ڈالر کی قدر میں کمی کے خطرات، پاکستان کے بیرونی قرضوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

image

دیگر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث پاکستان کے بیرونی قرضوں کی واجب الادا رقم میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اس وقت تقریباً 92 ارب ڈالر ہیں، جن میں سے 56 فیصد کثیر الجہتی اور دو طرفہ قرضوں پر مشتمل ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات تقریباً 130 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے، جس کی بنیادی وجہ یورو، جاپانی ین اور برطانوی پاؤنڈ جیسی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کا مستحکم رہنا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی کرنسیوں میں موجودہ رجحان برقرار رہا تو رواں سہ ماہی کے دوران پاکستان کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب تیزی سے بڑھنے کا امکان ہے، جو معیشت کے لیے ایک نیا دباؤ ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب وزارتِ خزانہ نے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی ڈیٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ میں بتایا ہے کہ جون 2025 کے اختتام تک پاکستان کے بیرونی قرضے سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو تقریباً 5 ارب ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بیرونی قرضوں میں 0.4 فیصد یا 0.35 ارب ڈالر کی معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US