حج: اسلامی اخوت و رواداری کے عالمی اتحاد کا سرچشمہ-قربانی: آفاقیت کا منبع -ایثارِ ابراہیمی قومی حیات کا مصدر

(Gulam Mustafa Razvi, India)

مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے مسلمانوں کا روح کا رشتہ ہے۔ ہمارے وقار کی علامات ہیں یہ دونوں حرم۔مکہ مکرمہ کی عظمتیں خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی رضا و خوش نودی سے ہویدا ہیں۔رضائے نبوی کے سبب قبلہ بیت المقدس سے خانۂ کعبہ بنا۔ ہجرتِ نبوی سے طیبہ کی عظمت کا اظہار ہوا۔مدینہ وجہِ سکونِ مسلم ہے۔ مکہ علامتِ محورِ ایماں ہے۔ مدینہ قرارِ قلبِ مومن ہے۔ مکہ علامتِ ایقاں ہے۔ دونوں حرم کی شان سے اسلامی شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ دونوں حرم سے محبت- ایمان کی تازگی کی دلیل ہے۔دونوں حرم سے عقیدت- عقیدے کی تابندگی کا باعث ہے۔ ان کی جاہ و عظمت اور شوکت و شان سے صہیونیت خوف زدہ ہے۔ عالم پر تسلط کے خواب میں غلطاں دُشمنانِ اسلام کی آلودہ نظریں حرمین پر ہیں۔
ماضی کی تلخ حقیقت: ترکوں نے صدیوں تک مغرب کے دریوزہ گروں کو قدموں بٹھائے رکھا۔ حرم کی عصمت پر آنچ نہ آنے دی۔ اسلامی آثار کی جیسی حفاظت و صیانت ترکوں نے کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترکوں کے خاتمے کے بعد ہی قضیۂ فلسطین ہوا۔ عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر ناجائز ’’اسرائیل‘‘ کی تشکیل اسلامی شوکت پر حملہ تھا۔ یہی وہ اَلمیہ تھا جس نے اُمتِ مسلمہ کو بے قرار کر کے رکھ دیا۔ تبھی سے ہمارے زوال کے آثار شروع ہوئے۔ عربوں کو باہم لڑایا گیا۔ لارنس آف عربیہ کا فتنہ ہو یا ہمفرے کے سیاہ کارنامے۔ مسلم امہ کے خلاف اِن کی چیرہ دستیاں صہیونی فکر کا سیاہ باب قرار دی جا سکتی ہیں۔ داعش والقاعدہ کی تشکیل بھی در اصل یہودی فکر کا اظہاریہ ہے؛ جس کے توسط سے عرب زمیں کو مزید کشت و خوں سے بھر دیا گیا۔ ان ساختہ موحدین نے مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا اور ان کی جسارت ایسی بڑھی کہ حرم پاک مدینہ امینہ میں ماہِ صیام میں بم دھماکہ کر کے عداوت و شقاوتِ قلبی کا بدترین مظاہرہ کیا۔
حرم کی پاسبانی: موجودہ حالات میں سازشوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ عربوں کو اس قدر کم زور کیا جا رہا ہے کہ مدتوں سر نہ اُبھار سکیں۔ اس درمیاں اسرائیل مزید مضبوطی کے ساتھ مسلمانوں پر تازہ دم حملے جاری رکھنے کے مزاج میں ہے۔ ان کی مدد داخلی طور پر بھی وہی کر رہے ہیں جنھیں پاس بانِ حرم ہونا تھا۔ جدہ و ریاض میں امریکی فوجوں کی موجودگی اسرائیلی بقا کی علامت کہی جا سکتی ہے۔فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر کون سے اتحاد کا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا یہی خدمتِ حرمین ہے کہ ابراہانِ وقت امریکہ و برطانیہ کو حجاز کی حدود میں پناہ دے کر انھیں طاقت پہنچائی جائے؟ یہ در اصل شاہانِ مملکتِ اسلامیہ کا منفی اقدام ہے؛ جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اِسی کا شاخسانہ ہے کہ پاک زمیں پر بموں کی سخت آواز سے فضائے پُر سکوں کو مرتعش کر کے پیامِ امن کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں اُمتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ حرم کی پاس بانی کو تازہ دم ہوں ؂
اپنے کعبہ کی حفاظت تمھیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا

نقطۂ اتحاد : اس وقت لاکھوں حجاج ارضِ حرم میں موجود ہیں۔ حج علامتِ اتحاد ہے۔ جس کے ذریعے ایک طرف تو محبوبانِ خدا کی یادوں کے پاکیزہ نقوش کو تازہ کیا جاتا ہے تو دوسری طرف اسلام کی اجتماعی زندگی کا پیغام دیا جاتا ہے۔ حج کے ذریعے طبقاتی تفریق مٹا کر توحید و رسالت کے پیام سے ’’اتحاد‘‘ کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی مسلسل سازشوں کے مقابل حج کے مقاصد کو سمجھ لیا جائے تو کئی ایک حملوں کا دو ٹوک جواب دیا جا سکتا ہے۔ صہیونی سازشوں کی بخیہ گیری کی جا سکتی ہے۔ اتحاد کے مقاصد کا تعیین حج سے ہو جاتا ہے۔ماہِ صیام میں حرمِ نبوی سے متصل بم دھماکے اور داعشی نام نہاد موحدین کے ذریعے خانۂ کعبہ کے ڈھانے کا اعلان ہماری ذمہ داریوں کے احساس جگانے کو کافی ہونا چاہیے۔ اجتماعیت کے فطری تقاضوں کی طرف حج کے ذریعے تبادرِ ذہنی منتقل ہوتا ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ؂
ایک ہوں مسلم حرم کی پاس بانی کے لیے
نیل کے ساحل سے تا بہ خاکِ کاشغر

نقطۂ اتحاد کا متلاشی رنگ و نسل، زبان و لسان کے اختلاف کے باوصف ایک ایسے مقام پر اتحاد کا متمنی ہوتا جس کے ذریعے کائنات انقلابِ بے مثل سے فیض یاب ہوئی۔ وجودِ آدمیت جس سے قرار پایا، جس کے ذریعے رب کی معرفت و شان سے آگہی ہوئی۔خاتم الانبیاء جانِ کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتِ پاک سے محبت۔ یہ وہنعمت ہے جس کی بنیاد پر اتحادِ امت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔اسی نام نے شرقین و غربین کو ایک کڑی میں پرو رکھا ہے۔

قربان گہِ محبت میں: اطاعت و احساسِ بندگی نعمت ہے۔ رب کریم کی فرماں برداری کا جو عملی نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا دُنیا اس کی مثل سے قاصر ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی بارگاہِ الٰہی میں پیش کر کے اسلام کے لیے قربانی کا عزمِ تازہ عطا کیا ہے حضرت ابراہیم نے۔ اسی کی تجدید ہر معرکۂ حق و باطل کے درمیاں اہلِ حق کی ذمہ داری ہے۔ایثار و قربانی کے ذریعے اسلام نے قوموں کی حیاتِ جاوداں کا ہنر دیا ہے۔ جب بھی اسلا می نظام، نبوی شان، حرمین کی آن بان پر وقت آئے، فراعینِ وقت اور ہامانِ عہد سلطنتِ الٰہیہ میں نفس کی حکمرانی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنا چاہیں قربانیوں کی جوت جگا کر خدائی سلطنت کا تحفظ کیا جائے۔ یہی ایمان کا تقاضا بھی ہے اور مسلم اُمہ میں بیداری کی علامت بھی۔
شاہانِ مملکتِ اسلامیہ بیدار ہوں: یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ان سے دوستی کے بعد حجازِ مقدس میں صہیونی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں؛ جس کا راست فائدہ اسرائیل کو مل رہا ہے۔ اب حکمرانِ مملکتِ اسلامیہ کو اپنے دفاعی حصار کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ورنہ ان کی حکومتیں نام کو رہیں گی اصل حکمرانی اسلام دُشمنوں کی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کو تاراج کر دیا گیا، لیبیا کو تباہ کر دیا گیا، شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔قربِ حرم میں امریکی فوج کی موجودگی حجاز میں صہیونی عمل دخل کا واضح ثبوت ہے۔ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج حرمین کے ائمہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت نہیں کر سکتے، ان کی تباہی کی دُعا بھی نہیں کر سکتے، ذہن و فکر پر صہیونی خوف کیوں طاری ہے؟ اس کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش ضرور کی جائے۔ ترکی میں بغاوت، داعش کے ذریعے اسلامی آثار کی تاراجی،ذہن و فکر پر یہودی ونصرانی اثرات، مغرب سے مرعوبیت، مسلم مملکتوں کے دفاعی نظام کی کم زوری کا ازالہ ضروری ہے تاکہ ناقابلِ تسخیر فصیلیں قائم کی جا سکیں۔اور اسلام کی سرحد و سیما پر عشقِ رسول کی فصیل قائم ہو۔

عزمِ ایثار جب تک تازہ تھے مسلمان ایک جسم کی مانند تھے۔ خواہ عربی ہوں یا عجمی یا کسی بھی رنگ و نسل کے عقیدۂ توحید اور محبت رسول کی بنیاد پر متحد تھے۔نئے افکار آزار پہنچانے میں نامُراد رہتے تھے۔ آج ہر جانب سے حملے ہیں۔ ہر جہت سے مسلمانوں کو رہِ صراط سے متنفر کرنے کی کوششیں ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ قربانی کے مقاصد کی طرف مراجعت کی جائے اور اسوۂ ابراہیمی کو رہبر ورہنما بنایا جائے۔
٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gulam Mustafa Razvi

Read More Articles by Gulam Mustafa Razvi: 262 Articles with 145865 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Sep, 2017 Views: 329

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ