پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کا کردار

(M Nasir Iqbal, Mir Pur Khas)

نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قمتی سرمایہ ہوتے ہے اور وہ اپنی انتھک محنت سے اقوام عالم میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہے۔اور یہ ہی وہ لوگ ہیں جو کسی بھی قوم کی باگ دوڑسنبھالتے ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی انہی کے ہاتھ میں ہے یہ کسی بھی معاشرے کا سب سے محنتی اور نا تھکنے والا طبقہ ہوتا ہے۔تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب جس نے دنیا عالم کی سوچ بدل دی وہ حضورﷺ کا اسلامی انقلاب تھا اس انقلاب کے ہر اول دستے میں اکثریت حضرت علی ؐ جیسے نوجوانوں کی تھی۔

پاکستان ایک بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اس کی آبادی کی اکثیریت کا گزر اوقات زیادہ تر زراعت سے ہی وابستہ ہے ہمارے نوجوان پڑھ لکھ کر سرکاری نوکریوں کو ترجیح دیتے ہیں اگر نوجواست ن جدید ساینسی بنیاد پر زراعت کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تو اس سے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کسان بھی خوشحال ہو گے۔

گویا علامہ اقبال نے نوجوان نسل کو قوم اور ملت کا سرمایہ قرار دے کر اسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی تلقین کی اور فرمایہ
محبت مجھے اُن نواجونوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

آج ملک پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھی نوجوان نسل کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ۱۹۹۸ کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا ۲۶ ملین صرف نوجوانوں نسل پر مشتمل ہے۔پاکستان انسٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ڈوپلیمنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ۷۱ کروڈ آبادی میں سے ۲ کروڈ افراد نوجوان ہیں ۔ جس سے اس بات بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں نوجوان افرادی قوت کا ایک خاصا بڑا حصہ موجود ہے جس کے شعور کی بیداری ، تعلیم کی ضرورت کی فراہمی، انصاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرکے آبادی اور ترقی میں نوجوان نسل کے کردار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

قوم کے بیٹے راشد مہناس نے اپنی جا ن قربان کر کے قوم کا سر بلند کر کے دکھایا۔ قو م کی ایک بیٹی ارفع کریم جس نے نو (۹) سال کی عمر میں مایئکروسافٹ انجنیئر کا عالمی ریکارڈ قائم کر کے نہ صرف پاکستان کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا بلکہ پورے عالم میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ پاکستان کی دوسری بیٹی عایشہ نی حال ہی میں اپنی تمام تر توانایؤں اور ذہنی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوے جنگی جہاز کا طیارہ اڑا کر نہ صرف پاکستان کی پہلی جنگی لیڈی پائلٹ ہونے کا اعزا حاصل کیا بلکہ اس میدان مین پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک پر سبقت لے گیا ہے۔

کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب میں نوجوان طبقے نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ نوجوانوں میں مین کام کرنے کا جذبہ اور انقلاب لانے کی اُمنگ ہوتی ہے ۔ یہ مضبوظ عزم اور بلند حوصلہ ہوتے ہے، اُن کی رگوں میں گرم خون اور سمندر کی سی طغیانی ہوتی ہے ۔ یہ پہاڑیوں جیسی ایسی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کی قابلیت و ذہنی صلاحیتوں انھیں حالات کا رُخ موڑ دینے، مشکلات جھیلنے اور مسلسل جہدوجہد کے ساتھ ساتھ وقت اور جان و مال کی قربانی دینے کا ذہین اور حوصلہ عطا کرتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فرعون جیسے ظالم وجابر کے خلاف موسی علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہنے والے چند نوجوان ہی تھے۔
بقول علامہ اقبال کے
وہی نوجوان ہے قبیلے کی آنکھ کا تارہ
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Nasir Iqbal

Read More Articles by M Nasir Iqbal: 13 Articles with 9286 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2017 Views: 3646

Comments

آپ کی رائے