بھارت میں ہونیوالے آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستانی صحافیوں کو ویزے نہ ملنے کے بعد پاکستانی اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس کو ڈی پورٹ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
آئی سی سی نے پاکستانی اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس کے بھارت چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زینب عباس بھارت سے ذاتی وجوہات کی وجہ سے واپس گئی ہیں، انہیں ڈی پورٹ کرنے کی بات درست نہیں بلکہ زینب عباس نے حفاظتی اقدام کی بنا پر بھارت چھوڑ ا ہے۔
اس سے قبل ورلڈ کپ پریزینٹرز پینل میں شامل پاکستان کی زینب عباس کےخلاف بھارت میں بے بنیاد پراپیگنڈہ مہم چلائی گئی۔
ایک بھارتی وکیل نےزینب عباس پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ہندو مذہب اور بھارت کےخلاف سوشل میڈیاپرپیغامات لکھے اور بھارتی وکیل نے زینب عباس کے خلاف مقدمے کی درخواست بھی دی تھی۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ زینب عباس کو بھارت سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ اسپورٹس پریزینٹر کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ زینب عباس بھارت سے دبئی پہنچ گئی ہیں۔
قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ زینب عباس پر بھارت میں بہت زیادہ دباؤ بڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے حفاظتی اقدام کے طور پر بھارت چھوڑنے کا اقدام براڈ کاسٹرز اور فیملی کے مشورے پر اٹھایا ہے۔