پاکستان کو موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بیرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران پاکستان نے قرض اور گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 1272 ارب روپے حاصل کیے، جبکہ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض اس رقم میں شامل نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چھ ماہ میں 1254 ارب روپے بیرونی قرضہ حاصل کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد زائد ہے۔ اس طرح پاکستان کو پچھلے سال کے مقابلے میں 280 ارب روپے زیادہ قرض ملا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران پاکستان کو 17 ارب 67 کروڑ روپے کی گرانٹس بھی موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلیٹی فراہم کی گئی، جو مالی معاونت کا اہم ذریعہ رہی۔
ذرائع کے مطابق بیرونی قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ مالی ضروریات، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا اور جاری ادائیگیوں کا دباؤ ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا بیرونی قرض مستقبل میں معیشت کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔