سرکاری اداروں کے نقصانات میں کمی، ’300 فیصد اضافے‘ کا دعویٰ گمراہ کن قرار

image

وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں (SOEs) کے نقصانات میں 300 فیصد اضافے کا دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے، کیونکہ مجموعی سالانہ نقصانات میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خرم شہزاد نے کہا کہ وفاقی سرکاری اداروں کے نقصانات مالی سال 2023 میں 905 ارب روپے تھے، جو مالی سال 2024 میں کم ہو کر 851 ارب روپے اور مالی سال 2025 میں مزید کم ہو کر 832 ارب روپے رہ گئے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ نقصانات اب بھی نمایاں ہیں اور اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے، تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بار بار دہرایا جانے والا ’’300 فیصد اضافہ‘‘ دراصل خالص پورٹ فولیو نتیجے سے متعلق ہے، جس میں منافع بخش اور خسارہ کرنے والے اداروں کے نتائج کو یکجا کیا جاتا ہے۔

خرم شہزاد نے وضاحت کی کہ مالی سال 2025 میں بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے منافع میں کمی آئی، جس سے مجموعی منافع کا بفر کم ہوا اور خالص پورٹ فولیو خسارہ حسابی طور پر بڑھ گیا، حالانکہ خسارہ کرنے والے اداروں کے حقیقی نقصانات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اسے آپریشنل نقصانات میں اضافے کے بجائے اکاؤنٹنگ ایگریگیشن کا اثر قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس کے سرکاری ادارے عموماً بلند عالمی قیمتوں کے ماحول میں زیادہ منافع کماتے ہیں، جبکہ قیمتوں میں کمی ان کی آمدن کو متاثر کرتی ہے، جو ایک مارکیٹ پر مبنی عنصر ہے نہ کہ ساختی نااہلی کا نتیجہ۔

خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت ساختی اصلاحات اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کو دیرینہ مالی بوجھ کے خاتمے سے تعبیر کیا، جبکہ فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری، پاسکو کے تدریجی خاتمے اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز میں اکثریتی حصص کی فروخت کو اہم سنگِ میل قرار دیا۔

ان کے مطابق مزید سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور نجکاری کا عمل بھی فعال طور پر جاری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US