اسپورٹس

(Syed Yousuf Ali, arachi)

ٹیمل ملزکینسر کے باوجودانگلینڈ کےتیز رفتار ترین بالربن گئے
فروری میں آئی پی ایل،پی ایس ایل اور ہانگ کانگ ٹی20سے اتنی دولت مل گئی جوانگلینڈکے کپتان جوئے روٹ ایک سال میں کماتے ہیں

ٹی 20اسپیشلسٹ ٹیمل ملز اس وقت دنیا کے خوش قسمت ترین کرکٹر ہیں جن کا کیریئردو سال قبل صرف22سال کی عمر میں اس وقت تقریبا ًاختتام کو پہنچ گیا تھا جب ان کی ریڑھ کی ہڈی ایک ایسے مرض کی شکار ہو گئی جس میں مبتلا شخص کے لئے دوڑنا بھی مشکل ہوتا ہے۔وہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے کا خواب لے کر سسکس کائونٹی کی جانب سے کھیلنے کے لئے آئے تھے۔اپریل2015میں ایک کائونٹی چمپئن شپ میچ کھیلنے کے دوران ان کی کمر میں درد اٹھا۔ اگلے چند ہفتوں میں یہ درد اتنی شدت اختیار کر گیا کہ ملز کے لئے کرکٹ کیریئرسے زیادہ تکلیف سے آرام پانا اہمیت اختیار کر گیا۔اس مرض میں مبتلاشخص کی ریڑھ کی ہڈی سخت ہو کر رسولی بننے اوراعصابی کمزوری کا سبب بن جاتی ہے۔ملٹی پل اسکلیروسس (multiple sclerosis.) کی تشخیص نے ملزکا سرخ بال سے کھیلنے کا خواب بکھیرکر رکھ دیا۔اس پر یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ وہ 50اوور کی کرکٹ بھی نہیں کھیل سکتاکیونکہ اس کا جسم اتنی مشقت برداشت نہیں کر سکتا۔ڈاکٹروں نے32میچز کھیلنے والے ملز کومتنبہ کیاکہ اسے فوری طور پر کرکٹ چھوڑنا ہوگی۔انہیں بتایا گیا کہ 15سے20اوور کرانے کی صورت میں ان کے معذور ہو جانے کے خدشات ہیں۔ملز نے بی بی سی کو بتایا کہ گھر واپس جا کر میں نے خود سے سوال کیا کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں ؟ آخر کا رزمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی قوت ارادی کے تحت خود کو ٹی20 تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ٹیمل ملز واحد ٹی20اسپیشلسٹ نہیں مگر کرکٹ کی دنیا میں اس وقت جو کرکٹرزٹی20اسپیشلسٹ کی حیثیت سے کھیل رہے ہیں، ان کی عمریں 30سے40سال کے لگ بھگ ہیں اور وہ ٹیسٹ کرکٹ اور ایک روزہ انٹرنیشنل میچزسے ریٹائرمنٹ کے بعد ٹی20تک محدود ہو ئے ہیں ۔اس کے برخلاف ٹیمل ملز نے زندگی میں کوئی ٹیسٹ یا ون ڈے انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا۔

ٹیمل ملز نے ٹی20ڈیبو 5جولائی2016کوسری لنکا کے خلاف کھیل کر کیا جبکہ آخری ٹی20 یکم فروری 2017 کو انڈیا کے خلاف انڈین گرائونڈ پر کھیلا۔صرف چار ٹی20 میچز میں انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والے ملز کو صرف ایک اننگ میں بیٹنگ کا موقع ملا جس کے دوران انہوں نے دو گیندوں کا سامنا کیا مگر کوئی رن بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔تاہم انہوں نے ان میچز میں16اوور کرائے اور 116رنز کے عوض3وکٹیں لینے میں کامیاب ہوگئے۔ انہی تین وکٹوں نے ان کی زندگی تبدیل کر دی۔ملز کی اسی بالنگ پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے20فروری2017کو انڈین پریمئرلیگ(آئی پی ایل)کے لئے رائل چیلنجرز بنگلور نے نیلامی میں انہیں19کروڑ44لاکھ روپے(1.8ملین ڈالر) میں خرید لیا۔کرکٹ کے بعض حلقے تواتر سے یہ سوال کرتے رہے ہیں کہ صرف چار ٹی20میچز میں تین وکٹیں لینے والے ملز کو اتنے بھاری معاوضے پر کیوں لیا گیا ہے۔ درحقیقت فرنچائز کی جانب سے ملز کے لئے اونچی بولی لگانے کی تین اہم وجوہات تھیں۔ آسٹریلوی لیفٹ آرم فاسٹ بالرمچل اسٹارک قبل ازیں رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے کھیلتے تھے تاہم انہوں نے عین وقت پرفرنچائز کو آگاہ کیا کہ وہ آئی پی ایل میں کسی میچ کے لئے دستیاب نہیں ہوں گے جس کی وجہ سے فرنچائزرکے پاس ملز کے سوا دوسرا کوئی متبادل آپشن نہیں تھا کیونکہ وہ ملز کی 150کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز رفتار گیندیں دیکھ چکے تھے۔دوسری بات یہ کہ ٹی20 اسپیشلسٹ ٹیمل ملزبیٹنگ تو دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں مگر وہ لیفٹ آرم بالر ہیں جو کہ ٹی20فارمیٹ کے لئے ایک پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ بعض کرکٹرز ملز کے راتوں رات کروڑپتی بن جانے پر خوش نہیں تھے کیونکہ کرکٹ کی دنیا میں درجنوں نامور فاسٹ بالرز کی موجودگی کے باوجود ٹیمل ملز کا انتخاب کیا گیا تھا۔ خودجنوبی افریقی نژاد سابق انگلش بیٹسمین کیون پیٹرسن نے آئی پی ایل نیلامی کو ٹیسٹ کرکٹر کے منہ پر زوردار طمانچہ قرار دیا۔ انہوں نے ملز کا نام لئے بغیر کہا کہ آئی پی ایل سے ایک ایسا کھلاڑی انگلینڈ کا سب سے امیر کرکٹر بن گیا ہے جو صرف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہی کھیل رہا ہے۔ملز کو رواں سال فروری میں آئی پی ایل،پی ایس ایل اور ہانگ کانگ ٹی20سے اتنی دولت مل گئی جوانگلینڈ کے کپتان جوئے روٹ ایک سال میں کماتے ہیں۔ملز کو آئی پی ایل میں دوسرے سب سے مہنگے کرکٹر ہونے کا اعزاز بہر کیف ان کی خوش قسمتی ہے۔

2008میں شروع ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ کی 9سالہ تاریخ میں صرف چار ٹی20میچز کھیل کرتین وکٹیں لینے والے کسی کرکٹر کو اتنی زیادہ قیمت میں نہیں خریدا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیم ملز کو گزشتہ روز ختم ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں بھی بھاری رقم کے عوض ہائر کیا گیاتھاحالانکہ ملز اپنی کمر کے شدید درد کے باعث کوئٹہ گلیڈی ایٹر ز کی جانب سے پی ایس ایل کے تمام میچز نہیں کھیل سکئے۔ تاہم انھوں نے اپنی ٹیم کے لیے پہلے میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ 4فروری کو انہیں 8مارچ سے12مارچ تک ہونے والے ہانگ کانگ ٹی20بلٹز ٹورنامنٹ کے لئے کولون کینٹنز نے خرید لیا ۔ کولون کینٹنز کے ترجمان نے ملز کو ہائر کرنے کے بعد بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ ملززبردست پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے۔یہ حقیقت ہے کہ نہ صرف آئی پی ایل بلکہ پاکستان سپر لیگ اور ہانگ کانگ ٹی20بلٹز کی جانب سے بھی ٹیمل ملزکو حالیہ دورہ انڈیاکے دوران ان کی تیز رفتار گیندوں کو دیکھتے ہوئے ہائر کیا گیا۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کھیلنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفرازاحمد نے ٹیمل ملز کو ہائر کئے جانے کے بعد کہا کہ بالنگ میں ان کی ٹیم کا انحصار ملز پرہوگا۔ملز کو پی ایس ایل میںدوسری ٹیموں کے لیے ایک مشکل بالر قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بحیثیت کپتان میں بہت خوش ہوں کہ ان جیسا فاسٹ بالر ہماری ٹیم میں موجود ہے۔ آج ملز نہ صرف یارکر اور بائونسرپھینکنے کی مہارت رکھتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر کم رفتار سے بھی گیندیں پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔نومبر2014میںسسیکس کائونٹی نے ٹیمل ملز سے دو سالہ معاہدہ کر لیا تھا ۔وہ کمر میں تکلیف کے باعث سیزن میں صرف 12میچز کھیل سکے تھے۔ قبل ازیں ملز ایسکس کائونٹی کی جانب سے کھیلتے تھے۔

2015 کے سیزن سے قبل سسیکس کی جانب سے کھیل کا آغاز کرنے سے پہلے ملز کائونٹی کرکٹ میں 7.94رنز فی اوور کے عوض 25ٹی20وکٹیں لے چکے تھے۔تاہم انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے اور سسیکس کی جانب سے صرف ٹی20میچز کھیلنے کے باعث وہ مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں تھے جس کی وجہ سے انہوں نے دنیا بھر میں ہونے والے ٹی20ٹورنامنٹس میںحصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ انگلینڈ کی ٹیم کے دورہ انڈیا سے قبل ملزبنگلہ دیش پریمیئر لیگ ، نیوزی لینڈ سپر اسمیش اور آسٹریلین بگ بیش کھیل چکے تھے مگردنیا کی نظروں میں آنے والی پرفارمنس نہیں دے سکے تھے۔بگ بیش کھیلنے والی فرنچائزر برسبین ہیٹ کی جانب سے میچ کھیلنے کے لئے تاخیر سے گرائونڈ پہنچے تو ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوگیا۔ ایکریڈیشن کارڈ نہ ہونے پر سیکیورٹی افسران نے ملز کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں داخل ہونے سے ہی روک دیا۔کافی انتظار کے بعد ایک صحافی کی مدد سے عوامی راستے سے گزر کرگراؤنڈ میں داخل ہوئے ۔آئی پی ایل میں دوسرے سب سے مہنگے کرکٹرکا اعزاز حاصل کرنے والے ملز کا کہنا ہے کہ میں تصور بھی نہیںکر سکتا تھا کہ انڈین پریمیئر لیگ کے لئے میں 1.8ملین ڈالر میں فروخت ہو جائوں گا۔انہوں نے کہا کہ اب مجھ پر یہ دباؤ ہے کہ ا پنے انتخاب کو درست ثابت کروں۔ راتو ں رات کروڑ پتی بن گیا ہوں مگراس سے میرے لئے چیلنج بھی پیدا ہوگیا ہے کہ اپنے فرنچائز کی توقعات پر پورا اتروں۔انڈین پریمئر لیگ میں اپنی شمولیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیمل ملز نے کہا کہ میری واحد خواہش یہ تھی کہ میرا انتخاب کرلیا جائے۔ میری کم سے کم قیمت بہت کم تھی مگر اس کے باوجود میں یہ چاہتا تھا کہ آئی پی ایل کے لیے منتخب کرلیا جاؤں۔ میں اپنی اگلی کرکٹ کے لیے نیٹ ویسٹ ٹی 20ٹورنامنٹ کا انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا، جس کا انعقاد جون میں ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب میرا انتخاب ہوا تو میں نروس ہوگیاتھا۔ میں اس وقت اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ تھا۔ وہ اچانک زوردار آواز میں چیخا اور بتایا کہ بولی میں اسے 19کروڑ 44لاکھ روپے کے عیوض خریدلیا گیا ہے، یہ بہت بڑی رقم تھی، جب میں نے حساب لگایا تو حیرت کی انتہا نہیں رہی، کیوں کہ امریکی ڈالر میں یہ رقم 1.8ملین اور برطانوی کرنسی میں 1.2ملین پونڈ بن رہی تھی۔ مجھے یہ پتا چلا کہ میں آئی پی ایل کا دوسرا مہنگا ترین کھلاڑی ہوں۔ آئی پی ایل کی گفتگو کروڑوں اور لاکھوں میں ہورہی تھی ۔ ایک کروڑ کا مطلب 10ملین روپے ہوتا ہے۔ ملز نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے دوسرے کھلاڑیوں سے موازنہ کیا تو اپنی قسمت پر رشک ہوا۔ کرس ووک کو 5لاکھ پونڈمیں خریدا گیا تھا۔ جیسن رائے کی قیمت ایک لاکھ 20ہزار پونڈ لگی مگر حیرت انگیز طور پر جانی برسٹو اور ایلکس ہیلس کے لیے کسی فرنچائز نے بولی نہیں دی۔ ٹیمل ملز نے تسلیم کیا کہ آئی پی ایل مجھے دوسرے مہنگے ترین کھلاڑی کی حیثیت سے لیتے وقت فرنچائز کے سامنے میری انگلینڈ۔انڈیا ٹی 20میچز کی کارکردگی تھی۔ انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ19کروڑ 44لاکھ روپے میں رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے خریداری کے باعث انھیں پاکستان سپر لیگ اور ہانگ کانگ ٹی 20کے لیے بھی ہائر کیا گیا۔ آئی پی ایل میں وہ رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے کھیلیں گے ، جس کے کپتان ویرات کوہلی ہیں ، جب کہ دیگر غیر ملکی کھلاڑیوں میں کرس گیل، شین واٹسن اور اے بی ڈی ویلیئرز شامل ہیں۔

اس وقت ملز انگلینڈ کے سب سے تیز رفتار بالر ہیں جو ٹی20 میچز میں اکثروبیشتر150کلو میٹر سے زیادہ تیزرفتاری سے گیندیں کراتے رہے ہیں۔انگلینڈ کی جانب سے انڈیا میں کھیلی گئی تین ٹی20میچز کی سیریز گوکہ انگلینڈ1-2سے ہار گیامگر شائقین یہ منظراب تک نہیں بھولے جب بھارتی بیٹسمین ان کی گیندوں سے اپنا جسم بچانے کی جستجو کر رہے تھے۔ملز کی ایک تیز گیندگریم سوان کے بازو پر لگنے کے باعث وہ 2015میںایشز سیریز نہیں کھیل سکے جبکہ نیٹ پریکٹس کے دوران ملز کے بائونسر سے ہٹ ہونے کا واقعہ السٹر کک اب تک فراموش نہیں کر سکے ہیں۔ ملز نے ڈاکٹروں کی تشخیص کے بعد اپنے احساسات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرحلے پر اس نے دوستوں کو جمع کر کے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں وہ واپس یونیورسٹی چلے جاتے ۔ وہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن پر اسپورٹس جرنلزم کا کورس کر رہے تھے مگر کرکٹ کیریئر کا شوق انہیں تعلیم ادھوری چھوڑ کر گرائونڈز پر لے گیا تھا۔ٹیسٹ کرکٹ نہ ملنے پر وہ خود کو دیگر سرگرمیوں میں مصروف رکھنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے موسم خزاں میں اپنا لیول ٹو کوچنگ کورس بھی مکمل کیا۔ملز کہتے ہیں کہ قوت ارادی مضبوط ہو تو انسان پہاڑوں کو بھی توڑ سکتا ہے۔ اپنی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر جب ڈاکٹروں نے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں رسولی یا کینسر کی موجودگی کے لئے ٹیسٹ کی ہدایت کی تو انہیں محسوس ہوا کہ دنیا اندھیر ہو گئی ہے تاہم حوصلے سے کام لیتے ہوئے میں نے آنے والی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب مجھے بتایا گیا کہملٹی پل اسکلیروسس (multiple sclerosis.) کی تشخیص ہوئی ہے تو میں نے خود کو ٹی20تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بلا شبہ میں 50اوور کے ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کھیل سکتا مگر میں نے خود کو ٹی20میں منفرد بالر کی حیثیت سے خود کو منوانے کا عزم کر لیا ہے۔ اپنی بیماری سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے ٹیم ملز نے کہاکہ ملٹی پل اسکلیروسس دراصل ایک ایسا مرض ہے جو کہ دماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس مرض میں جسم کا مدافعتی نظام خود جسم کے خلاف کام کرنے لگتا ہے اور انفیکشن سے لڑنے کی بجائے خود جسم کے مدافعتی نظام کے خلاف متحرک ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد ملٹی پل اسکلیروسس کے مرض میں مبتلا ہیں تاہم اگر مریض جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہ ہو تو اسے مرض کی موجودگی کا علم ہی نہیں ہوتا۔

(یہ آرٹیکل روزنامہ جنگ میں شائع ہو چکا ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed yousuf ali

Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 48835 views »
I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More
05 Jul, 2017 Views: 521

Comments

آپ کی رائے