ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں وہ اعلیٰ حکام سے اقتصادی اصلاحات اور بھارت کے ساتھ پانی کے جاری تنازع پر بات چیت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجے بنگا اپنے دورے کے دوران وزیراعظم، نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ سمیت توانائی اور اقتصادی امور کی وزارتوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، ترقیاتی ترجیحات اور ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ورلڈ بینک کے صدر ملک میں جاری بینک کے تعاون سے مکمل اور زیرِ تعمیر ترقیاتی منصوبوں کا بھی دورہ کریں گے۔ ان کا یہ دورہ 4 فروری تک جاری رہے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اجے بنگا کو پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر بریفنگ دی جائے گی، جس کے تحت پاکستان کو 2025 تک 20 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ یہ رقم تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور غربت کے خاتمے جیسے اہم شعبوں میں خرچ کی جائے گی۔
اس کے علاوہ نجی شعبے میں مزید 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے پاکستان کی معاشی ترقی کو تقویت ملنے کی امید ہے۔
صدر ورلڈ بینک اجے پال سنگھ بنگا کا گردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال دورہ، مذہبی ہم آہنگی کا پیغام
دریں اثناء صدر ورلڈ بینک اجے پال سنگھ بنگا نے گردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خصوصی عبادت کی اور لنگر خانہ میں کھانا کھایا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر محمد ورنگزیب اور صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ صدر ورلڈ بینک کی آمد سے مثبت پیغام جائے گا اور پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں تاریخی مذہبی عبادت گاہوں میں تزئین و آرائش کا کام جاری ہے اور حکومت پنجاب مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر سال بیساکھی کے موقع پر ہزاروں ملکی و غیر ملکی سکھ زائرین مذہبی رسومات کے لیے یہاں آتے ہیں۔ ایڈیشنل سیکریٹری (مزارات) ناصر مشتاق، ایڈیشنل سیکریٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور حیدر عباس وٹو، کمشنر راولپنڈی، سی پی اور ڈی سی اٹک سمیت دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔