وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے مجموعی خسارے میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں ان اداروں کے خسارے میں مجموعی طور پر 74 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے، یعنی یومیہ نقصانات 142 ملین روپے کم ہوئے ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ منافع دینے والے ادارے جیسے او جی ڈی سی ایل بدستور منافع میں ہیں، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ان کے منافع میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان اداروں کی حکومت پر مجموعی مالی بوجھ 2.078 ٹریلین روپے ہے، جبکہ حکومت کو ان سے ٹیکس اور ڈیویڈنڈ کی مد میں گزشتہ سال 2.119 ٹریلین روپے ملے، جس سے 40 ارب روپے کا مثبت اثر پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس او ایز کے نقصانات دہائیوں سے جمع ہو رہے تھے، تاہم موجودہ حکومت نے ان اداروں کی گورننس بہتر کی ہے، بورڈز میں نجی شعبے کو شامل کیا جا رہا ہے اور چئیرمینز کی تعیناتی بھی نجی شعبے سے ہو رہی ہے۔ کئی اداروں میں لازمی بیرونی آڈٹ کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور گورننس اسکور کارڈز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔
وزیرخزانہ نے اداروں کی بندش کے حوالے سے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور پاسکو جیسے ادارے شفاف طریقے سے بند کیے گئے ہیں اور ملازمین کو مناسب پیکجز دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بندش کا ایک اہم سبب اربوں روپے کی سبسڈیز میں بدعنوانی، چوری اور لیکجز تھیں۔
وزیر خزانہ نے نجکاری کے عمل پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل ہوچکی ہے، پی آئی اے کے آپریشنل کنٹرول کی منتقلی نجی شعبے کو اپریل میں ہوگی اور پانچ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری بھی اس سال ممکن ہے۔ مجموعی طور پر 26 ایس او ایز نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور حکومت کا ہدف ہے کہ تمام ایس او ایز کو بتدریج نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔