جامعہ قائد اعظم کا قضیہ

(Tanveer Awan, Islamabad)

جامعہ قائداعظم وفاقی دارالحکومت میں قائم عالمی معیار کی عظیم تعلیم ودانش گاہ ہے ،جوگزشتہ ایک ماہ سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی شہ سرخیوں پر ہے ،اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی اس وقت جس مسئلے میں الجھی ہوئی ہے اس کی ابتدا تقریبا چار ماہ قبل لسانی اور گروہی کی بنیاد پر ہونے والے جھگڑے سے ہوئی تھی ، تب سے اب تک یونیورسٹی میں جاری تعلیمی سلسلہ متاثرہے جب کہ 30 اکتوبر کو شرپسند عناصر نے کلاس رومز کے تالوں میں ایلفی ڈال دی اور یونیورسٹی بسوں کے ٹائرز کی ہوا نکال دی تھی جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں تعلیمی سلسلہ شروع نہ ہوسکا،جب کہ 31 اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے قائد اعظم یونیورسٹی کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ کو یونیورسٹی کھولنے کے لئے جامعہ کی انتظامیہ سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے ،گزشتہ روز وائس چانسلرقائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اشرف نے کہا تھا کہ ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں، آج یونیورسٹی کھولیں دیں گے جس کے بعد تدریسی عمل بحال کیا جائے گا۔

ا سے قبل اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی ہفتہ بھر کھلی رہی تاہم احتجاجی طلبہ نے پیر اور منگل کو یونیورسٹی پھر بند کردی اور یونیورسٹی کی بسوں کے ٹائر پنکچر کر دیے۔

انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی میں تدریسی عمل متاثر ہو رہا ہے رواں سمسٹر میں اب تک طلبہ کی 21 چھٹیاں ہو چکی ہیں ، طلبہ کا ایک دھڑا سراپا احتجاج ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لڑائی کے سبب نکالے گئے طلبہ کی یونیورسٹی رکنیت بحال کی جائے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پولیس اور ضلعی حکومت کو یونیورسٹی میں تدریسی عمل بحال کرانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز وائس چانسلرنے ہر حال میں یونیورسٹی کھولنے کا اعلان کیا تھا ۔

یاد رہےاس سے قبل احتجاج کرنے والے طلبہ اور انتظامیہ میں مذاکرات ہوئے تھے اور طلبہ کی طرف سے پیش کردہ 13 مطالبات پیش کئے گئے اورانتظامیہ نے فیس میں کمی کرنے سمیت 12 مطالبات مان لیے لیکن یونیورسٹی میں لسانی اور گروہی بنیادوں پر جھگڑا اور فساد کرنے والے طلبہ کے اخراج کے بعد دوبارہ بحالی کا مطالبہ تسلیم نہیں کیاتھا ،جس پر بلوچ طلبہ کونسل کے عناصر مشتعل اور سراپا احتجاج کررہے ہیں ۔

اگر جامعہ قائداعظم سمیت وطن عزیز کے تما م بڑے تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یونیورسٹیز میں گروہی ،لسانی اور سیاسی عناصر کی مداخلت اور ان اداروں کے ہاسٹلز میں رہائش پذیر قبضہ مافیا کے جرائم کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونا آن دی ریکارڈ ہے ،باالخصوص قائد اعظم یونیورسٹی ایسے بے شمار مسائل کا شکار ہے،جہاں ہر کچھ عرصہ بعد ہنگامے، احتجاج اور ہڑتالیں ہونے کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوجاتی ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے جہاں تعلیمی اداروں میں گروہی اور لسانی عناصر کی مداخلت اور ان کے مذموم مقاصد کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے ،وہیں جامعات کے انتظامی امورپر نظر ثانی بھی وقت کا اہم تقاضا ہے ،جب کہ ہر انصاف پسند کے ذہن میں یہ سوال بھی بار بار انگڑائی لیتا ہے کہ ہماری غلامانہ ذہنیت کے ادارے ہر مسئلہ کی جڑ اور سبب دینی تعلیمی اداروں میں تلاش کررہے ہوتے ہیں ،آخر کیوں نہیں انہیں یونیورسٹیز اور جامعات میں لسانی ،گروہی اور سیاسی انتہا ء پسندی کو پروان چڑھانے والے عناصر نظر نہیں آتے ،جو نہ صرف طلبہ کی تعلیم کا حرج اورتعلیمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کی بدنامی کا بھی ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137690 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
03 Nov, 2017 Views: 356

Comments

آپ کی رائے