریقہ طلاق کا--- حدیث میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام سے کسی صحابی نے عرض کی کہ--- فلاں نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں--- یہ سن کر آپ علیہ السلام غضبناک ہوگئے اورزبان مبارک سے ارشاد فرمایا "کیا میرے ہوتے ہوئے قرآن مجید سے مزاق کیا جا رہا ہے؟ یہ امر تو ثابت شدہ ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینے کو کبھی بھی پسند نہیں کیا گیا- ہاں وہ بات الگ ہے کے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہو جاے گیں-

ہمارے ملک میں تین طلاق کو لے کر جس طرح کی ماحول سازی کی گئی ہے وہ فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے مسلم پرسنل لاء پر سیدھا حملہ ہے- طلاق ثلاثہ کو مسلم عورتوں کے ساتھ استحصال اور نا انصافی کے طور پر دکھانے کی پر بھرپور کوشش کی جا رہی ہے- اس کام میں نام نہاد فرقہ پرست تنظیموں کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کا "ترجمان" میڈیا بھی شانہ بشانہ نظر آرھا ہے- جس میڈیا کے پاس مسلمانوں کے مفاد میں ایک حرف لکھنے کی بھی فرصت نہیں اسکے پاس مسلم عورتوں کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردی ہماری سمجھ سے بالا تر ہے- تین طلاق کوئی آلہ استحصال نہیں بلکہ پریشانی کا حل ہے--- یہ مسلہ نہیں بلکہ مسلے کا حل ہے--- ہاں ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اسکا بے جااستمعال کر تے ہیں مگر اس میں اسلامی قانون کی کمی نہ ہو کرکمی ہماری اور ہمارے خراب معاشرے کی ہے- طلاق ثلاثہ کو ختم کرنا کسی رو سے بھی جائزو روا نہیں- ہمیں اپنے معاشرے کی اصلاح کی ضرورت ہے ناکے تین طلاق کو سرے سے ختم کرنے کی –ہندوستان کا خالص جانبدار میڈیا اور فرقہ پرست تنظیمیں تین طلاق کوعورتوں پر ظلم و ستم قرار دے کر "کومن سول کوڈ" کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہیں-

اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ہمارے علماءکھل کر میدان میں آییں اورکسی کے سماجی بائکاٹ کرنے کے بجاۓ اسلامی قانون کی سہی تصویر پیش کریں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M.salim Ghazali
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2017 Views: 890

Comments

آپ کی رائے
طلاقہ ثلاثہ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک بہترین مضمون برک اللہ لکم
By: Shahvez razvi, Rampur on May, 22 2017
Reply Reply
1 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ