سوکار کی پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری فروری تک حتمی ہونے کا امکان

image

جمہوریہ آذربائیجان کی اسٹیٹ آئل کمپنی سوکار (SOCAR) نے پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری کو آئندہ ماہ فروری تک حتمی شکل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ بزنس راؤنڈ ٹیبل اجلاس کے دوران کیا گیا۔ سوکار کے صدر روشن نجف نے وزیر خزانہ سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں ایک قدرتی اور طویل المدتی شراکت دار ہے، جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور جاری اصلاحات سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سوکار کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان تیل و گیس اور معدنیات کے شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شعبے توانائی کے تحفظ، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے شفاف اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے اصلاحات پر عمل جاری ہے۔

سوکار کے صدر روشن نجف نے بتایا کہ کمپنی پہلے ہی سوکار ٹریڈنگ کے ذریعے پاکستان میں موجود ہے، جو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے ساتھ جی ٹو جی ایل این جی فریم ورک کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بغیر ٹیک اینڈ پے شرط کے ماہانہ ایک ایل این جی کارگو کے حصول کی سہولت حاصل ہے، جس سے قیمت اور طلب کے حوالے سے لچک ملتی ہے۔ یہ فریم ورک 2025 تک توسیع پا چکا ہے۔

انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر جاری رابطوں کا بھی ذکر کیا اور تیل و گیس کے مکمل ویلیو چین میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔

روشن نجف کے مطابق سوکار ایک عالمی سطح کی سرکاری توانائی کمپنی ہے جو 20 سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے، جس کے 66 ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں، جبکہ 2024 میں کمپنی کی آمدن تقریباً 50.6 ارب امریکی ڈالر رہی۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سرمایہ کاری کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا، جو پاکستان کی معاشی اصلاحات اور توانائی کے شعبے پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US