پنجاب کی صدیوں پرانی ثقافتی روایت بسنت 17 برس بعد ایک بار پھر لاہور میں بھرپور انداز میں واپس آ گئی ہے۔ رنگ، موسیقی، رقص اور پتنگ بازی سے جڑی اس تہوار کی واپسی نے شہر کو ایک بار پھر جشن کا رنگ دے دیا ہے۔
کیمیائی اور کانچ لگی ڈور کے باعث جانی نقصانات کے بعد بسنت پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم سال 2026 میں اس رنگا رنگ تہوار کی دوبارہ اجازت ملنے کے بعد شہریوں میں جوش و خروش دیدنی ہے۔ لاہور کے شہریوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ جشن منانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔
ذرائع کے مطابق بسنت کے آغاز کے صرف دو دن میں شہریوں نے پتنگوں، ڈور اور سجاوٹ پر ریکارڈ 32 کروڑ روپے خرچ کر دیے۔ پہلے دن 16 کروڑ روپے جبکہ دوسرے دن خرچ ہونے والی رقم بڑھ کر 18 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اب تک شہر میں 6 لاکھ سے زائد پتنگیں سرکاری طور پر فروخت ہو چکی ہیں۔
بسنت کے پیشِ نظر صوبے بھر کے پتنگ فروشوں کو لاہور میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے باعث مختلف علاقوں میں پتنگوں اور ڈور کی قلت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تین روزہ تقریبات کے لیے شہری بڑی تعداد میں خریداری میں مصروف ہیں۔
بسنت کے مزید دو دن باقی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں خریداری کا یہ سلسلہ مزید تیز ہوگا، جب لاہور کی فضائیں ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں سے سجا دی جائیں گی۔