نماز پڑھنا سب مسلمانوں پر فرض ہے

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
اس پر یہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سب کو نمازی بنانے کے لیے سارے لوازمات پورے کرے اپنے والدین کو نماز قائم کرنے میں مدد کرے والدین اگر ساری زندگی بے نماز رہے ہیں تو ان کو نماز کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے ان سے بڑے پیار سے نماز پڑھنے کی درخواست کریں کہ آپ بس نماز پڑھا کریں اور ہمارے لیے دعا کیا کریں کیونکہ ہمیں آپ کی دعاوں کی ضرورت ہے آپ نماز نہیں پڑھیں گے تو ہم بھی بے نمازی بن جائیں گے تو اللہ ہم سب سے ناراض ہوجائے گا اور بچّوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جس سے وہ نماز قائم کریں

اسلام میں نماز ایک اہم رکن کی حیثیّت رکھتی ہے جو نماز نہیں پڑھتا وہ اللہ کا نافرمان ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے حالانکہ مسمان کا معنیٰ ہی یہ ہے کہ اللہ کا فرماں بردار تو اللہ نے قرآن میں بار بار نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے تو جو نا خود نماز پڑھتا ہے نا اپنے اہل وعیال اور اپنے ماتحتوں کو نماز پڑھاتا ہے وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے کیوں کہ نماز قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے کوئی ادارہ قائم کیا جاتا ہے جس میں ایک باس ہوتا ہے مینیجر ہوتے ہیں منشی ہوتے ہیں ملازمین ہوتے ہیں دفاتر ہوتے ہیں اور بہت سے لوازمات ہوتے ہیں تب جا کے کوئی ادارہ قائم ہوتا ہے اس ادارے کو قائم کرنے کے لئے جیسے بہت سارے وسائل اور افراد اور ڈھیر سارے مال و دولت کی ضرورت ہوتی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح نماز قائم کرنے کے لیے بھی جو باس ہوتا ہے خاندان کا سربراہ ہوتا ہے

اس پر یہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سب کو نمازی بنانے کے لیے سارے لوازمات پورے کرے اپنے والدین کو نماز قائم کرنے میں مدد کرے والدین اگر ساری زندگی بے نماز رہے ہیں تو ان کو نماز کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے ان سے بڑے پیار سے نماز پڑھنے کی درخواست کریں کہ آپ بس نماز پڑھا کریں اور ہمارے لیے دعا کیا کریں کیونکہ ہمیں آپ کی دعاوں کی ضرورت ہے آپ نماز نہیں پڑھیں گے تو ہم بھی بے نمازی بن جائیں گے تو اللہ ہم سب سے ناراض ہوجائے گا اور بچّوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جس سے وہ نماز قائم کریں اور گھر کے نوکروں کو بھی نماز پڑھانی لازمی کر دینی چاہیے اور نماز کے لیے ان کو کام سے چھٹّی دینی چاہیے کہ جاوں جاکر نماز پڑھ کر آو کام واپس آکر کر لینا اور اپنے سب گھر والوں کو نماز کا حکم دینا چاہیے اور جو نماز پڑھتا ہو اس سے محبت کرنی چاہیے جو نماز نہیں پڑھتا ہو اس سے نفرت کرنی چاہیے اس سے ناراضگی کا اظہار کرنا چاہیے اور جس پر بس چلتا ہو اس کو نماز نا پڑھنے پر مارنا چاہیے جیسا کہ بچّوں اور غلاموں کو نماز نا پڑھنے پر دو چار دس ڈنڈے مارنے چاہیئیں

یہ کام اللہ کا حکم سمجھ کر ایسے کرنا چاہیے جیسے انسان ان کو کھانا لباس اور رہائش اور دوسری چیزیں مہیّا کرتا ہے اور روپیا پیسا دیتا ہے جیسے کوئی بچّا کام کے دوران لاکھوں کروڑوں کا نقصان کر دیتا ہے تو اس کو تو مار مار کر ہلقان کر دیا جاتا ہے کہ اتنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کا نقصان کر دیا اسی طرح نماز پر پٹائی کرنی چاہیے کیونکہ ایک نماز کو ادا نا کرنا ایسا ہی بیان کیا گیا ہے کہ جیسے کروڑوں کا نقصان ہو گیا ہو یہ باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور ہمارے معاشرے میں کیا ہوتا ہے کہ سکول کی پڑھائی جو لازمی نہیں ہے اس کو لازمی کر دیا گیا ہے اور نمازپڑھنا جو سب مسلمانوں پر لازم ہے اس کو اہمیّت ہی نہیں دی جاتی نوکری کے لیے اور دوسرے کاروباری معاملات میں سند سکول کی تعلیم کی طلب کی جاتی ہے کہ جس کے ساتھ ہم اہم ایگریمنٹ کر رہے ہیں جس کو اپنا ملازم بنانا ہے جس نے آپ کے مال کاروبار اور بیوی بچّوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے جو آپ کو اپنی عادات میں بھی مبتلا کرسکتا ہے کہ وہ اگر سگریٹ پیتا ہے اور جیسا لباس پہنتا ہے جیسا اس کا رہن سہن ہے اس کا آپ پر اور آپ کے اہل وعیال پر اثر پڑنا ہے اس کے بارے میں یہ سند ضروری ہی نہیں ہے کہ یہ نمازی بھی ہے کہ نہیں

قرآن وحدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس کو اپنا گیٹ کیپر بنا نا ہے ڈرائیور یا مالی بنانا ہے یا گھر کے دیگر کام کرنے والے نوکر اور نوکرانی کو گھر میں رکھنا ہے تو اس پر نماز باقائدگی سے پڑھنے کے بارے میں معلوم کرنا چاہیے کہ جو نا پہلے نماز پڑھتا تھا اور نا ملازمت کے دوران وہ نماز پڑھتا ہے وہ گھر کے لیے انتہائی خطرناک ہے اس لیے ایسے ملازمین رکھنے چاہئیں جو نماز کے عادی ہوں اور بچپن سے نمازی ہوں ان کو زیادہ اہمیّت دینی چاہیے صرف سکول کی سند پر کہ یہ ڈگریوں والا ہے اس لیے اس کو ہیڈ کلرک یا مینجر بنانا ہے یا سیکرٹری یا بزنس ایڈوائزر بنانا ہے ہماری یہ سوچ دور دور تک نہیں ہوتی ہے کہ اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نماز کو قائم کرنا ہے خود بھی نماز پڑھنی ہے اور اپنے اہل وعیال کو بھی پڑھانی ہے اور اپنے ملازمین کو بھی پڑھانی ہے اور اس طرح پاکستانی مسلمان عیسائیوں اور ہندووں سکھوں اور دوسرے کافروں کے آگے بے بس بن جاتے ہیں سب کو یہ ہی فکر ہوتی ہے کہ ہمیں عیسائیوں یہودیوں اور سیکولر بے دین لوگوں کو ہی اپنے سر پہ سوار کرنا ہے اور انسانیت کی دہائی دی جاتی ہے

کیا دوسرے مذاہب کے آگے ہتھیار ڈال دینا اور لڑے بغیر ہی شکست تسلیم کرکے ان میں کھل مل جانا ہی انسانیت ہے کیا مسلمان اور کافر کا ووٹ برابر ہے اسلیے اسے بھی کافر کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی ہے جتنی مسلمان کو دینی ہے کیا یہ انسانیت ہے حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل شریعت کو ردّ کر دیتے ہیں اور کھلے اور چھپے مخالفت کرتے ہیں وہ ظالم ہیں اور ظالموں اور غدّاروں کا ساتھ دینے والے بھی ظلم میں برابر کے شریک اور شامل ہوتے ہیں اللہ کا نافرمان بن جانا اور انسانیت کے نام پر کافروں میں کھل مل جانا اور جو لوگ اللہ کے دین کی طرف بلاتے ہیں ان کے خلاف محاذ آرائی ایسی کہ اگر وہ وہابیوں کی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اس کو لوٹا قرار دے کر ذلّت و رسوائی کا نشانہ بنانا اور غدّار قرار دے کر اس کے مال جان اور عزّت کو حلال قرار دے کر لوٹ مار کرنا یہ انسانیت ہے یا شیعہ کافروں والا مذہب اپنا لینا کہ جو اسلام اور اہل اسلام کے لیے ہلاکت خیز رہے ہیں ان کو عیسائیوں سے بھی زیادہ اہمیت دینا کہ یہ مسلمان تو ہیں جو مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں جن کے عقائد یہودیوں کی طرح ہیں اور مرزائیوں کی طرح ہیں جن کا ہر عمل قرآن و حدیث کے خلاف ہے جو نماز کو مانتے ہی نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کا چاہے کوئی رام کہہ کر پکارے یا رام کہہ کر پکارے بات ایک ہی ہے کوئی ناچ کے یار منالے یا عزّت و ناموس بیچ کر بات ایک ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84382 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jul, 2017 Views: 509

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ