تورات کی تصدیق منقول از فیسبک

(Ubaidullah Latif, Faisalabad)

۔ تورات کی تصدیق منقول از فیسبک
تحریر :۔ حکیم عمران ثاقب
صحف سماویہ کی تصدیق ؟؟؟ اہل کتاب اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں قرآن کریم نے تورات وانجیل کی تصدیق کی ہے لہذا اس تصدیق کے بعد اس میں تحریف اور ان کتب کے ضائع ہونے کا دعوی کیوں ؟ یاد رہے کہ قرآن کریم نے صرف تورات وانجیل کی ہی تصدیق نہیں فرمائی بلکہ تمام صحف سماویہ کی تصدیق فرمائی ہے اور تصدیق صرف یہ ہے کہ مبینہ کتب خدا تعالی کی نازل کردہ ہیں آج ان کتب کی حقیقت کیا ہے وہ بھی بیان فرما دی کہ ان کا بہت سا حصہ انہوں نے ضائع کر دیا احکام الہیہ کو بدل دیا اس کے کلمات میں تحریف بھی کرتے رہتے ہیں وغیرہ ہمارے لیے قرآن کریم کا حکم ہے کہ : یاایھا الذین امنوآ ٰامنو باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر فقد ضل ضللا بعیدا اے ایمان والو الله اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر ایمان لاو جو اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے نیز اس کے اس کتاب پر بھی جو قبل ازیں نازل کیں اور جو شخص الله اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور یوم آخرت کا انکار کرے تو وہ گمراہی میں بہت دور تک چلا گیا : سورہ بقرہ میں ارشاد ہے امن باللہ وکتب ورسلہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ ایمان لائے الله تعالی پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر : یہ ہے ان کتابوں پر ایمان لانا دہریہ قسم کے لوگ کہتے ہیں نہ کوئی خدا ہے نہ فرشتے نہ اس کی طرف سے کوئی کتاب یہ ایسے لوگوں کے اس دعوی کے تردید ہے کہ الله تعالی کی ذات حق ہے اس کے فرشتے اس کی نازل کردہ کتب اور اس کے مبعوث کردہ رسول سب حق ہے اس پر ایمان لاو اور ان کا انکار کرنے والے کافر ہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں کہاں یہ بات اور کہاں مسیحی فاضل کا مغالطہ ہم آج بھی ایمان رکھتے ہیں کہ تورات زبور انجیل صحف ابراہیم و موسی اور زبر الاولین خدا تعالی کے نازل کردہ ہیں وانہ لفی زبر الاولین آج ان کتب کی حقیقت کیا ہے قرآن کریم نے وہ بھی واضح فرما دیا کہ آج ان کا بہت سا حصہ گم ہوچکا یہ تحریف وتبدل بھی کرتے رہتے ہیں جو آج کی مروجہ بائبل کی اندرونی شہادتوں سے بھی واضح ہے لہذا واضح ہو کہ ایمان ان کتب کا خدا تعالی کی طرف سے نازل ہونے پر ہے : اس پر ایمان نہیں کہ یہ لاریب ہیں یا ان میں تحریف وتبدل نہیں بلکہ ان کتب کے بعض حصوں کا ضائع ہونا اور جو باقی بچا اس میں تحریف وتبدل کا ہونا قرآن کریم نے بیان فرما دیا ہے : فبما نقضھم میثاقھم لعنٰھم وجعلنا قلوبھم قٰسیة یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسوا حظا مما ذکروا بہ ولا تزال تطلع علی خآئنة منھم الا قلیلا منھم( مائدہ 13 ): پھر چونکہ انہوں نے اپنے عہد کو توڑ ڈالا لہذا ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور اب یہ حال ہے کہ کتاب مقدس کے کلمات میں تحریف کرتے رہتے ہیں اور ضائع کر دیا انہوں نے اس کا بہت سا حصہ ماسوائے چند آدمیوں کے ان کی خیانتوں کا آپ کو علم ہوتا رہتا ہے : لہذا اب اچھی طرح واضح ہوگیا کہ ہمارا ایمان ان کتب پر خدا تعالی کی طرف سے نازل ہونے پر ہے باقی رہی ان کی اصلیت تو وہ یہ ہے کہ الواح موسی ٹوٹ کر ضائع ہوگئیں بہت سی کتب جل کر ضائع ہوگئیں باقی میں یہ من مرضی سے تحریف کرتے رہتے ہیں اور مختلف ورژن کی صورت میں ان کی تحریفی خیانتوں کا علم آج بھی ہمیں ہوتا رہتا اس وضاحت کے بعد ہم چلتے ہیں مسیحی اعتراض کی طرف ایک مسیحی فاضل نے یہ سمجھے بغیر کہ ہم ان کتب پر کیا اور کیسے ایمان رکھتے ہیں ایک حدیث نقل کرکے قیاس مع الفارق کیا ہے اور اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی ناکام سعی کی ہے کہ عہد نبوی میں تورات تحریف سے پاک تھی پہلے ہم مسیحی دوست کی نقل کردہ حدیث پیش کرتے ہیں حدیث میں ہے : یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول صلی الله علیہ وسلم کو بلا کر قف لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس (یہود کا مدرسہ ) تشریف لے گئے تو وہ کہنے لگے ابوالقاسم ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا ہے آپ ان کا فیصلہ کر دیجیے ان لوگوں نے رسول صلی الله علیہ وسلم کے لیے ایک گاو تکیہ لگایا آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس تورات لاو چنانچہ وہ لائی گئ آپ نے اپنے نیچے سے گاو تکیہ نکالا اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا : میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر الله تعالی نے تجھے نازل کیا ہے پھر آپ نے فرمایا جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاو چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جیسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے :( ابوداود جلد چہارم حدیث نمبر 4449 ) یہ رجم کے فیصلہ سے پہلے کا واقعہ ہے جو ابوداود نے نقل کیا ہے یہ حدیث اکثر کتب میں موجود ہے جس میں اس سے آگے کا واقعہ بھی درج ہے مثلا : صحیح بخاری: 3635، 4556، 6819، 6830، 6841، 7543،
صحیح مسلم : 1699
سنن ابی داود : 4446
سنن ترمذی : 1436
سنن ابن ماجہ : 2556
صحیح ابن حبان : 4434
مسند احمد : 4498 : واقعہ کچھ یہود مدینہ ایک معاہدہ کے ساتھ مدینہ میں مقیم ہیں اور معاہدہ کے مطابق وہ اپنے باہمی نزاعات کا فیصلہ تورات کے مطابق کر سکتے ہیں چنانچہ اس دوران مدینہ میں دو اہم واقعات پیش آئے ایک قتل کا ایک یہودی نے زیورات کے لیے ایک بچی کا قتل کیا دوسرا واقعہ زنا کا پیش آیا یہود چاہتے ہیں تورات کے احکام کو پس پشت ڈال کر انہیں رجم سے بچایا جائے اور قاتل کو قتل سے بچایا جائے اور صریح جھوٹ بولا جائے کہ ہماری تورات میں قتل کا بدلہ دیت اور زنا کی سزا درے مارنا ہے یہود نے ایک سازش اور شرارت کے تحت اپنی خود ساختہ سزا کو جو تورات کے بالکل برعکس تھی رسول کریم کے ہاتھوں دلوانے کا فیصلہ کیا اس سے یہود کو دو فائدے تھے پہلا فائدہ یہ تھا کہ جب آپ ان کی خواہش کے مطابق فیصلہ کرتے تو کوئی اور بھی معترض نہ ہوتا دوسری خاص اور اہم وجہ یہ تھی کہ جب آپ ان کی خواہش کے مطابق احکام تورات کے برعکس فیصلہ کر دینگے تو انہیں اعتراض کا بھی موقع مل جائے گا کہ یہ کیسا نبی ہے جسے بذریعہ وحی اتنی خبر تک نہ ہوسکی تورات میں اس بارے کیا حکم ہے یہ تھے اصل اسباب اس واقعہ کے ورنہ یہود کو کوئی ضرورت نہ تھی آپ سے فیصلہ کروانے کی نہ وہ آپ سے فیصلہ کروانے کے پابند تھے تورات عام نہ تھی بلکہ یہود کے خاص ہاتھوں میں تھی لہذا یہودی ربیوں کے سوا عام یہودی بھی تورات کے احکام سے آگاہ نہ تھے لہذا رسول پاک کو الله تعالی نے بذریعہ وحی تورات کے احکام بتائے لہذا یہ فیصلہ بڑا اہم تھا یہود نے یہ اپنی طرف سے یہ ایک کسوٹی مقرر کی تھی تاکہ معلوم ہو کہ آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہوتا ہے کہ نہیں ایسی ہی شرارت یہود نے یسوع مسیح کے ساتھ بھی کی تھی چنانچہ انجیل میں زانیہ عورت کا قصہ مشہور ہے جو میں نے اپنی ایک دوسری پوسٹ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے چنانچہ آپ کو بذریعہ وحی اطلاع ہوئی سورہ مائدہ میں اس کا ذکر ہے الله تعالی نے فرمایا کہ : یہ آپ کو کیسے حکم بنا سکتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات میں الله کا حکم موجود ہے اس کے باوجود وہ اس حکم سے منہ پھیر لیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے (مائدہ 42 ) چنانچہ سورہ مائدہ 42 میں واضح فرمایا اگر آپ چاہیں تو ان کا فیصلہ ہی نہ کریں البتہ اگر آپ ان کے پاس فیصلہ کے لیے جائیں تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیجیے اگلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ تورات میں اس کے بارے حکم موجود ہے اور قتل کے بارے الله تعالی نے فرما دیا کہ : وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس( مائدہ 45 ) لہذا اب رسول پاک ان کی دعوت پر ان کا فیصلہ فرمانے جاتے ہیں وہ آپ کے عزت کے لیے گاو تکیہ رکھتے ہیں اور ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تورات میں زانی کے لیے درے مارنے کی سزا ہے اور پھر منہ کالا کرکے گلی گلی پھرایا جائے آپ نے فرمایا کہ میرا تورات کے فیصلہ پر ایمان اور اس نبی پر ایمان ہے لہذا تورات لاو مسند احمد جلد اول رقم الحدیث 2212 میں بھی یہ واقعہ ہے اور دیگر کتب میں بھی حوالے اوپر دیئے جا چکے ہیں چنانچہ تورات لائی گئ آپ نے فرمایا اپنے سب سے بڑے عالم کو بلاو آپ نے اس سے پوچھا تورات میں رجم کے بارے کیا حکم ہے وہ لگا ادھر ادھر کرنے جناب رجم نہیں ہے تورات میں زانی کی سزا درےاور منہ کالا کرنا ہے وغیرہ حضرت عبداللہ بن سلام جو سابقہ یہودی عالم تھے انہوں نے فرمایا جھوٹ بولتے ہو پڑھ تورات چنانچہ اس نے آیت رجم پر تو ہاتھ رکھ دیا اور اس سے قبل اور بعد کی آیات پڑھنے لگا عبداللہ بن سلام نے ماری چھڑی اس کے ہاتھ پر کہ بددیانت یہ بھی پڑھ چنانچہ رجم کی آیت مل گئ اور اس کے مطابق آپ نے فیصلہ فرما دیا اور یہودی منہ تکتے رہ گئے وہ آیت رجم تورات میں آج بھی موجود ہے چنانچہ لکھا ہے " تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا اور ان کو تم سنگسار کرنا "( استثنا 22۔۔24 ) اور دوسری جگہ ہے " اور جو شخص دوسرے کی بیوی سے زنا کرے وہ زانی اور زانیہ دونوں ضرور جان سے مار دئیے جائیں " (احبار 20 --10 ) تورات میں جو احکام شریعت خدا تعالی کے نازل کردہ ہیں انہیں نور کہا ہے اور قرآن کریم کو مھیمن بتایا یعنی کسوٹی جس سے نور اور تاریکی کو پرکھا جاسکے چنانچہ جب تورات کے فیصلہ کے مطابق اس زانی جوڑے اور قاتل یہودی کو سزا دی گئ تو یہودی لگے چیں بہ جیں کرنے تو الله تعالی نے فرمایا :آپ ان سے فرما دیجیے اے اہل کتاب جب تک تم تورات انجیل اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے پر عمل نہ کرو تو تم دین کی کسی اصل پر نہیں :( مائدہ 68 ) لہذا اب یہ واضح ہوگیا کہ جو کچھ تورات میں خدا کی طرف سے نازل کردہ ہے وہی نور ہے وہی حق ہے اس کے سوا جو کچھ ان کی طرف سے وہ باطل ہے لہذا مجمل طور پر ہمارا ایمان ہے کہ مبینہ کتب خدا تعالی کی طرف سے ہیں لہذا آپ کا یہ فرمان کہ میں اس کتاب پر ایمان لایا اجمالی طور پر اور تفصیل اس اجمال کے یہ ہے کہ یہ تحریف سے پاک نہیں :۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 2۔۔۔۔ تورات ہے کیا ؟ میں سمجھتا ہوں میں اپنے قارئین پر یہ بھی واضح کر دوں کہ توریت کا تعین کس کتاب پر ہوتا ہے ؟ آج یہ مسیحی فریبی عہد قدیم کو تورات کا نام دے کر فریب دیتے ہیں عہد قدیم میں تو کل 39 اور کیتھولک بائبل میں چھیالیس کتب ہیں یہ سب تورات نہیں یہ غلط ہے دوسرا مغالطہ اسفار خمسہ یعنی بائبل کی پہلی پانچ کتب جس میں پہلی کتاب پیدائش 2 خروج 3 احبار 4 گنتی 5 استثنا آج کل ان پانچ کتب کے مجموعہ کو تورات کا نام دیا گیا ہے یہ بھی فریب کے سوا کچھ نہیں یہ فہرست مسلمہ بہت بعد کی ہے تورات حقیقی طور پر کیا ہے ؟ تورات احکام قانون الہی کے مجموعہ کا نام ہے اخلاقی شرعی احکام دستوریت صرف اس کا نام تورات ہے یہ احکام خدا تعالی الواح پر لکھ کرحضرت موسی کو عطا کی تھیں قرآن کریم اور بائبل میں بھی اس کا بیان ہے ہم حجت اتمام کے لیے بائبل سے اس کا ذکر ۔ کرتے ہیں مروجہ بائبل میں مبینہ الواح کا ذکر خروج کے باب 31 اور 32 34 میں ہے جب موسی چالیس دن بعد پہاڑ سے لوٹے تو بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھا تو غصہ سے ان تختیوں کو پٹک دیا اور تختیاں ٹوٹ گئیں پھر موسی کو حکم ہوتا ہے کہ پہلی الواح کی مانند الواح تیار کر اور موسی کو حکم دیا کہ ان الواح پر یہ یہ احکام لکھ اور دس احکام کو لکھوایا( خروج 34 ۔۔27 28 ) بعد میں موسی نے شریعت کی کتاب ترتیب دی جو احکام عشرہ کے علاوہ شریعت کے دیگر احکام وقتا فوقتا ملتے رہے اس میں لکھے شریعت کی کتاب کا ذکر مروجہ بائبل کی کتاب ( استثنا 31 ۔۔۔24 تا 26 ) میں ملتا ہے یہ سب چیزیں الواح اور شریعت کی کتاب عہد کے صندوق میں رکھنے کا خدا نے حکم دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موسی کے بعد یشوع نے عی کی فتح کے کوہ عیبال اور کوہ گرزیم کے مقابل سارے بنی اسرائیل کو موسی کی شریعت کی کتاب میں لکھی ہوئی شریعت کی سب باتیں پڑھ کر سنائیں( یشوع باب نمبر 8) یہ شریعت پر مبنی کتاب کا نام تورات ہے نہ کہ بعد کے اسفار خمسہ کا نام اگر اسفار خمسہ تورات ہوتی یا موسی کی لکھی ہوئی ہوتی تو ہم دیگر غلطیوں اور تضادات کو نظر انداز بھی کر دیں تو بھی استثنا کے آخری باب میں موسی کی موت اور مابعد موت کے واقعات شاہد ہیں کہ یہ وہ موسی کی لکھی ہوئی کتاب نہیں دوسرا اگر اسفار خمسہ تورات ہوتی تو عہد کے صندوق میں پدائش گنتی خروج استثنا وغیرہ کی کتب بھی رکھی جاتیں مگر ان کا کہیں نام ونشان موسی چھوڑ یشوع کے زمانہ میں بھی نہیں ملتا بہرحال عہد کے صندوق سے یہ چوری ہوجاتی ہے کہاں گئ کس نے چرا لی کسی کو کوئی علم نہیں اس دوران یہود پر جو مختلف بادشاہوں کی طرف سے مظالم ہوئے ان کی ایک ایک مقدس کو جلا دیا گیا اور جس کے پاس کوئی حصہ ان ۔ کتب کا پایا جاتا اسے سزائے موت دی جاتی یہ سارے واقعات کیتھولک بائبل 2_مکابیوں 14 ۔۔19تا48 میں دیکھ لیجیے مگر خلقیاہ کاہن کو ہیکل سے گمشدہ تورات ملتی یہ بھی شریعت کے احکام پر مبنی کتاب ہے اسفار خمسہ نہیں یہ خدا جانے کہ مبینہ نسخہ وہی گمشدہ تھا یا خلقیاہ نے زبانی یادداشت کے سہارے کارنامہ سرانجام دے کر اسے تورات کا نام دیا تھا مگر شاہ بابل کے حملہ کے بعد پھر سب کتب جلائی جاتی ہیں تورات پھر غائب( 2--مکابیوں 24تا8 ) پھر عزار کاہن نے شریعت کی اس کتاب کو مرتب کیا بہرحال اس صدیوں کے محیط عرصہ میں شریعت کی کتاب کا ذکر ملتا ہے کہیں اسفار خمسہ کا ادنی سا شائبہ بھی نہیں ملتا انہیں احکام شریعت کا نام تورات ہے جو یہود کے پاس الگ سے لکھے موجود ہوتے اور رسول کریم کے سامنے جو رکھی گئ وہ تورات ہے جو احکام شریعت پر مبنی ہے نہ بائبل نہ کہ مروجہ اسفار خمسہ اور آپ کی تصدیق یہی ہے کہ جو خدا تعالی کی نازل کردہ تورات ہے اس کے احکام نور ہیں میرا اس پر ایمان ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ : میں حیران ہوں بات تو تورات کی ہے وہ بھی صرف احکام کی عیسائیوں کا اس سے کیا تعلق ؟ یہ بات کوئی یہودی کرتا تو کرتا عیسائیوں نے تو خود بزور شمیر بائبل پر قبضہ کیا اور تلوار کے زور پر اسے عہد قدیم کا نام دے کر اپنے عہد جدید کو ایک جلد میں جمع کیا ملک اسرائیل بننے کے بعد یہود نے ان کے عہد جدید کو بائبل سے نکال باہر کیا اس سوال کا ایک جواب محسن علی جعفری نے بھی دیا مگر دندان شکن جواب ملنے پر مغل صاحب انہیں بلاک کرکے چلتے بنے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 100 Articles with 114702 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2017 Views: 1072

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ