پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف چوتھے ون ڈے میچ میں بہترین کارکردگی دکھائی اور دنیا کی نمبر ون ٹیم میں اپنا نام لکھوا ہی لیا۔ 33 سالوں بعد پہلی مرتبہ او ڈی آئی میں پاکستان پہلے نمبر پر آیا ہے۔ جس کا کریڈٹ صرف بابر اعظم کو ہی نہیں بلکہ پوری ٹیم کو ہی جاتا ہے۔ کل کے میچ کو جیتنے میں جہاں بابر کی سینچری نے کام دکھایا وہیں شاہین کے چھکے اور اُسامہ میر کی جاندار باؤلنگ نے کمال کردیا جنہوں نے 4 وکٹیں لے کر میچ کو سنسنی خیز بنا دیا۔
اُسامہ میر نے کل کے میچ سے پاکستانی قوم کے دل جیت لیے لیکن بھارتی اس دوران بہت پریشان نظر آئے۔ بھارتی میڈیا میں اُسامہ کی باؤلنگ کو بھارت کے خلاف بڑا ہتھیار سمجھا جانے لگا ہے۔ جہاں ان سے بھارتی ڈر رہے ہیں وہیں ان کی تعریف بھی کی جارہی ہے۔
اُسامہ میر 23 دسمبر 1995 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور پاکستانی ٹیم کا حصہ 9 جنوری 2023 میں بنے جبکہ انڈر 19 کے میچز کھیلتے رہتے تھے۔ پی ایس ایل میں بھی کھیل چکے ہیں۔ اسامہ کے 2 بھائی ہیں جبکہ گذشتہ سال شادی کے بندھن میں بندھے ہیں۔ والدہ بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب سے ہے۔
ایک سال قبل اسامہ نے اپنے والد جاوید سرفراز میر کو کھویا۔ ان سے متعلق لکھتے ہوئے اسامہ نے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا اور کہا کہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ کیسے آخری لمحات میں ابو نے مجھے ہمت دی اور مجھ سے بات کی اور ایک وکٹری کا نشان بنایا تھا۔ میں اتنا مضبوط آج صرف ابو کی وجہ سے ہوں۔
جیت کی خوشی میں اُسامہ میر نے کیا کہا؟
چوتھے ون ڈے میں 4 وکٹیں لینے والے اُسامہ میر نے میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:
"
ٹیم نے ایسا اعتماد دیا ہے کہ خود کو ہر چیز کیلئے تیار محسوس کر رہا ہوں۔ پاکستان کیلئے اچھی پرفارمنس دینا ہر کسی کا خواب ہوتا ہے، کافی محنت کی تھی،خود پر اعتماد تھا اور پھر جو اعتماد کپتان نے دیا اس کو لے کر میدان میں اترا تھا، کوشش کی کہ صورتحال کے مطابق بولنگ کروں جس کی وجہ سے کامیابی ملی۔ نمبر ون ٹیم کا حصہ بننا میرے لیے خواب سے کم نہیں ہے۔ منیجمنٹ نے سب پلیئرز کو ہر میچ کیلئے تیار رکھا ہوا ہے، ہر پلیئر کا ایک جیسا چیمپئن مائنڈ سیٹ بنایا اور ورلڈ کپ اور ایشیا کپ سے قبل کھلاڑیوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ ٹیم کا اتحاد کافی مثالی ہے، ہر کوئی ایک دوسرے کی پرفارمنس پر خوش ہوتا ہے، ٹیم کا ہر ممبر دوسرے ممبر کو بیک کر رہا ہے،اچھی کرکٹ کھیل کر سیریز پانچ صفر سے جیتنے کی کوشش کریں گے، ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے، رزلٹ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
"