علامہ معاذ صاحب عرف مولانا خان بہادر کا درسِ توحید

(Amir jan haqqani, Gilgit)
علامہ معاذ صاحب گلگت بلتستان وکوہستان کے علمی حلقوں میں مولانا خان بہادر کے نام سے معروف ہیں۔بلاشبہ مولانا علوم عقلیہ ونقلیہ کے ماہر عالم دین اور مدرس ہیں۔جامعہ دارالعلوم کراچی کے نہ صرف فاضل ہیں بلکہ مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے اخص تلامذہ میں ہونے کے ساتھ بیعت ہوکر مرید خاص بھی ہیں۔اور شیخ القرآن مولانا طاہر صاحب پنج پیریؒ اور مولانا غلام اللہ خان ؒ سے علوم قرآنیہ میں مہارت حاصل کی ہے۔مولانا معاذ صاحب گلگت بلتستان وکوہستان میں’’طبقہ حیات و ممات‘‘ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔میری دانست اور مشاہدےکے مطابق مولانا حیات و ممات میں تعصب و تشدد کرنے والے دونوں طرف کے علماء کو دلائل سے خاموش کرواتے ہیں اور سختی سے منع بھی کرتے ہیں اس پر مباحثہ کرنے کو۔

علامہ معاذ عرف مولانا خان بہادر صاحب، درس قرآن دیتے ہوئے

علامہ معاذ صاحب گلگت بلتستان وکوہستان کے علمی حلقوں میں مولانا خان بہادر کے نام سے معروف ہیں۔بلاشبہ مولانا علوم عقلیہ ونقلیہ کے ماہر عالم دین اور مدرس ہیں۔جامعہ دارالعلوم کراچی کے نہ صرف فاضل ہیں بلکہ مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے اخص تلامذہ میں ہونے کے ساتھ بیعت ہوکر مرید خاص بھی ہیں۔اور شیخ القرآن مولانا طاہر صاحب پنج پیریؒ اور مولانا غلام اللہ خان ؒ سے علوم قرآنیہ میں مہارت حاصل کی ہے۔مولانا معاذ صاحب گلگت بلتستان وکوہستان میں’’طبقہ حیات و ممات‘‘ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔میری دانست اور مشاہدےکے مطابق مولانا حیات و ممات میں تعصب و تشدد کرنے والے دونوں طرف کے علماء کو دلائل سے خاموش کرواتے ہیں اور سختی سے منع بھی کرتے ہیں اس پر مباحثہ کرنے کو۔۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ گلگت بلتستان کے جید اہل علم و اکابر علمائے کرام سے ذاتی نیاز مندی حاصل ہے۔ اسی طرح مولانا معاذ صاحب کے ساتھ میرا تعلق زمانہ طالبعلمی سے ہے۔ میں جب رابعہ میں تھا(بی۔ اے کا اسٹوڈنٹ) تب سے میں مولانا کے ساتھ ملاقات کے لیے ان کی جامعہ ’’دارالعلوم تعلیم القرآن جگلوٹ ‘‘ جایا کرتا۔تب سے اب تک محبت و احترام کا یہ سلسلہ جاری ہے۔میری کتاب ’’مشاہیر علمائے گلگت بلتستان‘‘ کے لیے جن علماء کرام کو انٹرویو کے لیے خصوصیت سے چنا گیا ہے ان میں مولانا معاذ صاحب کا نام بھی ہے سرفہرست ہے۔۔۔بہت جلد مولانا سے ایک تفصیلی انٹرویو اپنی کتاب کے لیے کرلونگا۔۔۔آج مولانا معاذ صاحب نے مدرسہ اشرف العلوم بیسن گلگت میں ختم دورہ تفسیرالقرآن کی آخری مجلس میں قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کا مسلسل دو گھنٹے درس دیا۔۔توحید الہیٰ پر شینا زبان میں اتنا مبرہن و مدلل درس میں نے آج تک نہیں سنا تھا۔۔مولانا کا درس مکمل علمی تھا، سامعین میں گلگت کے علماء و طلبہ کے علاوہ عوام کی بھی تعداد تھی تاہم مولانا نے علماء و طلبہ کی رعایت کرتے ہوئے ایک علمی اور محقق درس دیا۔۔ان تین سورتوں کی تفسیر و تشریح میں علامہ قرطبی ؒسے لے کر مفتی شفیع عثمانی ؒ تک اور امام انقلاب عبیداللہ سندھیؒ سے لے کر مولانا طاہرپنج پیری ؒتک ، قدیم و جدید علماء ومفسرین کی آراء و اقوال نقل فرماتے۔ علامہ اقبال اور مولانا روم کے فارسی اشعار سے بھی استدلال کرتے۔۔۔۔ماشاء اللہ

جامع مسجد خالد بن ولید میں دورہ تفسیر القرآن کا مکمل درس مولانا سرورشاہ(امیر جے یو آئی و سابق ممبر جی بی اسمبلی ) نے دیا۔مولانا سرور شاہ صاحب کا آخری درس کی مجلس کے لیے خصوصی پیغام اور دعوت نامہ موصول ہوا تو ہم نے بھی اپنی تمام ترحشر سامانیوں کے ساتھ شرکت کی۔۔۔۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جس طرح ثواب دارین برگیڈ کے خود ساختہ خدائی فوجدار اہل علم، اساتذہ کرام اور جید علماء کی محفلوں میں ناجائز غیبتیں کرکے مجھے رسوا و بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسے کئ گناہ زیادہ میرے اساتذہ اور جید اکابر علماء مجھ فقیر سے محبت بھی کرتے ہیں اور خصوصی ملاقات کے لیے وقت بھی عنایت کرتے ہیں اور اپنی اہم اور علمی مجلسوں میں مدعو بھی کرتے ہیں۔۔۔لاریب اہل علم کا یہی شیوہ اور انداز ہوتاہے۔کف گیروں اور چمچہ گیروں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔۔۔۔

آج(۲۷رمضان المبارک ۲۰۱۷) کی اس بابرکت محفل میں گلگت بلتستان کے نامور علماء نے شرکت کی جن میں مولانا قاضی نثاراحمد، مولانا سید محمد(خطیب جگلوٹ) مولانا حقنواز بلتستان، مولانا قاری امتیاز(رہنماء جے یو آئی) مولانامفتی شیرزمان(مہتمم دارالعلوم غذر) اور دیگر اہم علمی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سارے سیاسی قائدین اور ممبران اسمبلی بھی شریک تھے۔بڑے بڑے سرکاری آفیسران بھی موجود تھے۔عوام کی بڑی تعداد بھی تھی۔۔۔۔مولانا معاذ کے درس قرآن کے ساتھ مولانا سید محمد صاحب کے دعائے خیر اور قاضی نثاراحمد کے دورہ تفسیر پر’’مبارک بادی کلمات‘‘ نے سامعین کے ساتھ ہم جیسے ناکاروں کو بھی محظوظ کیا۔۔۔۔۔اللہ ان سب کو سلامت رکھے اور امن و آشتی کے پیامبر بننے کی توفیق دے۔اور قرآن کریم کا پیغام آمن و محبت چارسوپھیلائےاور ہم سب کو قرآن کے سایہ میں آنے کی توفیق کے ساتھ نزاعی و فروعی معاملات میں قرآن کریم کو ثالث بنانے کی بھی توفیق دے۔۔آمین۔۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 182134 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
22 Jun, 2017 Views: 497

Comments

آپ کی رائے