بینظیر کی تصویر کے آگے رحمان ڈکیت کی تقریر؟ چوہدری اسلم کی بیوہ نے دھریندر بنانے والوں کے بخیے ادھیڑ دیے

image

“انہوں نے لیاری میں ایک جلسہ دکھایا ہے، جہاں بینظیر بھٹو کی تصویر لگی ہوئی ہے اور رحمان ڈکیت اسٹیج پر آکر تقریر کر رہا ہے۔ آخر وہ یہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ رحمان ڈکیت تھا ہی کون؟ میری نظر میں بلاول بھٹو اور سندھ حکومت کو اس پر ایکشن لینا چاہیے، کوئی بیان دینا چاہیے، بات کرنی چاہیے۔ پھر وہ رحمان ڈکیت کو اتنا بڑا دکھا رہے ہیں، حالانکہ وہ کوئی بڑی شخصیت نہیں تھا۔ اگر کوئی بڑا تھا تو وہ چوہدری اسلم تھا، جس نے ہر بڑے گروہ کا مقابلہ کیا۔ فلم میں کسی کو دکھانا ہے تو چوہدری اسلم کو دکھائیں، وہ بڑے ڈانز سے لڑا تھا، جبکہ ڈکیت تو اپنے علاقے تک محدود تھا، بھتہ خوری کرتا تھا اور منشیات کے کام میں ملوث تھا۔ اسے اتنا بڑا دکھا کر آخر مقصد کیا ہے؟”

بولی وڈ کی آنے والی فلم دھُرندھر کا ٹریلر سامنے آتے ہی پاکستان میں سخت ردعمل نے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ فلم میں رنویر سنگھ، سنجے دت اور اکشے کھنہ پاکستانی کرداروں کا روپ دھارے نظر آ رہے ہیں، لیکن پاکستانی ناظرین کے مطابق یہ کہانی ایک اور ایسی کوشش ہے جس میں بھارت اصل حقائق کو مسخ کر کے اپنی شکست چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس موضوعات کی کمی ہو گئی ہے، اسی لیے وہ پاکستان سے جڑے کرداروں کو بڑھا چڑھا کر دکھا رہے ہیں، مگر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے کیونکہ جنگوں میں سرینڈر کرنے والوں کے ہاتھ میں ہیرو کا پرچم جچتا نہیں۔

اسی شور کے درمیان چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم کا بیان سامنے آیا جس نے معاملے کو مزید گرما دیا۔ ان کا اعتراض تھا کہ فلم میں رحمان ڈکیت کو ایک طاقتور لیجنڈ کے طور پر دکھایا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ایک ایسے گروہ کا حصہ تھا جس کی پہنچ چند گلیوں تک محدود تھی۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ اگر کسی کردار کو نمایاں کرنا ہی تھا تو چوہدری اسلم کو دکھاتے، جو واقعی بڑے گینگز کے سامنے ڈٹا رہا۔ ان کے مطابق رحمان ڈکیت کو اس قدر بڑا دکھانا نہ صرف تاریخی مسخ ہے بلکہ سندھ حکومت کو بھی اس پر آواز اٹھانی چاہیے۔

دھُرندھر کا یہ تنازع ٹریلر سے فلم تک کیسے پہنچے گا، یہ تو وقت بتائے گا، مگر اتنا ضرور واضح ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر پاکستان سے جڑی کہانی کو فلمی مصالحے میں بھگو کر پیش کیا ہے اور یہ اب صرف فلم نہیں، ایک نیا سیاسی تنازع بن چکا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US