شدید گرمی میں رمضان کی آمد…… لوڈشیڈنگ سے عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

(عابد محمود عزام, Lahore)

اﷲ کا مہمان اور عظیم الشان مہینہ شروع ہوچکا ہے، جس کی ہر گھڑی خیر وبرکت سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس ماہ مبارک میں اسلام میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آنے اور ایک دوسرے کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے بحیثیت مجموعی ہم لوگ دوسروں کو آسانیاں فراہم کرنے کی بجائے مشکلات میں مبتلا کرنے میں مشغول ہیں۔ عوام سے لے کر حکمرانوں تک ہر کوئی دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ ایک طرف رمضان کی ابتدا کے ساتھ ہی تاجروں نے عوام کو لوٹنا شروع کردیا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ حسب روایت اشیائے ضروریہ خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کے نرخوں میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی پر لگ گئے اور حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود مہنگائی کے طوفان پر قابو نہیں پاسکی۔ غیر مسلم ممالک میں ان کے اپنے تہواروں کے علاوہ اسلامی تہواروں پر بھی مسلمانوں کے لیے رعایتی نرخوں کا خصوصی اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے اسلام کے نام پر بنانے والے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، جو بہت افسوسناک اور باعث شرم بات ہے۔

ملک گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے اور اطلاعات ہیں کہ رمضان المبارک کے پہلے 15 دنوں میں ملک کے اکثر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ شدید گرمی میں روزہ رکھنا آسان کام نہیں ہے اور اگر اس گرمی میں بجلی بھی نہ ہو تو ملک میں عوام کی اکثریت کے لیے گرمی کا روزہ رکھنا مزید مشکل ہوجاتا ہے، ایسے میں حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔ رمضان المبارک کی ابتدا میں ہی تراویح، سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی نہ بند کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ رمضان کی ابتدا کے ساتھ ہی عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سخت گرمی اور تاریکی میں روزہ رکھنے پر مجبور ہوئے۔ حکومت لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ساہیوال، ننکانہ صاحب، گوجرانوالہ، قصور، وہاڑی، پنڈی بھٹیاں، نارنگ منڈی اور چیچہ وطنی سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید گرمی میں رمضان المبارک کی ابتدا کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا۔ بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اٹھارہ گھنٹوں سے تجاوز کر گیا۔ مختلف علاقوں میں غیراعلانیہ بجلی بند ہونے سے نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ متعدد علاقوں میں عوام لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ سندھ اور کراچی میں بھی رمضان المبارک کی ابتدا کے ساتھ ہی حکومت نے لوڈشیڈنگ کے ذریعے عوام کو تنگ کرنا شروع کردیا۔ کراچی میں بجلی کی بندش کے بعد شہر بھر کے پمپنگ سٹیشن بند ہو گئے، جس سے پانی کا بحران بھی پیدا ہوا۔ کراچی کے متعدد علاقوں میں بجلی غائب ہونے کے باعث شہریوں نے پہلا روزہ اندھیرے میں روزہ رکھا۔ حیدرآباد، میرپورخاص، جامشورو سمیت دیگر اضلاع میں بھی سحری کے وقت بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا۔ ٹنڈوالہ یار، مٹیاری اور دیگر اضلاع میں شہریوں نے موم بتی کی روشنی میں سحری کی۔جبکہ گزشتہ روز کراچی میں ایک بار پھر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔ بن قاسم بجلی گھر سے آنے والی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں فنی خرابی کے باعث رات گئے کے الیکٹرک کے 15 سے زایدگرڈ اسٹیشنز ٹرپ کرگئے۔ گرڈ اسٹیشنز ٹرپ ہونے کی وجہ سے ڈیفنس، ڈیفنس ویو، کلفٹن، محمود آباد، کورنگی، لانڈھی، ناظم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، نیوکراچی، بفرزون، نارتھ ناظم آباد، گلبہار، شادمان ٹاؤن، عائشہ منزل، شاہ فیصل کالونی، ملیر، کھوکھرا پار، مبینہ ٹاؤن ، گڈاپ سٹی اور سرجانی ٹاؤن سمیت اولڈ سٹی کے کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے، جس کے باعث شہریوں کو سحری میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ لوڈشیڈنگ کے باعث شہر کے متعدد علاقوں میں مشتعل افراد کی جانب سے کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا اور شدید نعرے بازی کی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر قائد سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈدنگ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے عوام کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ الیکٹرک، حیسکو اور سیسکو نے رمضان میں لوڈشیڈنگ میں کمی اور سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اس کے باوجود کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کرکے عوام کو پریشان کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی اور سندھ بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کو خط لکھا، جس میں کہا کہ بریک ڈاؤن سے عوام کو رمضان المبارک کے دوران تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ طویل بریک ڈاؤن سے صوبائی حکومت کو نازک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب مالا کنڈ میں واپڈا آفس پر حملے کی قیادت کرنے پر گرفتار ہونے والے مشیر وزیر اعلیٰ اور ایم این اے جنید اکبر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پشاور سمیت کئی شہروں میں گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے، جنہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی قیادت میں وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا اور احتجاج کرتے ہوئے سرکاری املاک پر دھاوا بول دیا تھا اور پولیس نے پی ٹی آئی ایم این اے کو گرفتار کرلیا تھا۔ پچھلی حکومت میں آج کے حکمران خود لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہاتھ میں کھجوری پنکھے پکڑ کر بر سر عام احتجاج کیا کرتے تھے، اس بار کے پی کے کے مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف عوام نے احتجاج کیا۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، جہاں عوام سراپا احتجاج ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پہلی بار نہیں ہو رہی، برسوں سے جاری ہے، البتہ موسم کے حساب سے اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور سماجی انجمنیں اس پر احتجاج بھی کرتی رہتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں مسلم لیگ ن بھی پنجاب میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر احتجاج کرتی رہی ہے۔ اب پیپلز پارٹی بھی سندھ اور کراچی میں لوڈشیڈنگ پر احتجاج کر رہی ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں طویل لوڈشیڈنگ پر تحریک انصاف نے احتجاج کیا ہے تو یہ اس کا حق ہے، مگر احتجاج کی آڑ میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ برسراقتدار حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے عوام کے سامنے سیاسی وعدے نہ کرے اور حقائق قوم کے سامنے رکھے تاکہ عوام اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو اصل صورتحال کا علم ہو سکے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران رمضان میں ہی خدا کا کچھ خوف کھائیں اور روزے داروں کو لوڈشیڈنگ سے ریلیف دے دیں۔ شدید گرمی میں روز دار بے چینی اور پریشانی میں مبتلا ہیں اور حکمران بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں کہ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ سحری اور افطاری کے دو گھنٹے لوڈشیڈنگ نہ کر کے حکومت کوئی احسان نہیں کر رہی۔ دن اور رات کے باقی اوقات میں لوڈشیڈنگ اسی طرح جاری ہے، جس طرح رمضان سے پہلے تھی۔ انہوں نے کہا کہ شہروں اور دیہات میں لوڈشیڈنگ کے اوقات میں کمی کے حکومتی دعوے نقش بر آب ثابت ہوئے ہیں۔ ہر جگہ گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام حکمرانوں کو کوستے نظر آتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور دیگر وفاقی وزراء کو پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے اور 4 برسوں کے بعد بھی اپنی مظلومیت اور بے بسی کا رونا رونے کی بجائے لوڈشیڈنگ سمیت قوم کو اپنی ناکامی کی وجوہات بتانی چاہئیں۔ نواز حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بجلی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، عوام رمضان میں بھی اس بد ترین لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگتنے پر مجبور ہیں۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ توانائی کے پیداواری منصوبے چند ہفتوں یا چند مہینوں میں مکمل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے، مگر نیت خالص ہونا شرط ہے۔ ایک طرف بجلی کے منصوبوں کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں اضافے کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنز اور سسٹم کی تبدیلی کے لیے بھی حکومت کو اربوں ڈالر درکار ہیں۔ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کا مسئلہ بھی اپنی جگہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے پیداواری منصوبوں کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کا کام بھی کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اقتدار میں آنے سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اقتدار میں آکر لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے، اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے اس پر توجہ دی، اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا کے سامنے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا، لیکن ابھی تک ملک میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوا، بلکہ لوڈشیڈنگ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ وقفے وقفے سے کبھی اعلانیہ اور کبھی غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ جس کو دیکھتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے بجلی کی پیداوار کے لیے جتنے بھی منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے، وہ سب کے سب عوام کو لولی پاپ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے، شاید ان منصوبوں کا صرف افتتاح ہی کیا گیا ہے، اس کے بعد وہاں کوئی کام نہیں ہورہا، کیونکہ اگر ان منصوبوں پر کام ہورہا ہوتا تو اب تک لوڈ شیڈنگ کا عذاب عوام کو نہ بھگتنا پڑتا، لیکن حکومت کی طرف سے کئی منصوبوں کا افتتاح کرنے کے باوجود اب تک نہ صرف یہ کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی بلکہ بجلی کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کا افتتاح صرف عوام کو دکھانے کے لیے کر تی ہے۔ پچھلی حکومت پر الزام تھا کہ اس نے بجلی کا بحران حل کرنے میں بدعملی اور بدنظمی کا مظاہرہ کیا، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت کے تجربات اور ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے تھا، لیکن موجودہ حکومت نے بھی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں سابقہ حکومت کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا، بلکہ عوام کو بہلانے کے لیے پہلے روز سے ہی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرتی رہی، حالانکہ جب پہلے ہی معلوم تھا کہ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پاسکتی تو عوام کو بہکانے کی کیا ضرورت تھی۔ جب تک توانائی کے بحران پر قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک عوام کو اندھیروں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو ایسے اقدامات ضرور کرنا پڑیں گے، جن سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ ختم کرنا ہوگی، ورنہ عوام کے لیے شدید گرمی میں رمضان المبارک گزارنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 426009 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2017 Views: 420

Comments

آپ کی رائے