ہمت نہ ہار، قدم بڑھا (حصہ اوّل)

(Shehla Khan, )

زندگی میں بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جن کی زندگی پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے مصائب اور مشکلات سے بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے لوگ اگر اپنے پیاروں میں سے ہوں تو تکلیف اور بڑھ جاتی ہے۔

میں اس امید کے ساتھ، کہ اس تحریر کو پڑھ کر شاید کہیں کوئ اپنی زندگی میں سدھار پیدا کر لے، آج آپ کو ایسی ہی مصیبتوں اور مشکلات میں گھری ہوئ اپنی ایک عزیزہ کی سبق آموز اور سچی کہانی سنانے جا رہی ہوں۔ جوانی میں وہ اتنی زیادہ خوبصورت ہوا کرتی تھی کہ اگر اسے پریوں جیسی کہا جاۓ تو بےجا نہ ہوگا۔ لمنبے سنہری بال، سرخ و سفید رنگ، زندگی سے بھرپور چمکتی ہوئ سبز آنکھیں اور جو چیز اس میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، وہ تھا اس کا دل۔ ہر رشتے سے پرخلوص اور دل وجان سے پیار کرنے والی کے ساتھ کیا ہوا، آج بھی وہ سب کچھ سوچ کر آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو جاتی ہیں۔ جوان ہوئ تو والد کا انتقال ہو گیا جس کی وجہ سے تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا۔ اس کی زندگی کا کل اثاثہ ایک بیمار ماں اور ایک بھائ تھا۔ بھائ کی شادی ہوئ تو بھابی جو بھابی بننے سے پہلے اس کی سہیلی تھی، نے اپنے بچوں کی پرورش کے لۓ اس کی شادی نہ ہونے دی۔ اس طرح وہ بچوں کی آیا اور اپنے ہی گھر میں نوکرانی بن کر رہ گئ۔ عمر بڑھتی گئ، بھائ کے بچے اس کے ہاتھوں پروان چڑھتے گۓ۔ اور انہی حالات میں اس کی عمر کے چالیس برس بیت گۓ۔ آخرکار خاندان والوں کے دباؤ میں آکر اس کی شادی ایک ایسے گھرانے میں کر دی گئ جو کسی طور بھی اس کے لائق نہ تھا۔ اس کو ہم قدرت کی ستم ظریفی نہیں کہیں گے کیوں کہ یہ ایک بے بس اور بے زبان انسان پر جان بوجھ کر کیا جانے والا ظلم تھا۔ پہلے وہ چند افراد کی اورملازمہ تھی پر اب وہ بیس پچیس افراد کی ملازمہ بن گئ تھی۔ اس کی بدقسمتی کا درجہ اور بلند ہو گیا تھا۔ کام کی بےجا زیادتی نے اس کی رہی سہی خوبصورتی کو بھی چھین لیا۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے وہ جہنم سے ہو کر آئ ہے۔ لمنبے سنہری بال کانٹے دار جھاڑیوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔ دودھ جیسا سفید اور چمکتا رنگ سیاہ اور داغ دار ہو چکا تھا، لگتا تھا جیسے کسی نے ابلتا پانی پھینک کر جھلسا دیا ہو۔ اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا تھا۔ اس کی ایک ہمدرد سہیلی جب بھی اس سے ملتی یا فون پر بات کرتی تو اسے بہت سمجھاتی کہ خدارا اپنے حق میں آواز اٹھاؤ، جس راستے پر تم چل رہی ہو وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اپنی ذات پر ظلم نہ کرو۔ وہ بہت نمازی اور پرہیز گار تھی۔ اس لۓ اس کی سہیلی نے اسے دین کا حوالہ دیتے ہوۓ بھی بہت سمجھایا کہ خدا اپنی ذات پر ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ وہ ہنس دیتی تھی اور کہتی تھی کہ میں ہر نماز کے بعد خدا سے دعا کرتی ہوں کہ وہ میری مشکلیں آسان کرے۔ اس کی سہیلی کو ہمیشہ اس بات پر غصہ آجاتا تھا اور وہ کہتی تھی کہ تم نے خود کچھ نہیں کرنا۔ تمھارے لۓ سب کچھ خدا نے کرنا ہے۔ سب کچھ خدا پہ چھوڑ کر تم دعاؤں کی قبولیت کے انتظار میں بیٹھی رہو گی کیا؟ ایسے لوگوں کے حالات کبھی نہیں بدلتے جو خود کچھ نہ کریں اور بس دعاؤں کی قبولیت کے انتظار میں بیٹھے رہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ شدید بیماری کے ہاتھوں ماں کا انتقال ہو گیا۔ بھائ اپنے بیوی بچوں سمیت ملک سے باہر چلا گیا۔اس کے اپنے تین بچے بھی بڑے ہو رہے تھے مگر اس کے حالات میں کوئ تبدیلی نہیں آئ تھی۔ اسی اثناء میں اس کے بھائ کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب وہ اس بھری دنیا میں تنہا رہ گئ تھی۔ ایک عزیز کی وفات پر اس کی سہیلی کی ایک بار پھر اس سے ملاقات ہوئ۔ یہی وہ وقت تھا جب اس کے اندر اتنے سالوں کے بھرے زہر اور بے بسی کے پکتے لاوے کو باہر نکلنے کا راستہ مل گیا تھا۔ وہ ایک دردمند دل رکھنے والی حساس عورت تھی۔ ہر ظلم وزیادتی محسوس کرتی تھی مگر کبھی اظہار نہ کرنے کی وجہ سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اسے کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا۔ مگر بعض لوگوں میں عظیم بننے کا جذبہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ وہ عظمت نہیں بلکہ اپنی ذات پر مسلسل کیا جانے والا سفاک جرم ہے۔ وہ وہاں افسوس کے لۓ آئ تھی مگر لگتا ایسے تھا جیسے موت اس کی ہو گئ ہو۔ سکتہ کی حالت میں وہ وہاں بیٹھی تھی۔ وہاں پر موجود لوگوں نے بتایا کہ کل سے اس کی یہی حالت ہے۔ نہ کچھ کھا رہی ہے، نہ کوئ بات کر رہی ہے۔ بالوں کی جھاڑیوں کو اسکارف میں چھپاۓ ہوۓ، آنکھوں پر نظر کا موٹا چشمہ لگاۓ ہوۓ، مختلف قسم کی جلدی بیماریوں سے بھرے جسم کو عبایا میں لپیٹے ہوۓ، وہ صدیوں کی بوڑھی اور بیمار لگ رہی تھی۔ اس کی سہیلی نے اس سے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہی۔ آخر تھک ہار کر جب اس نے مستقل ناراضگی کا اظہار کرتے ہوۓ آخری کوشش کی تو ناراضگی کا سن کر اس کے مردہ جسم میں حرکت ہوئ۔ اس نے نظر اٹھا کر سہیلی کی طرف دیکھا اور گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ بس یہی وہ وقت تھا جب اس کے بناۓ ہوۓ اس بند میں پہلا شگاف پڑا تھا جو اس نے اپنے جذبات کے اظہار کے آگے تعمیر کیا ہوا تھا اور جس نے سالہا سال اس کے اندر اٹھنے والے طوفانوں کو روک کر رکھا ہوا تھا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shehla Khan

Read More Articles by Shehla Khan: 28 Articles with 19851 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2017 Views: 365

Comments

آپ کی رائے