آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار بلے باز اور پاکستان ٹیم کے سابق مینٹور میتھیو ہیڈن نے پاکستان کے کھلاڑیوں کے اسلام پر مضبوط ایمان اور اتحاد کی مثالیں دینا شروع کردی ہیں۔
بھارت میں منعقدہ منعقدہ ورلڈکپ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے وارم اپ میچ میں کمنٹری کے دوران میتھیو ہیڈن سے رمیز راجہ نے قومی ٹیم کے ساتھ گزارے گئے وقت اور تجربے سے متعلق دریافت کیا۔
رمیز راجہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میتھیو ہیڈن نے دین اسلام کو کھلاڑیوں کو متحد رکھنے کیلئے اہم عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم اسلام پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہے اور پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈسپلن کی میں ہمیشہ تعریف کرتا ہوں۔
میتھیو ہیڈن کاکہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں قدرتی صلاحیت ہے، پاکستانی نوجوان گلی کرکٹ اور ٹینس کرکٹ کی وجہ سے کھیل سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ سے پیار کرتے ہیں، ان کے پاس بہت اچھے نوجوان کھلاڑی ہیں، میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ کم وقت کیلئے رپا لیکن احساس ہے کہ یہ کتنے اچھے ہیں۔ اسلام نے ان کھلاڑیوں کو یکجا کیا ہے جو بہت اچھی بات ہے۔
یاد رہےکہ میتھیو ہیڈن آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2022 میں قومی ٹیم کے مینٹور کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان انہیں انگریزی قرآن بھی پیش کیا تھا۔