پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ باہمی تجارت کا ہدف 2 ارب ڈالر مقرر کرلیا گیا ہے۔
یہ اتفاق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور جمہوریہ ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لذیز قدرتوف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی تفصیلی ملاقات میں ہوا۔
وفاقی وزیر تجارت نے ازبک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تجارتی و سرمایہ کاری مواقع کو عملی شکل دی جائے۔ انہوں نے لاجسٹکس، کاروباری روابط اور مؤثر عملدرآمد میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔
ازبک وزیر نے پاکستانی حکومت کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایک اہم اعلیٰ سطح کا دورہ متوقع ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دوطرفہ تجارت میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جس میں پاکستان سے ازبکستان درآمدات 12 فیصد جبکہ ازبکستان سے پاکستان برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملاقات میں ترجیحی تجارتی معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا، جس کے تحت اشیاء کی فہرست 34 سے بڑھا کر 92 کردی گئی ہے۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں خدمات اور سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔
سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون پر بات چیت کرتے ہوئے ازبک وفد نے بتایا کہ اس وقت 228 پاکستانی کمپنیاں ازبکستان میں کام کر رہی ہیں جبکہ گزشتہ ایک سال میں 80 نئی پاکستانی کمپنیوں کا اندراج ہوا۔ دونوں فریقین نے فوڈ سیکیورٹی، کان کنی، ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکلز اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ازبک وزیر نے پاکستان میں گوشت کی پیداوار، زرعی شعبے، چاول کی کاشت اور معدنیات کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
ملاقات میں فضائی رابطوں میں اضافے کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ ازبکستان کی جانب سے اسلام آباد اور لاہور سے ہفتہ وار متعدد پروازیں بحال کی جا چکی ہیں جبکہ کراچی سے بھی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کی تعداد چھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
علاقائی رابطہ کاری کے حوالے سے روایتی تجارتی راستوں میں درپیش مشکلات پر غور کیا گیا اور متبادل شمالی تجارتی راہداری، کاشغر کو لاجسٹکس و گودام مرکز بنانے اور نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کا ایک اہم نتیجہ پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ممالک پر مشتمل ملٹی کنٹری ”گرین کوریڈور“ کے قیام کی تجویز تھی تاکہ سامان کی ترسیل کو ہموار بنایا جاسکے۔
کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے ازبکستان نے اپنی تکنیکی مہارت، جدید سروے، ڈرلنگ اور مائننگ ٹیکنالوجی پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور مشترکہ منصوبوں پر آمادگی ظاہر کی۔
زراعت اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں لائیو اسٹاک، ریڈ میٹ، چاول، ڈی ہائیڈریٹڈ پھل، جوسز اور فوڈ ویلیو چین میں تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کو عملی تجارتی اور سرمایہ کاری نتائج میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ تمام شعبوں میں قریبی رابطہ اور فالو اپ جاری رکھا جائے گا۔