وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے فارما بیورو کے وفد نے ملاقات کی، جس میں دوا سازی کے شعبے سے متعلق اہم پالیسی، ریگولیٹری اور معاشی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
فارما بیورو کے چیئرمین سید انیس احمد کی قیادت میں وفد میں کو چیئر فارما بیورو ایرم شاکر رحیم، سی ای او ہیلون پاکستان لمیٹڈ قوی ناصر، سی ای او روچ پاکستان حفصہ شمسی، سجاد افتخار، عندلیب احمد اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر فارما بیورو عائشہ ٹی حق شامل تھیں۔
ملاقات کے دوران وفد نے فارماسیوٹیکل سیکٹر کی کارکردگی پر بریفنگ دی اور ریگولیٹری عمل میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن میں اضافے اور ریگولیٹرز و اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی عالمی ادارہ صحت (WHO) کے معیار کے مطابق درجہ بندی میں بہتری، مصنوعات کی منظوری، برآمدات اور مجموعی معاشی حالات پر بھی بات چیت کی گئی۔
وفد نے ادویہ کی قیمتوں اور دستیابی، ریگولیٹری امور، سرمایہ کاری میں سہولت، ٹیکسیشن، جدت اور برآمدی صلاحیت سے متعلق مسائل اور تجاویز بھی پیش کیں۔ اس موقع پر پالیسی کے تسلسل، مؤثر حکمرانی اور مریضوں کے مفاد کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے صحتِ عامہ، روزگار اور معیشت میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کے کردار کو سراہتے ہوئے حکومت کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا، جس میں معاشی استحکام، ٹیکس نظام کی بہتری، دستاویزی معیشت کے فروغ اور مختلف شعبوں میں ترقی شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے وفد کو یقین دلایا کہ پیش کردہ تجاویز کا متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل رابطہ رکھا جائے گا۔
ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ فارماسیوٹیکل سیکٹر کی ترقی، جدت اور قومی معیشت میں مؤثر کردار کے لیے باہمی تعاون اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔