توحید باری تعالی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ کی نظر میں

(محمد اعظم, لاہور)
ابو بصير نے امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ آپ عليہ السلام نے فرمايا:
إِنَّ اللَّہ تَبَارَكَ وَ تَعَالَی حَرَّمَ أَجْسَادَ الْمُوَحِّدِينَ عَلَی النَّار.
خداوند متعال نے موحدين اور خدا پرستوں کے اجسام کو آتش جہنم پر حرام کر ديا ہے-

توحید باری تعالی پیغمبر اکرم ص اور آئمہ کی نظر میں

توحید باری تعالی کی صحیح معرفت کے لئے ضروری ہے کہ قرآن ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کی پاک آل کی طرف رجوع کیا جائے تاکہ خداوند کی صحیح معرفت حاصل ہو سکے ۔
رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں:
إِنَّ اللَّہ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَعَدَنِي وَ أَہلَ بَيْتِي خَاصَّةً مَنْ أَقَرَّ مِنْهُمْ بِالتَّوْحِيدِ فَلَہ الْجَنَّہ قَالَ وَ مَا جَزَاءُ مَنْ أَنْعَمَ اللَّہ عَلَيْہ بِالتَّوْحِيدِ إِلَّا الْجَنَّة.
بيشک خداوند نے مجھ سے اور فقط ميرے اہل بيت عليہم السلام وعدہ کيا ہے کہ ان ميں سے جو بھي خدا کي توحيد اور وحدانيت کا اقرار کرے اس کا اجر جنت ہے، اور فرمايا ہے کہ جس شخص پر خدا نے توحيد کے سبب انعام کيا اس کي جزاء صرف بہشت ہے-
اميرالمومنين عليہ السلام سے روايت ہے کہ آپ عليہ السلام نے فرمايا: ميں نے پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمايا:
التَّوْحِيدُ ثَمَنُ الْجَنَّةِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَفَاءُ شُكْرِ كُلِّ نِعْمَةٍ وَ خَشْيَةُ اللَّهِ مِفْتَاحُ كُلِّ حِكْمَةٍ وَ الْإِخْلَاصُ مِلَاكُ كُلِّ طَاعَةٍ.
توحيد (يعني خدا کي وحدانيت کا اقرار کرنا) جنت کي قيمت ہے، اور خدا کي حمد و ثناء بجالانا ہر نعمت کے شکر کي وفا ہے اور خدا سے ڈرنا ہر حکمت کي چابي ہے اور اخلاص (يعني خدا کے ليے اپني نيت کو خالص کر لينا) ہر طاعت کے قبول ہونے کا ملاک اور سبب ہے-
عمر بن علي (ع) نے اپنے بابا اميرالمومنين عليہ السلام سے اور انہوں نے حضرت رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے نقل کيا ہے کہ آپ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا:

التَّوْحِيدُ ظَاهِرُهُ فِي بَاطِنِهِ وَ بَاطِنُهُ فِي ظَاهِرِهِ ظَاهِرُهُ مَوْصُوفٌ لَا يُرَى وَ بَاطِنُهُ مَوْجُودٌ لَا يَخْفَى يُطْلَبُ بِكُلِّ مَكَانٍ وَ لَمْ يَخْلُ مِنْهُ مَكَانٌ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَاضِرٌ غَيْرُ مَحْدُودٍ وَ غَائِبٌ غَيْرُ مَفْقُود.
توحيد، يعني اس چيز کا قائل ہونا کہ خدا نہ باطن رکھتا ہے اور نہ ظاہر، اس کا ظاہر اس کے باطن ميں اور اس کا باطن اس کے ظاہر ميں ہے، اس کا ظاہر ايسا موصوف ہے کہ جسے ديکھا نہيں جا سکتا اور اس کا باطن ايسا موجود ہے کہ جو مخفي اور پوشيدہ نہيں ہے، اسے ہر جگہ پر پايا جا سکتا ہے اور کوئي بھي جگہ (حتي کہ) پلک جھپکنے کي مقدار کے برابر بھي اس سے خالي نہيں ہے وہ ايسا حاضر ہے کہ جسے محدود نہيں کيا سکتا اور ايسا غائب ہے کہ غير مفقود ہے (يعني ظاہري آنکھوں سے دور ہے درحاليکہ کہ ناپيد اور غائب نہيں ہے۔
ابو بصير نے امام صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ آپ عليہ السلام نے فرمايا:
إِنَّ اللَّہ تَبَارَكَ وَ تَعَالَی حَرَّمَ أَجْسَادَ الْمُوَحِّدِينَ عَلَی النَّار.
خداوند متعال نے موحدين اور خدا پرستوں کے اجسام کو آتش جہنم پر حرام کر ديا ہے-
فضل بن شاذان سے مروي ہے کہ امام رضا عليہ السلام نے فرمايا:
مَنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَ نَفَى التَّشْبِيهَ إِلَى أَنْ قَالَ وَ أَقَرَّ بِالرَّجْعَةِ بِالْيَقِينِ وَ اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ فَھُوَ موْمِنٌ حَقّاً وَ هُوَ مِنْ شِيعَتِنَا أَهْلَ الْبَيْت.
جو شخص توحيد کا اقرار کرتا ہو اور خدا کے ليے تشبيہ کا قائل نہ ہو يہاں تک آپ عليہ السلام نے فرمايا: اور پورے يقين کے ساتھ رجعت کا اعتقاد رکھتا ہو اور کبيرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو ، وہ سچا مومن اور ہمارے شيعوں ميں سے ہے-
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی پاک آل نے تفصیل سے ایک سچے مومن اور توحید پرست کی علامات بیان فرمائی ہیں جیسا کہ قرآن میں آیا ہے " لیس کمثلہ شیء" اسی طرح اوپر والی حدیث میں بھی آیا ہے کہ توحید پرست کبھی بھی تشبیہ کا قائل نہیں ہو سکتا ۔
یعنی اگر کوئی مسلمان اپنے آپ کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی پاک آل کا غلام اور مومن کہلاتا ہے تو وہ کبھی بھی خدا کو کسی کے ساتھ بھی تشبیہ نہیں دے گا ، لیکن افسوس کہ آج کل مسلمان تشبیہ تو دور کی بات خدا کے جسم اور بدن بھی بیان کرتے ہیں ، صرف ایک فرقہ جو اپنے آپ کو شیعہ کہلاتے ہیں یہ کہتے تھے کے خداوند نہ جسم رکھتا ہے نہ کوئی اس کے مشابہ ہے لیکن آج ان کے ممبروں سے بھی ضمیر اختر نقوی اور حافظ تصدق جیسے نامور افراد اس قوم کو گمراہ کر رہے ہیں اور اپنی تقاریر میں نہ صرف خدا کو انسان سے تشبیہ دیتے ہیں بلکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاک آل کو خدا سے تشبیہ بھی دیتے ہیں جو سرا سر کفر ہے لیکن کوئی بھی ان کو روکنے کو تیار نہیں ہے ۔
خداوند ہم سب کو اپنی حقیقی معرفت عطا فرمائے اور کفر اور شرک سے محفوظ فرمائے ۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اعظم

Read More Articles by محمد اعظم: 41 Articles with 29533 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jul, 2017 Views: 911

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ