شان سرکار دو جہاں سردار الانبیاء محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر، زہرا تنویر، لاہور
سرکار احمد دوجہاں امام الانبیاء محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی جب ولادت باسعادت ہوئی تو حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کی قیادت میں فرشتوں کا ایک گروہ آیا اور سرزمین مکہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ کائنات کا ذرہ ذرہ خاتم النبین امام الحرمین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی سے نہاں تھا۔ عرش و فرش کی تمام موجودات سجدہ ریز تھیں کہ آج ان کی ولادت ہوئی جن کے لیے خالق نے کائنات کی تخلیق کی۔ جن کے وجود کی خاطر ارض و سماں کا نظام بنا۔ جناب حضرت عبداﷲ اپنے سردار انبیاء کا لقب پانے والے بیٹے کی پیدائش سے قبل ہی واقعہ فیل کے کچھ دنوں بعد ہی شام سے مدینہ آتے ہوئے انتقال فرما گئے۔ جناب عبدالمطلب بیٹے کی وفات کی وجہ سے غمگین تھے کہ جناب عبداﷲ کے بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سننے کو ملی۔ بی بی آمنہ سلام اﷲ علیہ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو میرے اطراف نور ہی نور تھا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا میں تشریف آتے ہی کائنات میں ہر سو اجالے بکھرنے لگے۔ ساوہ کی جھیل جس کی لوگ پرستش کرتے تھے خشک ہو گئی۔ محل کسری پانی سے بھر گیا اور کسی کے سب کنگرے ٹوٹ کر زمین پر گر گئے۔ فارس کا آتش کدہ خاموش ہو گیا۔

حضرت عرباض بن ساریہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " اﷲ کے ہاں میں خاتم النبین (اس وقت) لکھا ہوا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام اپنی گوندھی ہوئی مٹی میں پڑے ہوئے تھے۔ میں تم کو اپنے امر کی ابتدا بتلاتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں کہ جب میں پیدا ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک نور ان سے نکلا ہے جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے"۔ (مستدرک صحیحین جلد 2 ح 4175)

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت عام عام نہ تھی۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کے لیے نبوت کس وقت ثابت ہوئی؟ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے"۔ (سنن الترمذی جلد 2 ح 3609 باب المناقب فضل نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم )
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی مدارج نبوۃ میں لکھتے ہیں کہ جان لو اول مخلوقات اور ساری کائنات اور تخلیق آدم علیہ السلام کا ذریعہ نور محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہے چنانچہ حدیث میں صحیح آیا ہے کہ سب سے پہلے اﷲ سبحان تعالی نے جس چیز کو پیدا فرمایا وہ نور میرا ہے۔

ہمارے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر ظاہری طور پر چالیس سال بعد نبوت نازل ہوئی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے نبوت کے درجے پر فائز نہ تھے۔ آپ اپنے اخلاق کردار اور سیرت سے تبلیغ کرتے رہے لیکن گفتار اور وحی الہی کا سلسلہ چالیس برس بعد ہوا۔ اور حکم الہی سے اعلان نبوت کیا اور لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔

5فضیلتیں:
حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں کہ مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہو ئیں۔ ایک ماہ کے راستے کے فاصلے تک مجھے رعب و دبدبہ دیا گیا۔ میرے لیے زمین کو جائے سجدہ اور طاہر قرار دیا گیا ہے۔ میری امت میں سے جو بھی نماز کا وقت پا لے اسے نماز پڑھنی چاہئیے۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا۔ مجھے شفاعت کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ پہلے نبی صرف اپنی قوم کے لئے معبوث ہوئے تھے لیکن میں تم لوگوں کے لیے معبوث کیا گیا ہوں"۔(صحیح بخاری کتاب التیمم باب 1 ح 335 )

اﷲ نے جو نبوت کا مقام سرکار دو عالم کو دیا وہ کسی اور نبی کو نہیں دیا۔ آپ انبیاء کے سردار اور خاتم النبین کے علی مقام پر فائز ہیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت العامین قرار دیس گیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی علی درجہ پر فائز ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق و سیرت اتنا عمدہ اور بلند ہے کہ کوئی آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ثانی نہیں۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی بات کرتے تو پوری توجہ سے دوسرے کی بات سنتے پھر اس کا جواب دیتے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا انداز گفتگو اتنا مہربانی والا اور شریں ہوتا کہ سامنے والا آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور علی مقام سے مرعوب ہوتے ہوئے بھی نہایت آسانی سے اپنی بات اور مسئلہ بیان کرتا۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق اپنے اصحاب سے بھی اتنا محترمانہ تھا کہ اصحاب کو بلاتے وقت ان کی کنیت سے پکارتے اور عزت واحترام دیتے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے عمدہ اخلاق کے حضور کے دشمن بھی قائل تھے۔

جنگ کے وقت لشکر روانہ کرتے ہوئے نصیحت فرماتے کہ اﷲ کا نام لے کر روانہ ہوں اور جہاد کریں۔ اے لوگو! امت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکر نہ جانا۔ مال غنیمت چوری نہ کرنا، کفار کو مثلہ نہ کرنا(ان کو قتل کرنے کے بعد انکے ناک،کان اور اعضاء کو نہ کاٹنا)۔ بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچانا۔ مشرکوں کی عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچانا۔ دشمن پر سب خون نہ مارنا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کی نرمی ایک طرف تو ان کی علی سیرت کی نشانی ہے اور دوسری جانب امت کے لیے عملی نمونہ۔ کیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک کا ہر پہلو اور عمل وحی الہی ہے۔ ہماری بخشش کا سامان آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس میں پنہاں ہے۔ زندگی گزارنے کے جو اصول اور قاعدے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بتائے ہیں ان پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دنیا وآخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت تب ہی ملے گی جب ہمارا اخلاق اور کردار اچھا ہو گا۔ کیونکہ ہمارے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ سبحان تعالی نے شفاعت کرنے کا حق عطا کیا ہے جو اس سے پہلے کسی نبی اور رسول کو حاصل نہیں تھا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ " میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور پہلا ہوں جس کی شفاعت قبول کی گئی"۔

آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو شفاعت کا حق حاصل ہونا اﷲ رب العزت کی اپنے پیارے نبی سے محبت کی ایک نشانی ہے۔
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517641 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 470

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ