ماں نے پیسوں کی خاطر۔۔ منفی کرداروں کے لئے مشہور اداکارہ نے حقیقی زندگی میں کیا کچھ جھیلا؟

image

“میری والدہ نے صرف پیسوں کی خاطر مجھے ناچنے پر مجبور کیا، ہنٹر، جوتا، چمٹا جس چیز سے ہاتھ پہنچتا، اسی سے مارتی تھیں۔ میں نے کبھی اداکاری کا خواب نہیں دیکھا تھا، لیکن انہوں نے مجھے زبردستی اس لائن میں دھکیلا، یہاں تک کہ مجھے لڑکوں والے کردار بھی کرنے پڑے۔”

بھارتی ڈرامہ سیریل کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی میں پائل کے کردار سے شہرت پانے والی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے اپنی زندگی کے ایسے بھیانک سچ سامنے رکھے ہیں جنہوں نے مداحوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جیا نے بتایا کہ ان کا بچپن ایک اذیت ناک ماحول میں گزرا، جہاں اپنی ہی ماں نے انہیں شدید جسمانی تشدد کا شکار بنایا اور گھر کے معاشی مسائل کی وجہ سے کم عمری میں شوبز کی دنیا میں دھکیل دیا گیا۔

اسکرین پر ویمپ کے طور پر مشہور ہونے والی جیا کی اصل زندگی مسلسل ذہنی، جذباتی اور مالی استحصال سے بھری رہی۔ انہوں نے اپنے تازہ انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والدین میں سخت تلخیاں تھیں اور اس کشمکش کا سارا بوجھ ان پر ڈال دیا جاتا تھا۔ جیا کے مطابق ان کی ماں نارض رہتی تھیں، اپنی حسرتوں کی تکمیل نہ ہونے کا بدلہ وہ بیٹی سے نکالتی رہتیں، اور کبھی انہیں وہ محبت نہیں دیں جس کی ایک بچے کو ضرورت ہوتی ہے۔

جیا نے بتایا کہ انہیں ہنٹر، بیلن، چمٹے اور جوتوں سے پیٹا جاتا تھا، جس سے وہ اندر سے ٹوٹتی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی اسکرین پر آنا نہیں چاہتی تھیں، مگر گھریلو پریشانیوں نے انہیں ایسی راہوں پر چلنے پر مجبور کردیا جہاں پیسوں کے لیے ناچنا پڑا، مجبوراً کردار کرنے پڑے، یہاں تک کہ مردانہ رول بھی ادا کرنا پڑا۔

انہوں نے انڈسٹری میں استحصال کے واقعات بھی بتائے، کہ کس طرح ایک ڈائریکٹر کا دوست جو جرائم پیشہ حلقوں سے جڑا ہوا تھا اُن کے گھر آنے لگا اور انہیں ممبئی لے جانے کا لالچ دیا، مگر انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔

جیا کے مطابق نویں جماعت میں جب ان کے والد ریٹائر ہوئے اور جہیز کا دباؤ پیدا ہوا تو ان کی ماں نے گھر میں شدید ہنگامہ کھڑا کردیا، جس کے بعد جیا گھر چھوڑ کر ہریدوار چلی گئیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ باوجود اس سب کے، جب والدہ اسپتال میں داخل ہوئیں تو انہی کی نگہداشت پر جیا نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کردی، حالانکہ وہ اپنی ماں سے دل میں سخت ناراضی رکھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کبھی ان کے ہاتھ کا کھانا تک قبول نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہ بیٹا چاہتی تھیں، بیٹی نہیں۔

جیا نے کہا کہ سال 2000 میں ایکتا کپور کا ڈرامہ کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی ان کی زندگی میں موڑ ثابت ہوا، مگر اس کے باوجود انہیں وہ احترام نہیں ملا جس کے وہ حق دار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سیٹ پر سب سے کم معاوضہ پانے والی اداکارہ تھیں اور منفی کردار کی وجہ سے لوگ حقیقی زندگی میں بھی ان سے نفرت کرتے تھے۔ ایک بار ایک ریسٹورنٹ میں حاملہ سمرتی ایرانی کے ساتھ بیٹھی تھیں کہ ایک خاتون نے جیا کو دھکا دے کر ’گندی عورت‘ کہا اور سمرتی کو ان کے قریب بیٹھنے سے منع کیا کہ کہیں اُن کا ’سایہ‘ بچے پر نہ پڑ جائے۔

اس تمام تلخی کے باوجود جیا بھٹاچاریہ نے خود کو قائم رکھا اور برسوں کی جدوجہد کے بعد وہ حال ہی میں نیٹ فلکس کی سیریز دہلی کرائم سیزن 3 میں ایک مضبوط کردار کے ساتھ دوبارہ نمایاں نظر آئیں، ثابت کرتے ہوئے کہ زخموں کے ساتھ جینے والا بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US