مختلف نیوز چینلز کے مطابق ماضی کے مشہور کھلاڑی اور کمنٹیٹر رمیز راجہ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چئیر مین بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ “ہماری ویب“ کے قارئین کے شوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے رمیز راجہ کی نجی زندگی سے کچھ دلچسپ حقائق اکھٹے کیے ہیں جن کو ہم اس آرٹیکل کے زریعے آپ سب تک پہنچا رہے ہیں۔
ان کے بھائی اور والد بھی کرکٹر تھے
رمیز راجہ 14 اگست 1962 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ کھلاڑیوں میں ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے لاہور کے بہترین ادار ایچی سن کالج سے ایم بی اے کی ڈگری لی ہے۔ رمیز اپنے خاندان میں کرکٹ کی جانب آنے والے واحد فرد نہیں بلکہ ان کے چار میں سے سب سے بڑے بھائی اور والد بھی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ رمیز اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔
کرکٹ میں آمد سے ریٹائرمینٹ کا سفر
رمیز راجہ نے 1978سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا لیکن اس وقت وہ کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کرسکے۔ اس کے بعد مارچ 1984 میں انھیں انٹرنیشنل میچز کھیلنے کا موقع ملا لیکن وہاں بھی وہ ینگلینڈ کے خلاف ہر اننگ میں صرف ایک ہی رن اسکور کرپائے البتہ بہت سارے کرکٹرز کی اچانک ریٹائرمینٹ اور اپنے کئی سالہ تجربے کی بنیاد پر رمیز راجہ سینئیر کرکٹر کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے البتہ 1987 اور 1992 کے ورلڈ کپ میں رمیز نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور شائیقین کے دل جیت لئے البتہ رمیز راجہ نے آخری میچ 1997 میں انڈیا کے خلاف کھیلا اور ریٹائرمینٹ لے لی لیکن اس کے باوجود اپنی شاندار پرسنالٹی کی وجہ سے رمیز کئی کرکٹ سیریز کی کمنٹری کرچکے ہیں۔
میری بیوی دلی کی ہے
رمیز راجہ کی بیگم کا نام امبرین رمیز راجہ ہے اور ان کا تعلق بھارت کے شہر دلی سے ہے اور اسی وجہ سے ان کا کھانا پکانے کا زوق کافی اچھا ہے۔ ثمینہ پیرزادہ کے شو میں کھانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے رمیز نے ایک قصہ سنایا کہ “میری بیوی کا تعلق دلی سے ہے جب میں اس کے گھر رشتے کے لئے گیا تو صرف چائے بننے میں پندرہ منٹ لگے کیونکہ دودھ الگ گرم کرکے پیش کیا گیا اور ٹی کوزی میں چائے لائی گئی پھر پرچ کے ساتھ پیش کی گئی اس کے بعد بھی میری ساس بار بار پوچھتی رہیں کہ بیٹا چائے کیسی ہے زیادہ اسٹرانگ تو نہیں ہوگئی تو اب بیوی بھی کھانے کا اہتمام کرتی ہے تو میں اسے یہ واقع یاد دلا کر ہنتا ہوں“
بچے مجھے اپنے باپ لگتے ہیں۔۔۔
رمیز راجہ کے دو بیٹے ہیں اور بچوں سے اپنے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے رمیز نے کہا کہ “میرے بچے مجھے اپنے باپ لگتے ہیں اور میں ان کے سامنے بچہ لگتا ہوں کیونکہ وہ مجھے تسلی دیتے ہیں“ رمیز نے یہ ھی بتایا کہ بچوں کے لئے میں کوئی رول ماڈل نہیں ہوں بلکہ گھر میں بالکل دس سال کے بچے کی طرح رہتا ہوں۔
مجھے امید نہیں تھی کہ آپ کی زبان اتنی گندی ہوگی۔۔۔
اپنی زندگی کے ایک تلخ واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے رمیز نے بتایا کہ انھیں جھوٹ اور ٹریفک کا حال دیکھ کر بہت غصہ آتا ہے اور حال ہی میں ماڈل ٹاؤن کی طرف جاتے ہوئے ایک لڑکے نے اپنی سوزوکی میری گاری کے آگے کھڑی کردی جس پر مجھے شدید غصہ آگیا اور میں نے گاڑی سے باہر آکر اسے گالی ینا شروع کردی جس پر وہ لڑکا خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا اور پھر پوچھا کہ سر کیا آپ رمیز راجہ ہیں میں نے کہا ہاں تو اس نے کہا “مجھے امید نہیں تھی کہ آپ کی زبان اتنی گندی بھی ہوسکتی ہے“ آج بھی میں وہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو مجھے عجیب سا محسوس ہوتا ہے اور میں اب کسی سے کچھ نہیں کہتا بلکہ خود کو بدلنے کی کوشش کرتا ہوں۔