وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے اسپیشل کنورٹیبل روپیہ اکاؤنٹ (SCRA) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شرحِ سود میں نمایاں کمی کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کی فکسڈ اِنکم مارکیٹ میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے پہلے 7 ماہ کے دوران SCRA کے تحت خالص سرمایہ کاری 307 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 106 فیصد اضافے کے ساتھ دگنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ سرمایہ کاری زیادہ تر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) اور ٹریژری بلز (T-Bills) میں کی گئی۔
خرم شہزاد کے مطابق جنوری 2026 فیصلہ کن مہینہ ثابت ہوا، جس میں 175 ملین ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی جو 7 ماہ کی مجموعی آمد کا 57 فیصد بنتی ہے، جبکہ جنوری 2025 میں تقریباً 50 ملین ڈالر کا اخراج ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عموماً اس نوعیت کی سرمایہ کاری ”کیری ٹریڈ“ کی عکاسی کرتی ہے، جس میں سرمایہ کم شرحِ سود والی منڈیوں سے زیادہ شرحِ سود والی منڈیوں کی جانب منتقل ہوتا ہے تاکہ شرحوں کے فرق سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ عام طور پر شرحِ منافع میں کمی کے ساتھ یہ رجحان سست پڑ جاتا ہے، تاہم پاکستان کے معاملے میں صورت حال مختلف رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ منافع کی شرحیں ایک سال میں اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہونے کے باوجود سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس شرط کے باوجود ہوا کہ کم ٹیکس شرح کے اطلاق سے قبل کم از کم چھ ماہ کی لازمی ہولڈنگ مدت بھی مقرر ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ رجحان اعتماد پر مبنی سرمایہ کاری کی نشاندہی کرتا ہے، جسے کرنسی کے استحکام، بیرونی کھاتوں میں بہتری، پالیسی کے تسلسل اور سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل رابطوں سے تقویت ملی ہے۔