وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے جدید سیکریٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح کیا۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ ایس پی ایس سی نے سندھ میں میرٹ کی بالادستی قائم کی ہے، شفاف اور ڈیجیٹل امتحانی نظام ہماری ترجیح ہے، کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ شفافیت کی جانب بڑا قدم ہے، قابل اور اہل نوجوان ہی سندھ کا روشن مستقبل ہیں۔
چیئرمین کمیشن محمد وسیم کی بریفنگ میں کہا کہ 2.493 ارب روپے کی لاگت سے ایک ایکڑ پر جدید کمپلیکس مکمل کیا گیا ہے، 300 سے زائد امیدواروں کے لیے ڈیجیٹل لائبریری، سی بی ٹی لیب، آڈیٹوریم، کیفے ٹیریا، جمنازیم اور مسجد قائم کی گئی ہے۔
نئے کمپلیکس کے قیام سے دیگر مقامات پر انحصار میں کمی جبکہ کمیشن عملی طوپر خود مختار اور مضبوط ہوگا، ایس پی ایس سی نے گذشتہ 3 برس میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، پبلک سروس کمیشن کی کامیابیوں میں ادارہ جاتی، تکنیکی اور ضابطہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔
جولائی 2022ء سے دسمبر 2025ء تک ایس پی ایس سی نے 36 محکموں میں 21,504 بھرتیوں کی سفارشات کیں، شعبہ تعلیم میں 8666، صحت و سماجی بہبود میں 7357،بلدیات و تعمیرات میں 1696 کی سفارشات پیش کی گئیں۔
محکمہ قانون، آرڈر اینڈ گورننس میں 1965 سفارشات کی گئیں، زراعت، لائیواسٹاک و ماحولیات کے لیے 1137 سفارشات کی گئیں، خزانہ و معاشی امور میں 149 سفارشات کی گئیں، نوجوان، ثقافت و اطلاعات کے شعبے میں 72 اور مسابقتی و خصوصی کیڈرز میں 462 سفارشات منظور کیں۔
ایس پی ایس سی کے چیئرمین نے بتایا کہ سی سی ای 2023ء کے حتمی نتائج فروری 2026ء میں جاری کیے گئے، سی سی ای 2024ء کا تحریری امتحان دسمبر 2025ء میں لیا گیا، کمبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزی بیشن 2025ء کا اسکریننگ ٹیسٹ 28 مارچ 2026 کو لیا جائےگا۔
وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے ڈیجیٹل لائبریری کا معائنہ کیا اور ایس پی ایس سی کمپلیکس میں مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔