کرکٹ

(Syed Yousuf Ali, Karachi)
کیا یکم فروری سے نافذبرطانوی ہیلمٹ کے قانون پر عمل ہوسکے گا؟
کرکٹرز کو دو مرتبہ خلاف ورزی پروارننگ‘تیسری خلاف ورزی پر ایک میچ کی پابندی لگ جائیگی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے گزشتہ ماہ مردوں اور خواتین کے بین الاقوامی ایونٹس کے دوران ہیلمٹ سیفٹی کیلئے نئے قوانین کا اعلان کیا تھا۔ان قوانین کے تحت بیٹسمین کو ہروقت ہیلمٹس لازمی طور پر پہننے کا پابند نہیں کیاگیا تاہم یہ کہاگیاہے کہ جب ایک بیٹسمین کا کھیلنے کیلئے انتخاب کرلیاجائے تو اس کا ہیلمٹ نئے برٹش اسٹینڈرڈ BS7928:2013 کے عین مطابق ہوناچاہئے نئے قوانین کا انٹرنیشنل کرکٹ پر یکم فروری 2017 سے اطلاق ہوچکا ہے۔قانون کی خلاف ورزی کے ابتدائی دو واقعات پر بیٹسمین کو سرکاری طور پر وارننگ دی جائے گی جبکہ تیسری بار خلاف ورزی کی صورت میں اسے ایک میچ کیلئے معطل کردیاجائے گا۔نئے قوانین میں آئی سی سی کے یونیفارمز اور ایکوئپمنٹ کے قوانین کوشامل کیاگیاہے۔برطانوی معیار کی تکمیل کیلئے تیار کئے گئے ہیلمٹس میں اوپری چھجے اور جنگلے کے درمیان بہت تنگ فاصلہ ہوگا اور وہ ہر جانب ایڈجسٹ نہیں ہوسکے گا جس کے نتیجے میں گیند کے ابتدائی طورپر ٹکرانے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔آئی سی سی کے جنرل منیجر جوف الرڈائس کاکہنا ہے کہ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تمام پلیئرز دستیاب محفوظ ہیلمٹ کا استعمال کریں۔ہمارے ارکان کی ایک ترجیح ہے کہ تمام بیٹسمین پلیئرز پر پابندی لگتی ہوئی دیکھنے کی بجائے دستیاب محفوظ ہیلمٹ پہنیں۔الرڈائس نے کہا کہ یہ دیکھ کر ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ انٹرنیشنل پلیئرز کی اکثریت یکم جنوری 2017 سے سیفٹی ضڑوریات کیلئے تصدیق شدہ ہیلمٹس استعمال کررہے ہین مگر بعض ٹیموں نے درخواست کی ہے کہ پلیئرز پر پابندی کا عمل شروع ہونے پر ان کی معاونت کے لئے مزید وقت دیاجائے اس درخواست کے پیش نظر تمام ٹیموں اور کھلاڑیوں کو نئے قوانین پر عمل درآمد کیلئے وقت میں توسیع دے دی گئی ہے اس توسیعی مدت کے گزرنے پر قوانین پرسختی سے عملدرامد کرایاجائے گا۔گزشتہ سال جون میں آئی سی سی کرکٹ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہاتھا کہ برطانوی سیفٹی اسٹینڈرڈ کے تحت تیار کئے گئے ہیلمٹ انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے لازم ہیں۔نومبر 2015 میں ای سی بی نے انگلینڈ میں تمام پروفیشنل کرکٹرز پر برطانوی معیار BS7928:2013 کے تحت ہیلمٹس بیٹنگ اور وکٹ کے نزدیک فیلڈنگ کے دوران پہننا لازمی قرار دیاتھا۔بیٹنگ کے دوران اور وکٹ کے قریب رہ کر فیلڈنگ کرنے والے پلیئرز کے لیے اعلیٰ معیاری ہیلمٹ استعمال کرنے کا فیصلہ حال ہی میں متعدد کھلاڑیوںکے گرائونڈ میں زخمی ہونے‘عمر بھر کیلئے معذور ہوجانے حتیٰ کہ چند پلیئرز کے موت کی آغوش میں پہنچ جانے کے پس منظر میں کیاگیاہے بالخصوص فلپ ہیوز کی موت کاجائزہ لینے والی ماہرین کی کمیٹی نے جو رپورٹ تیار کی اس میں واضح طور پر تحریر ہے کہ وقت آگیاہے کہ کرکٹ کے کھیل کی مقبولیت کو برقرار رکھنے کیلئے پلیئرز کوکھیل کے دوران خطرات سے مکمل تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔حال ہی میں جاری آئی سی سی بیان میں کہاگیاہے کہ کرکٹ میچز اور پریکٹس کے دوران جن ہیلمٹس کا استعمال لازمی قرار دیاگیاہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کے ہوں جس میں بیٹنگ کرنے والے اور وکٹ کے قریب فیلڈنگ کرنے والے پلیئرز کے سر اور چہرے کو مکمل تحفظ حاصل ہو۔قبل ازیں کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سدر لینڈ نے میلبرن کرکٹ گرائونڈ پر رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ معیاری ہیلمٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دن کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرا جب فلپ ہیوز کے ساتھ پیشآنے والے حادثے کی فلم ہماری نظروں کے سامنے سے نہ گزری ہو۔فلپ ہیوز شیفلڈ شیلڈ کے ایک میچ کے دوران سرپرگیند لگنے سے شدید زخمی ہوگئے تھے۔انہیں اسٹریچر کے ذریعے اسپتال منتقل کیاگیاتاہم وہ کئی روز تک موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 25 نومبر 2014 کو انتقال کرگئے 25 سالہ کھلاڑی نے 26 ٹیسٹ میچز میں 3 سنچریوںا ور 7 نصف سنچریوں کی مدد سے 1535 رنزبنائے تھے اگر موت انہیںمہلت دیتی تو یقیناً وہ بہت سے نئے ریکارڈ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔فلپ ہیوز کی موت کے بعد کرکٹ میں بالخصوص فاسٹ بالرز کی بائونسرز کا سامنا کرتے ہوئے بیٹسمین کے تحفظ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں نصف صدی کے دوران بھی درجنوں کھلاڑی میدان میں شدید زخمی ہونے کے باعث زندگی بھر کیلئے معذور یا موت کی آغوش میں جاچکے ہیں مگر فلپ ہیوز کی موت نے آئی سی سی کو نئے قوانین پر مجبور کردیا۔فلپ ہیوز کی موت کے بعد پلیئرز کو درپیش خطرات کاجائزہ لینے کیلئے آئی سی سی کے خصوصی ماہر کی جانب سے ڈیوڈ کریٹن نے جو رپورٹ تیار کی اس میں وکٹ کیپرز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی آنکھ کی حفاظت کیلئے اس پر کچھ نہ رکھیں‘ ساتھ ہی خبردار کیاگیاہے کہ وہ گردن کے اطراف لپیٹے جانے والے حفاظتی گارڈ کا استعمال ترک کردیں کیونکہ یہ دونوں چیزیں فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان کاباعث بن جاتی ہیں حال ہی میں معروف بنگلہ دیشی بلے باز مشفق الرحیم کے سر پر گیند لگ جانے کے باعث شدید زخمی ہوجانے کے واقعہ نے بھی معیاری ہیلمٹ کے استعمال کاموقف مضبوط کیاہے گوکہ اکثربین الاقوامی کرکٹرز نے یکم جنوری 2017 کے اعلان کے بعد مطلوبہ معیار کا ہیلمٹ پہننا شروع کردیاتاہم ایسے پلیئرز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ یکم فروری 2017 کی ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود اس پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کرتے ہوئے پلیئرز کی حفاظت کویقینی بنایاجائے۔
یہ آرٹیکل روزنامہ جنگ میں شائع ہو چکا ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed yousuf ali

Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 50046 views »
I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More
05 Jul, 2017 Views: 429

Comments

آپ کی رائے